• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > پانچ نمازی ہو تو صف کیسے بنائيں؟

پانچ نمازی ہو تو صف کیسے بنائيں؟

Published by Admin2 on 2013/12/16 (1705 reads)
Page:
(1) 2 3 4 5 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۶۱:  ازخیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میانسرائے مدرسہ عربیہ قدیم    مرسلہ مولوی سید فخرالحسن صاحب رضوی ۱۹  ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جنازہ میں جب ایک امام اور پانچ مقتدی ہوں تو بنظر حصولِ نعمتِ بشارت مغفرت تین صفوف اس طرح کرلی جائیں کہ صف اوّل ودوم میں دو دو نفر اورصف سوم میں ایک نفر ہو۔ کیونکہ عباراتِ فقہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازِجنازہ میں ایک شخص کی صف کراہت سے مستثنٰی  ہے جیسا کہ صاحب ردالمحتار بحوالہ کتاب محیط تحریر فرماتے ہیں۔قال فی المحیط، ویستحب ان یصف ثلاثۃ صفوف حتی لوکانو اسبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف وراء ثلاثۃ ثم اثنان ثم واحد اھ فلو کان الصف الاول افضل فی الجنازۃ ایضالکان الافضل جعلھم صفاواحداولکرہ قیام الواحد وحدہ کماکرہ ۱؎ اھ۔محیط میں تحریر کیا گیا کہ مستحب ہے کہ تین صفیں ہوں یہاں ک کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایک امام ہوجائے تین اس کے پیچھے کھڑے ہوں پھر دوپھرایک۔ تو اگر جنازہ میں پہلی صف افضل ہوئی توان سب کو ایک صف میں کر دینا بہتر ہوتا ہے اور تنہا ایک کا کھڑاہونا مکروہ ہوتا جیسے غیر نمازِ جنازہ میں مکروہ ہے اھ۔

 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ دارالطباعۃ المصریۃ مصر      ۱ /۵۸۶)

اسی طرح عالمگیریہ میں ہے بحوالہ کتاب تاتارخانیہ اورقنیہ میں بحوالہ کتاب جامع التفاریق للبقالی وعین الہدایہ میں اور رسالہ تجہیز وتکفین میں یہی ترتیب درج ہے اس اتفاق عبارات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طریقہ پسندیدہ فقہائے کرام یہی ترتیب مذکور ہے۔فقط

الجواب

جس حدیث میں یہ بشارت ہے اُس میں تین صفوف مروی ہیں پس جہاں تک ہر ایک صف میں کم از کم دوتین آدمی ہوسکیں ایساکرنا عمدہ ہے کیونکہ ایک شخص کو صف نہیں کہتے ہیں۔ ورنہ پھر تین مقتدی ہوں تو تین صف کرنی چاہئے ۔ حالانکہ یہ شاید کسی فقیہ کو پسندیدہ نہ ہو۔ اس حدیث کہ شرح میںمراقاۃ ملّا علی قاری میں یہ عبارت منقول ہے :وفی جعلہ صفوفااشارۃ الی کراہۃ الانفراد ۲؎۔اور اس کے چند صف بنانے میں اکیلے ہونے کی کراہت کی جانب اشارہ ہے۔(ت)

 (۲؎ مراقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب المشی الجنازۃ الخ     مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان          ۴/ ۶۴)

اس کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ اکیلا نہ ہو تو یہ اشارہ ہے۔محیط کی روایت الانفرادکے غیر صحیح ہونے پر، بہر حال پانچ مقتدیوں میں اس تکلف کی حاجت نہیں ہے۔ اورقاعدہئ کلیہ ہے کہ کراہت سے بچنا استحباب کے حاصل کرنے کا مقدم ہے اور روایات نہی عن انفراد سے استثنائے صلٰوۃ جنازہ موجہ نہیں معلوم ہوتاہے، نیز مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:واقل الصف ان یکون اثنین علی الاصح۱ ؎۔  اصح یہ ہے کہ صف کم سے کم دو کی ہو۔(ت)

(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب المشی بالجنازہ الخ        مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان         ۴ /۶۵)

پس کراہت انفراد اس عبارت سے خوب ظاہر ہوگئی۔ یہ تفریع تفریعاتِ مشائخ سے معلوم ہوتی ہے۔ ائمہ ثلاثہ سے منقول نہیں۔حضرت مولانا محمود حسن صاحب نے اس میں یہ فرمایا کہ ایک شخص کی صف نہیں ورنہ تین کی تین صف کرنی چاہئے۔ وھو بعید۔کتبہ عزیز الرحمان

اب کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین گزارش ذیل میں کہ کتابِ فقہ سے دو امر بالہدایۃ ماخوذ ہوتے ہیں۔صلاۃ جنازہ میں شخص واحد کی صف کا کراہت سے مستثنٰی  ہونا ونیز شخص واحد کو علی الاصح بہ تبعیت دیگر صفوف صف سے تعبیر کیا جانا، اولٰی  ہونا زیادتی صف اول کی بمقابلہ صف دوم اور صف دوم بمقابلہ صف سوم کی، حتی کہ واسطے زیادتی صف اوّل کے سات نمازی ہونے کی حالت میں صف اولٰی  میں تین اشخاص کا کھڑا کیا جانااور صف ِ سوم میں صرف ایک شخص کا رہنا پسند کیاگیا، حالانکہ ممکن تھا کہ ہر صف میں دو دو نفر کھڑے کئے جاتے۔یہ پتا کسی کتاب سے نہیں چلتا ہے فقہائے کرام نے اس ترتیب پسندیدہئ خود کااستخراج کس حدیث یا نص سے کیا اور حضرت ملّا علی قاری نے کس بنا پر ان کی مخالفت پسند کی کہ شخص واحد کے صف کے وجود ہی سے انکار فرمادیا۔

جس سے ترتیب پسندیدہ فقہاءِ کرام بالکلیہ غلط وعبث ہوئی جاتی ہے۔ پس ہدایت خواہ ہوں کہ اس اختلاف ترتیب صفوف ثلاثہ کے متعلق جو کچھ تحقیق وتنقیح موافق ملتِ احناف رحمہم اﷲ ہوبحوالہ کتب بخوبی صراحت سے تحریر فرماکر عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور ہوں، نیز یہ بھی ہدایت فرمائی جائے کہ بحالت نفر اورصفِ سوم میں شخصِ واحد کا کھڑا ہو یا جملہ مقتدیوں کی ایک ہی جماعت کی جائے کہ صفوفِ ثلاثہ کی ترتیب کم از کم سات اشخاص کا ہونا سب کتب میں مرقوم ہے، اس سے کم کی نسبت کچھ ذکر نہیں ہے حالانکہ ترتیب چھ اشخاص کی بھی ممکن ہے۔

الجواب

سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے استاد امامِ اجل عطاء بن ابی رباح تابعی جلیل تلمیذ ام المومنین صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ وابوہریرہ و ابوسعید خدری و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہم اجمعین روایت فرماتے ہیں :ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی جنازۃ فکانواسبعۃ فجعل الصف الاول ثلثۃ والثانی اثنین والثالث واحدا ۔نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی، صرف سات آدمی تھے، حضورا قدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے پہلی صف تین آدمیوں کی کی ، دوسری صف دو کی اور تیسری صف ایک شخص کی۔

امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :فی القنیۃ ثم ان کان القوم سبعۃ فاتموھا ثلثۃ صفوف یقدم احدھم وخلفہ ثلثہ وخلفہم اثنان وخلفہا واحد انتہی قلت ویشھدلہ ان عطاء بن ابی رباح روی ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہ وصحبہ وسلم صلی علی جنازۃ فکانو سبعۃ (وساق الحدیث وقال) ولو لاھذاالحدیث لقنا بکراھۃ جعل الواحد صفالامرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم للمنتبذ وراء الصف فی الصلٰوۃ المطلۃ باعادتھاکما تقدم فی موضعہ، اللھم الاان یقال ان ذلک ایضااذالم یکن فیہ تحصیل مصلحۃ مقصودۃمن وھی السعے فی حصول المغفرۃ للمیت کمااخبرہ الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱ ؎۔

قنیہ میں ہے:اگر سات آدمی ہوں توپوری تین صف بنائیں، ایک آگے ہو، تین اس کے پیچھے، دو ان کے پیچھے ایک ان کے پیچھے(عبارت قنیہ ختم)میں کہتا ہوں اس کا ثبوت اس حدیث سے ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وآلہٖ وصبحہٖ وسلم نے ایک جنازہ پر نمازپڑھی صرف سات آدمی تھے(آگے حدیث ذکر کی،پھر کہا) اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ایک شخص کی صف بنانے کو ہم مکروہ کہتے۔ کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم نے صلاۃ مطلقہ میں صف کے پیچھے الگ تھلگ کھڑے ہونے والے کو نماز لوٹانے کا حکم فرمایا جیسا کہ یہ اپنے موقع پر بیان ہوچکا ہے --مگر یہ کہا جائے کہ وہ بھی اُس وقت ہے جب اس میں نماز کی مصلحت مقصودہ کہ بجاآواری نہ ہو،، اوریہاں نماز کی ایک مصلحت مقصودہ موجود ہے وہ ہے میت کے لئے۱حصولِ مغفرت کی کوشش، جیسا کہ شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔(ت)

(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

Page:
(1) 2 3 4 5 »

Navigate through the articles
Previous article مرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟ بعد جنازہ فاتحہ و سورہ اخلاص کا ثبوت Next article
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (228 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu