• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > عورت کے جنازہ کا سب سے پہلا حق کس کا ہے؟

عورت کے جنازہ کا سب سے پہلا حق کس کا ہے؟

Published by Admin2 on 2013/12/16 (1479 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر۴۰: از ملک بنگال ضلع سلہٹ ڈاکخانہ آدم پور ،گھوڑ مرا مرسلہ حافظ عبدالحمید صاحب امام مسجد    

    ۱۸جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھماقولکم رحمکم اﷲتعالٰی اندریں مسئلہ کہ خدیجہ بی بی زوجہ مولوی عبدالحکیم صاحب رحلت نمود درحق صلٰوۃ جنازہ ولی زن شوہرش باشد یا پدرش وبراداران وعمام اومگر پدر وغیرہ اقارب مذکورین جاہلان بے علم اندبخلاف شوہر، نیز از جانب شوہر عم او حافظ عبدالحی امام الحی موجود ست پس ولایتِ نماز دو رصورت مذکورہ ازیناں کراست مخفی مبادکہ ازدو۲ سال علمائے سلہٹ دریں مسئلہ باہم اختلافہا دارند۔ اُمید کہ رفع شک فرمایند۔بینواتوجرواآپ رحمکم اﷲ تعالٰی  کا اس مسئلہ میں کیا قول ہے کہ خدیجہ بی بی زوجہ عبدالحکیم صاحب کا انتقال ہوا، نماز جنازہ کے حق میں عورت کا ولی اس کا شوہر ہوگا یاباپ ،بھائی ،چچا؟ مگر باپ وغیرہ اقارب مذکورین جاہل بے علم ہیں، جب کہ شوہر صاحب علم ہے اور شوہر کی جانب سے اس کے چچا حافظ عبدالحمید امامِ محلہ بھی موجود ہیـں، توصورت مذکورہ میں نماز کی ولایت ان میں سے کس کے لئے ہے۔ واضح ہو کہ دو۲ سال سے سلہٹ کے علماء اس مسئلہ میں باہم اختلاف رکھتے ہیں۔امید ہے کہ شک دور فرمائیں گے۔بیان فرمائیں اجر پائیں۔

الجواب

درولایتِ نمازِ جنازہ شوہر از ہمہ اقارب موخرست ایں ولایت ہمچو ولایت نکاح بترتیب عصوبت و قرابت اقرب فالاقرب رارسد اگر زیناں ہیچکس نباشد شوہر مقدم بود۔نمازِ جنازہ کی ولایت شوہر تمام اقارب کے بعد ہے ۔یہ ولایت ،ولایتِ نکاح کی طرح عصبہ ہونے اور قریبی ہونے کی ترتیب پر قریب تر پھر قریب تر کے لئے ہوتی ہے--اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تواُس وقت شوہر مقدّم ہوگا۔

وجہل آناں مانع حق آناں نیست، ایشاں را رواست کہ ہر کراخواہند بامامت امر کنند۔مامور ایشاں ہمچوایشاں مقدم برزوج بود کہ متاخر را اگرچہ خود عصبہ باشد بامامور متقدم حقِ منازعت نیست گو اجنبی باش۔اور ان کا جہل ان کے حق سے مانع نہیں، ان کے لئے روا ہے کہ جسے چاہیں امامت کا حکم دے دیں، ان کامامور بھی ان ہی طرح شوہر پر مقدم ہوگا کہ متاخر کو--اگر چہ عصبہ ہو-- مامور کے ساتھ نزاع کا حق نہیں گو وُہ اجنبی ہو۔

وآں کہ امام الحی را استحباباً تقدیم دادہ اند بحکم تعلیل ونظر برمانِ خاص درجنازہ مردان ست۔زنان رابامسجد وامام چہ کا ر کہ ایشاں نہ حاضر جماعت می شوند نہ شرعاً اجاتش دادندپس درصورت مستفسرہ ولایتِ نماز پدرِ خدیجہ رابود۔اور امامِ محلہ کو جو تقدیم دی گئی ہے اس کی علت اور زمانہ حال پر نظر کرتے ہوئے--وہ مردوں کے جنازے سے خاص ہے۔عورتوں جو مسجد اور امام سے کیاکام کہ یہ حاضر  جماعت ہوتی ہیں نہ ان کو شرعاً اس کی اجازت ہی ہے--تو صورت مسئولہ میں نمازکی ولایت خدیجہ کے والدکو ہوگی۔

آرے اگر خدیجہ از مولوی عبدالحکیم پسرے عاقل بالغ داشتے حقِ تقدم مراورا بودے کہ پسر بر پدر در عصوبت مرجح است وآں  پسر را شرع فرمود کہ پدرِ خود مولوی عبدالحکیم راتقدیم دہ وبپاسِ ادب پیش او پامنہ بایں صورت مولوی عبدالحکیم راتقدم بودے۔ہاں اگرخدیجہ کا مولوی عبدالحکیم سے کوئی عاقل بالغ لڑکا ہوتا تواسے حق تقدّم ہوتا کیونکہ عصبہ ہونے میں بیٹے کو باپ پر ترجیح حاصل ہے--اور اس لڑکے کو شریعت حکم دیتی ہے کہ اپنے باپ مولوی عبدالحکیم کو آگے کر، اورادب کا لحاظ کرکے اس کے آگے قدم نہ رکھ۔ اس طرح مولوی عبدالحکیم کو تقدم ہو جاتا۔

فی الدرالمختار یقدم فی الصلٰوۃ علیہ السلطان ان حضر اونائبہ وھوامیرالمصر(ثم القاضی)ثم صاحب الشرط ثم خلیفۃ ثم خلیفۃ القاضی (ثم امام الحی)فیہ ایھام وذلک ان تقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولٰی(ثم الولی) بترتیب عصوبۃ الانکاح الا الاب فیقدم علی الابن اتفاقا الاان یکون عالماوالاب جاھلافالابن اولٰی فان لم یکن لہ ولی فالزوج ثم الجیران ولہ ای للولی ومثلہ کل من یقدم علیہ (الاذن لغیرہ فیھا)لانہ حقہ فیملک ابطالہ (الا) انہ (ان کان ھناک من یساویہ فلہ) ای لذلک المساوی ولواصغرسنا (المنع) لمشارکتہ فی الحق اماالبعیدفلیس لہ المنع۱؂ اھ باختصار۔درمختار میں ہے : نماز جنازہ پڑھانے میں مقدم سلطانِ اسلام ہے اگر وہ موجود  ہو یا اس کا نائب، یہ شہر کا حاکمِ اسلام ہے۔ پھر قاضی ،پھر کوتوال، پھر اس کا خلیفہ پھر قاضی کا خلیفہ، پھر امام محلہ۔ اس میں برابری کا ایہام ہے اور حکم یہ ہے کہ حکّام کی تقدیم واجب ہے اور امام محلہ کی تقدیم صرف مندوب ہے بشرطیکہ ولی سے افضل ہو، ورنہ ولی بہتر ہے۔ پھر ولی ۔نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی جوترتیب ہے وہی یہاں بھی ہوگی مگر باپ کہ وہ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے لیکن اگر بیٹا عالم اور باپ جاہل تو بیٹااولٰی  ہے۔ اگر کوئی نہ ہو تو شوہر پھر ہمسائے۔ ولی کوا ور اسی کی طرح ہر اُس شخص کو جسے دوسروں پر تقدم ہے یہ حق حاصل ہے کہ کسی اور کو اذن دے دے کیونکہ یہ اس کا حق ہے تو اسے باطل کرنے کا اختیار ہوگا۔لیکن وہاں اگر کوئی اس کے مساوی ہو تو اسے اگر چہ وُہ عمر میں چھوٹا ہی ہو۔ دوسرے کو روکنے کا حق حاصل ہے کیونکہ حق میں وہ اس کا شریک ہے ہاں بعید کو روکنے کا اختیار نہیں اھ باختصار۔

 (۱؎ درمختار      باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۲)

وفی ردالمحتار قولہ(ثم امام الحی) وانما کان اولی لان المیت رضی بالصّلٰوۃ خلفہ فیہ حال حیاتہ فینبغی ان یصلی علیہ بعد وفاتہ قال فی شرح المنیۃ فعلی ھذالوعلم انہ کان غیر راض بہ حال حیاتہ ینبغی ان لایستحب تقدیمہ اھ قلت ھذامسلم ان کان عدم رضاہ بہ لوجہ صحیح والافلا تامل۱؎۱ ھ مافی ردالمحتار ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ۔ردالمحتار میں ہے: امامِ محلہ اس لئے اولٰی  ہے کہ مرنے والا اپنی زندگی میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے پر راضی تھا تو بعد وفات بھی اسی کو پڑھانا چاہئے--شرح منیہ میں ہے: اس تعلیل کے پیش نظر اگر وُہ زندگی میں اس سے راضی نہ تھا

تواس کی تقدیم مستحب نہ ہونی چاہئے اھ--میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں مسلّم ہے جب اُس کی ناراضی کی صحیح وجہ تحت ہوورنہ نہیں--تامل کرو--ردمحتار کی عبارت ختم ہوئی--میں نے دیکھا اوراسکے حاشیہ پر میں نے یہ لکھاہے :

 (۱؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۱ /۶۴۹)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article مرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟ بعد جنازہ فاتحہ و سورہ اخلاص کا ثبوت Next article
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (242 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu