• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > بیلوں سے کھنچوا کر جنازہ پڑھوانے کاحکم

بیلوں سے کھنچوا کر جنازہ پڑھوانے کاحکم

Published by Admin2 on 2013/12/16 (855 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۳۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرگیابکر نے کہا زید نماز نہیں پڑھتا تھا اُس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے مگر اس شرط پر کہ اس کو کھنچوانا چاہئے ، پھر زید کو بیلوں سے پاؤں باندھ کر کھنچوایا ۔ یہ بات قرآن وحدیث سے درست ہے یا نہیں ؟ اور اگر نہیں توبکر پر کیا حکم ہے؟ فرمائیے کتاب اور حدیث رسول سے۔

الجواب

بکر گنہگار ہوا اور اُس نے مردے پر ظلم کیا۔ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا نے تو  میت کے کنگھی کرنے سے منع فرمایا کہ اُسے تکلیف ہوگی،فرمایا:علام تنصون میتکم۔ رواہ الامام محمد فی کتاب الاثارقال اخبرنا ابوحنیفۃ و رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ قال اخبرناسفیٰن عن الثوری کلاھما عن حماد بن ابی سلیمٰن عن ابراہیم النخعی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انہارأت امرأۃ یکدّون راسہا بمشط'ف۱'فقالت علامہ تنصون میتکم۱ ؎ ورواہ ابوعبیدالقاسم بن سلام، وابراہیم الحربی وکتابیھا فی غیریب الحدیث عن ابراہیم عن عائشۃ انھا سئلت عن المیّت بسرح راسہ فقالت علامہ تنصون میتکم  ۲؎۔کاہے  پر اپنے مُردے کے موئے پیشانی کھینچتے ہو۔اسے امام محمد نے کتاب الاثار میں روایت کیا --فرمایا ہمیں خبر دی امام ابو حنیفہ نے ، اوراسے عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا--کہا ہمیں خبر دیسفیان نے ، وُہ راوی ہیں سفیان ثوری سے--دونوں حضرات راوی ہیں حماد بن ابی سلیمان سے--وہ ابراہیم نخعی سے--وہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت کے سر میں کنگھا کر رہے ہیں تو فرمایا: کیوں اپنے مُردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو--اور اسے ابوعبید قاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے اپنی اپنی کتاب غریب الحدیث میں حضرت ابراہیم نخعی سے، انہوں نے حضرت صدیقہ سے روایت کی کہ ان  سے میّت کے سر  پر کنگھا کرنے سے متعلق  پوچھا تو فرمایا: کیوں اپنے مُردے کی موئے پیشانی کھینچتے ہو ۔ (ت)

 (۱؎ المصنف لعبدالرزاق   باب شعرالمیت واظفارہ    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت        ۳ /۴۳۷

کتاب الاثار    باب الجنائز وغسل المیت    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ص۴۶)

ف۱: کتاب الاثار اور مصنف عبدالرزاق دونوں کتابوں میں ''بمشط ''کا لفظ نہیں ہے بلکہ ''کتاب الاثار'' میں''رأت میتایسرح رأسہ''اور''مصنف'' میں''رأت امرأۃ یکدّون راسھا''ہے۔        (نذیر احمد)

 (۲؎ غریب الحدیث  )

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا:ان کسر عظم المسلم میتا ککسرہ حیا۳؎ رواہ الائمۃ مالک واحمد وسعید بن منصور وعبدالرزاق وابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔بیشک مردہ مسلمان کی ہڈی توڑنی ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنی ۔اسے امام مالک،امام احمد ، سعید بن منصور ، عبدالرزاق ، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بسندِ احسن ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے روایت کیا۔

سزا دینا توحاکمِ شرح کاکام ہے ہرکس وناکس کو اُس کا اختیار نہیں اور موت کے بعد تو سزا دینے کے کوئی معنی ہی نہیں، سزا درکنار موت کے بعد بُرا بھلا کہنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔

 (۳؎ سنن ابی داؤد        کتاب الجنائز     مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۱۰۲)

فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم :  لاتسبواالاموات فانھم قدافضواالی ماقدموا۴ ؎ ۔ رواہ احمدوالبخاری والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔مُردوں کو  بُرا مت کہو کہ وُہ اپنے کئے کو پہنچ چکے۔اسے امام احمد اور نسائی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے روایت کیا۔ (۴؎ سنن النسائی    کتاب الجنائز     المکتبہ السلـفیہ لاہور        ۱ /۲۲۲)

اور فرماتے ہیں صلی ا ﷲتعالٰی  علیہ وسلم :لاتذکر واھلکاکم الابخیر ان یکونوا من اھل الجنۃ تاثمون وان یکونوا من اھل النار فحسبھم ماھم فیہ ۱ ؎۔رواہ النسائی عنہا رضی اﷲ تعالٰی عنھا بسند جیّد۔اپنے مُردوں کو یاد نہ کرو مگر بھلائی کے ساتھ  کہ اگر وہ جنتی ہیں تو براکہنے سے تم گنہ گار ہوگے اوراگر دوزخی ہیں توانہیں وہ عذاب  ہی بہت جس میں وہ ہیں۔اسےنسائی نےحضرت صدیقہ رضی ا ﷲ تعالٰی  عنہا سےبسندِجیّد روایت کیا۔

 (۱؎ سنن النسائی        کتاب الجنائز         مطبوعہ مکتبہ سلـفیہ لاہور        ۱ /۲۲۲)

اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم :لاتسبواالاموات فتؤذوابہ الاحیاء ۲؎۔ رواہ احمد والترمذی عن المغیرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح ۔مُردوں کو بُرا نہ کہو اس کے باعث زندوں کو ایذا دو۔اسے امام احمد اورترمذی نے حضرت مغیرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے بسندِ صحیح روایت کیا۔

 (۲؎ مسند احمد بن حنبل        حدیث مغیرہ بن شعبہ      مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴ /۲۵۲)

اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم :اذامات صاحبکم فدعوہ ولاتقعوا فیہ۳؎۔ رواہ ابوداؤد عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا  ۔جب تمہارا ساتھی مرجائے تواسے معاف رکھو اور اس پر طعن نہ کرو۔ اسے ابوداؤد نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔

(۳؎ سنن ابوداؤد   باب فی النہی عن سب الموتٰی    مطبوعہ  آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۱۵)

عمرو بن حزم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ایک قبر سے تکیہ لگائے دیکھا ،فرمایا :لاتؤذ صاحب ھذا القبر۴؎۔رواہ الامام احمد۔مردے کو ایذا نہ دے ۔اسے امام احمد نے روایت کیا۔

 (۴؎ مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ احمد    باب دفن المیت    مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۴۹)

سبحان اﷲ! جب قبر  پر تکیہ لگانے سے مُردے کو ایذا ہوتی ہے توایسے ظلم شدید سے کس قدر ایذائے عظیم ہوگیولاحول ولاقوۃ الّاباﷲ العلی العظیم ۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔


Navigate through the articles
Previous article مرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟ بعد جنازہ فاتحہ و سورہ اخلاص کا ثبوت Next article
Rating 2.86/5
Rating: 2.9/5 (249 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu