• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > کنویں میں استعمالی جوتا گر جائے تو کیا حکم ہے؟

کنویں میں استعمالی جوتا گر جائے تو کیا حکم ہے؟

Published by Admin2 on 2012/3/8 (1041 reads)

New Page 1

مسئلہ ۸۴: از چتور گڈھ اودےپور میواڑ مرسلہ مولوی قاضی اسمٰعیل محمد صاحب امام مسجد چھیپاں     ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں میں(جوکہ دہ در دہ نہیں ہے) ایک شخص کا مستعملہ جُوتا پڑ گیا گرے ہوئے جُوتے پر نجاست کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم نہیں مگر اُس شخص کا باقیماندہ دوسرا جُوتا اُسی وقت دیکھا گیا تو اس پر نجاست کا اثر نہیں تھا کتب موجودہ درمختار عٰلمگیریہ کبیری شرح منیۃ المصلی وغیرہا کتب فقہ میں دیکھا گیا تو بظاہر کوئی حکم صورتِ مسئولہ میں نہیں پایا گیا البتہ ایک عالم رکن الدین صاحب ساکن الور نے اپنے رسالہ رکنِ دین میں بلاحوالہ کتاب بایں عبارت کہ کنویں میں اگر جُوتی گرجائے تو سارا پانی نکالا جائے کیونکہ جوتی مستعملہ میں نجاست کا لگا رہنا یقینی ہے اور یہاں عام بلویٰ بھی نہیں کہ جس سے بچاؤ مشکل ہو چونکہ غایۃ الاوطار شرح درمختار میں ہے پس ان اقوال سے سخت حیرانی ہے کہ کون سا مسئلہ صحیح سمجھاجاوے آیا کنویں کا سارا پانی نکالا جائے یا پانی پاک سمجھا جائے امید کہ جواب اس کا مفصل بحوالہ کتب فقہ جلد تحریر فرمائیں کہ شرع شریف کے حکم پر عمل کیا جائے نمازیوں کو سخت تکلیف ہے۔ فقط

الجواب: جبکہ اس کی نجاست معلوم نہیں پانی ناپاک نہ ہوافان الیقین لایزول بالشک ۱؎ (شک کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ ت) تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے:

سئل الامام الخجندی رحمہ اللّٰہ تعالٰی عن رکیۃ وھی البئر وجد فیھا خف اونعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا ۲؎۔

امام خجندی رحمہ اللہ تعالٰی سے ایسے کنویں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کوئی ایسا موزہ یا چپل گرا ہوا پایا گیا جو گلی کُوچے میں پہن کر چلنے میں استعمال ہوا ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کنویں میں کب گرا، اور اس پر نجاست کا اثر نہ ہو، کیا پانی کے نجس ہونے کا حکم دیا جائےگا، آپ نے فرمایا: نہیں۔

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الاعیان النجاسۃ        پشاور        ۱/۴۷)

(۲؎ حدیقۃ ندیۃ الصنف الثانی من الصنفین من الطہارۃ        نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۶۷۴)

ہاں تسکین قلب کیلئے بیس۲۰ ڈول نکال لینا مستحب ہے جیسے بھینس یا بکری کہ کنویں میں گر کر زندہ نکل آئے اُس کی رانوں پر پیشاب کی چھینٹیں ہونا اس سے کم مظنون نہیں پھر بندھا ہوا جانور وہیں نجاست کرتا وہیں بیٹھتا ہے مگر جب نجاست معلوم نہ ہو یہ ظنون معتبر نہ ہوں گے اور صرف ۲۰ ڈول نکالنے ہوں گے وہ بھی تطییب قلب کیلئے ورنہ پانی پاک ہے۔ فتاوٰی قاضی خان وفتاوٰی عٰلمگیری میں ہے:لووقعت الشاۃ حیۃ ینزح عشرون دلوالتسکین القلب لالتطھیر حتی لولم ینزح ویتوضأ جاز ۱؎ ۔اگر زندہ بکری کنویں میں گری (اور زندہ نکال لی) تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں تاکہ اطمینانِ قلب ہوجائے، کنویں کو پاک  کرنے کی غرض نہیں حتی کہ اگر کوئی ڈول بھی نہ نکالا تو بھی وضو جائز ہے۔ (ت)

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل مایقع فی البئر    نولکشور لکھنؤ    ۱/۵)

باقی ظنون کا جواب اور ایسے تمام مسائل کی تحقیق فقیر کے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱2)؟ کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱4)؟ Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (263 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu