• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > تارک صلوٰۃ کی نماز جنازہ کے احکام

تارک صلوٰۃ کی نماز جنازہ کے احکام

Published by Admin2 on 2013/12/16 (829 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر  ۳۵: ازاوجین     مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ    ۲۹رجب  ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اہلِ اسلام سے آخر عمر تکتارک صلٰوۃ والصیام ومشارب الخمر باللیل والایام ملحق دین نصارٰیرہا حتی کہ بہ تحقیق بدون توبہ ڈاک بنگلہ پر منتقل ہُوا، پھر ورثاء اس کے مکان پر لائے، معاذاﷲ اور بخوف عدم  شرکتِ دفن اہل اسلام کے ایک حجام اور خرادی اور کنجڑا پرورش یافتہ خود کو مصنوعی شاہد مقرر کرکے توبہ پر اس میت کی قائم کئے۔عیاذاً باﷲ۔تب جنازہ اُٹھا اور ہمراہ جنازہ کے عیسائی بھی تھے۔ تب بھی چند کس نے دیدہ وادانستہ نمازِ جنازہ پڑھی اوراسقاط لے کر قبر  پر قرآن پڑھا۔بعد دخول قبر عیسائیوں نے ٹوپی اتار کر سلامی لی، پس مسلمانوں کو بحکم شرع میت کے اسلام پر خدشہ صادقہ تھا اور یقین کامل ہوا، اور بحمیت اسلامی اُن سے رَوکش ہوئے کہ اوروں کو عبرت ہو، کیونکہ بعملداری ہنود اور تعزیر غیر ممکن، اس خیال سے اُن لوگوں سے مرتدین کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں جب تک توبہ نہ کریں اُن کے پیچھے نماز جماعت درست ہے یا ممنوع، اس کے ،حق میں اور اُن کے مشترک کے حق میں شرعاً کیا حکم ہے؟ مشرح بعبارت کتب بیان فرمائیں۔رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔

الجواب

ترک صوم صلٰوۃ وشربِ خمار گناہانِ کبیرہ ہیں جن کا مرتکب فاسق وفاجر اورعذابِ دوزخ کا مستحق ہے مگر حرام جان کر بشامتِ نفس کرے تو کافر نہیں۔پس اگر شخص مذکور نے مذہب نہ بدلا تھا صرف باغوائے شیطان دنیا پرستان خداناترس کی طرح ان امور کا مرتکب ہوتا اور عیسائیوں سے میل جول رکھتا تھا تو اس پر کفر کا فتوٰی  نہیں دیا جاسکتا، بلکہ جب وُہ کلمہ پڑھتا اوراپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا مسلمان ہی ٹھہرائیں گے اوراس تقدیر  پراس کے تجہیز وتکفین اورجنازہ کی نماز بیشک ضروری ولازم تھی، اگر بجانہ لاتے گنہگار رہتے۔عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم الصلٰوۃ واجبۃ علیکم کل مسلم براکان اوفاجراوان ھوعمل اکبائر۱ ؎۔(ملخصاً)نبی کریم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے مروی ہے: ہر مسلمان کی نمازِجنازہ تم پرفرض ہے نیک ہو یابد، اگرچہ اس نے گناہِ کبیرہ کئے ہوں۔اسے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا۔(ت)

 (۱؎ سنن ابی داؤد     باب الغزومع ائمۃ الجور        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۳۴۳

سنن الدارقطنی     باب صفتہ الصلٰوۃ مع الصلٰوۃ علیہ    نشرالسنۃ ملتان         ۲ /۵۶)

اور نصرانیوں کا معاذاﷲ جنازہ کےساتھ ہونا یابعد دفن ٹوپی اتار کر سلامی دینا اُن کا اپنا فعل تھا جس کے سبب مسلمان کو کافر نہیں ٹھہراسکتے۔ اور یہ بدگمانی کہ اگر یہ اُن کا ہم مذہب نہ ہوتا تو وُہ جنازہ میں کیوں شرکت کرتے، محض مردود ہے۔ ایسے اوہام  پر بنائے احکام نہیں، نہ کہ معاذاﷲ معاملہ کفر و اسلام جس میں انتہادرجہ کی احتیاط لازم، بلکہ اس کا عکس دُوسرا گمان قوی تر ہے کہ اگر وُہ اسے اپنا ہم مذہب جانتے، اپنی روش پر تجہیز وتکفین کرتے۔ مسلمانوں کو اس کا جنازہ کیو ں دیتے، غرض اس صورت میں نماز پڑھنے والوں نے فرضِ خدا اداکیا اُن پر اصلاًلازم نہیں۔ الزام اُن پر اُن سے معاملہ مرتدین کرنا چاہیں اور اگر بہ ثبوت ِ شرعی ثابت ہو کہ میّت عیاذاً باﷲ تبدیل مذہب کرکے عیسائی ہوچکا تھا تو بیشک اُس کے جنازہ کی نماز اور مسلمانوں کی طرح اس کی جہیز وتکفین سب حرام قطعی تھی۔

قال اﷲتعالٰیولاتصل علٰی احدمنھم مات ابداولاتقم علی قبرہ۲ ؎۔اﷲ تعالٰی  فرماتا ہے: ان میں سے جوبھی مرے نہ کبھی ان کی نمازِ جنازہ پڑھو اورنہ اس کی قبر پر کھڑے ہو (ت)

 (۲؎ القرآن       ۹ /۸۴)

مگر نماز پڑھنے والے اگر اس کی نصرانیت پر مطلع نہ تھے اور بربنائے علم سابق اسے مسلمان سمجھتے تھے نہ اس کی تجہیز وتکفین ونماز تک اُن کے نزدیک اس شخص کا نصرانی ہوجانا ثابت ہوا، توان افعال میں وہ اب بھی معذور وبے قصور ہیں کہ جب اُن کی دانست میں وہ مسلمان تھا اُن پر یہ افعال بجالانے بزعمِ خود شرعاً لازم تھے، ہاں اگر یہ بھی اس کی عیسائیت سے خبردار تھے پھر نماز وتجہیز وتکفین کے مرتکب ہوئے قطعاً سخت گنہ گار اور وبالِ کثیر میں گرفتار ہوئے، جب تک توبہ نہ کریں نماز ان کے پیچھے مکروہ،کما حکم ھوالفاسق المصرح بہ فی غیر ماکتاب المحرر المنقح فی الغنیۃ وغیرھا۔جیسا کہ یہ فاسق کا حکم ہے جس کی صراحت متعدد کتابوں میں موجود ہے اور جس کی توضیح وتنقیح غنیـہ وغیرہا میں ہوچکی ہے۔(ت)

مگر معاملہ مرتدین پھر بھی برتنا جائز نہیں کہ یہ لوگ بھی اس گناہ سے کافر نہ ہوں گے۔ ہماری شرع مطہر صراطِ مستقیم ہے، افراط وتفریط کسی بات میں پسند نہیں فرماتی، البتہ اگر ثابت ہوجائے کہ اُنہوں نے اُسے نصرانی جان کر نہ  صرف بوجہ حماقت وجہالت کسی غرض دُنیوی کی نیّت سے بلکہ خوداسے بوجہ نصرانیت مستحق تعظیم وقابل تجہیر وتکفین ونمازِ جنازہ تصور کیا تو بیشک جس جس کا ایسا خیال ہوگا وہ سب بھی کافر و مرتد ہیں اور ان سے وہی معاملہ برتنا واجب جو مرتدین سے برتا جائے  اور ان کی شرکت کسی اور طرح روا نہیں، اور شریک ومعاون سب گنہگار ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article مرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟ بعد جنازہ فاتحہ و سورہ اخلاص کا ثبوت Next article
Rating 2.85/5
Rating: 2.8/5 (213 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu