• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > بعد نماز جنازہ صفیں توڑ کر مخصوص دعا پڑھنا کیسا؟

بعد نماز جنازہ صفیں توڑ کر مخصوص دعا پڑھنا کیسا؟

Published by Admin2 on 2013/12/16 (1655 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر۶۳: ازبمبئی جاملی محلہ مکان حاجی محمد صدیق جعفر مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب ۳ جمادی الاولٰی  ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بعد نمازِ جنازہ کے صفوف توڑ کر  یہ دُعااللھم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہیامثل اس کے کی جاتی ہے جیسا کہ بمبئی اور اس کے اطراف مانند مالا گاؤں وغیرہ بلاد میں قدیم الایام سے متعارف ومتعامل درست ہے یا نہیں؟ اور برتقدیر جواز بعض اشخاص جواس کو حرام و ممنوع کہتے ہیں ان کا قول صحیح ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا

الجواب

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم، الحمدﷲ مجیب الدعوات وافضل الصلٰوۃ واکمل التحیات علی معاذالاحیاء ومعادالاموات خالص الخیر ومحض البرکات فی الحٰی وۃ الاولی والحٰی وۃ العینی بعد الممات وعلٰی اٰلہ وصحبہ کریمی الصفات مابعد ماض وقرب اٰت اٰمین۔اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔اوربہتر دروداورکامل تر تحیتیں ان پر جو زندوں کی پناہگاہ، مردوں کا مرجع، خالص خیراورمحض برکات ہیں، دنیا کی زندگی میں بھی، اور بعد موت کی بالاتر زندگی میں بھی، اور ان کی آل واصحاب پربھی، جوبزرگ صفات والے ہیں، جب تک کہ گزرا ہوا دوراورآنے والا قریب ہوتا رہے۔الٰہی قبول فرما!(ت)

اموات مسلمین کے لئے دُعاقطعاً محبوب وشرعاً مندوب جس کی ندب وترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلاتوقیت و تخصیص، ناطق تو بلاشبہہ ہر وقت اُس پر حکم جواز صادق، جب تک کسی خاص وقت ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو مطلق شرعی کواز پیش خویش موقّت اور مرسل کو مقید کرنا، تشریع من عند النفس ہے اور نماز ہر چند اعظم واجل طرق ہے مگر اُس پر اقتصار کا حکم نہ اُس کے اغناد پرجزم، بلکہ شرع مبارک وقتاً فوقتاً بکثرت اور باربار تعرض نفخاتِ رحمت کا حکم فرماتی ہے کیا معلوم کس وقت کی دعا قبول ہوجائے۔ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا:لیکثرمن الدعا۱؎اخرجہ الترمذی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ وقال صحیح واقروہ،دعا کی کثرت کرے۔ اسے ترمذی وحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا اورحاکم نے کہا صحیح ہے، اور علماء نے اسے برقرار رکھا۔(ت)

 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الدعوات    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲/۱۷۴)

مستدرک حاکم و صحیح ابن حبان میں انس رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے ہے حضور اقدس صلوات اﷲ تعالٰی  وسلامہ علیہ وآلہٖ فرماتے ہیں:لاتعجز وافی الدعاء فانہ لن یھلک مع الدعاء احد۱؎۔دُعا میں کسل وکمی نہ کرو کہ دعا کے ساتھ کوئی ہلاک نہ ہوگا

 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین   کتاب الدعاء     مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱ /۴۹۴)

قال فی الحرز المعنی لاتقصرواولاتکسلوافی تحصیل الدعاء۲؎۔حرزِثمین میں ہے معنٰی  یہ ہے کہ دُعاء کی بجاآوری میں کوتاہی و سستی نہ کرو۔(ت)

 (۲؎ حرزثمین شرح حصن حصین    حدیث مذکور کے تحت   افضل المطابع لکھنؤ        ص۱۱)

مسند ابویعلٰی  میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے مروی،رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:تدعون اﷲتعالٰی فی لیلکم ونھارکم فان الدعاء سلاح المؤمنین۳؎۔رات دن اﷲ تعالٰی  سے دُعا مانگتے رہو کہ دعا مسلمان کا ہتھیار ہے۔

 (۳؎ مسند ابویعلٰی     حدیث ۱۸۰۶  الدعوات الخ    مطبوعہ موسستہ علوم القرآن بیروت    ۲ /۳۲۹)

طبرانی کتاب الدعاء ، ابن عدی کامل، امام ترمذی، نوادر  و بیہقی شعب الایمان میں بعد ابو الشیخ و قضاعی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے روایت کرتے ہیں،حضور سرورِ عالم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان اﷲیحب الملحین فی الدعاء۴؎۔بیشک اﷲتعالٰی  بکثرت وباربار دعا کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

 (۴؎ نوادرالاصول   الاصل الثمانون والمائۃ فی الالاحاء والدعاء    مطبوعہ دارصادر بیروت        ص۲۲۰)

طبرانی معجم کبیر میں محمد بن مسلمہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے راوی حضور پُرنور سیّدالمرسلین صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات فتعرضوا لھالعل ان یصبکم نفحۃ منھا فلا تشقون بعدھا ابدا۵؎۔یعنی تمہارے رب کے لئے زمانے کے دنوں میں کچھ عطائیں، رحمتیں، تجلّیاں ہیں توان کی تلاش رکھو (یعنی کھڑے بیٹھے لیٹے ہروقت دُعا مانگتے رہو، تمہیں کیا معلوم کس وقت رحمتِ الٰہی کے خزانے کھولے جائیں) شاید ان میں کوئی تجلی تمہیں بھی پہنچ جائے کہ پھر بد بختی نہ آئے۔

 (۵؎ المعجم الکبیر     مروی ازمحمد بن مسلمہ حدیث ۵۱۹   مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت          ۱۹ /۲۳۴)

قال العلامۃ المناوی فی التیسیر تعرضو الھا بتطھیر القلب وتزکیۃ من الاکدار والاخلاق الذمیمۃ والطلب منہ تعالٰی فی کل وقت قیاما وقعودا و علالجنب و وقت التصرف فی الشتغال الدنیا فان العبد لایدری فی ای وقت یکون فتح خزائن المنن۱؎۔علامہ منادی نے تیسیر میں فرمایا: تو انہیں تلاش کرو اس طرح کہ دلوں کو کدورتوں اور بُرے اخلاق سے پاک وصاف کرلو، اور باری تعالٰی  سے کھڑے، بیٹھے، لیٹے، دیناوی کام کرتے، ہروقت مانگتے رہو، اس لئے کہ بندے کو کچھ پتا نہیں کہ کس وقت رحمت کے خزانے کُھل جائیں۔(ت)

(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر  حدیث ان لربکم کے تحت مذکور ہے  مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ۱/۳۳۹)

سراج المنیر میں اس کے مثل ذکر کرکے فرمایا :قال الشیخ حدیث حسن۲؎ (شیخ فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ت)

(۲؎ السراج المنیر شرح الجامع الصغیر    حدیث مذکورہ کے تحت    مطبوعہ مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر   ۲/ ۱۱)

جب دعا کی نسبت صاف حکم ہے کہ اس میں کسل نہ کرو، بکثرت مانگو، رات دن مانگو، ہرحال مانگو۔ تو ایک بار کی دُعا پر اقتصار کیونکر مطلوبِ شرع ہوسکتا ہے۔لاجرم حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے قبل نماز وبعد نماز دونوں وقت میت کے لئے دعا فرمانا اور مسلمانوں کو دعا کا حکم دینا ثابت۔مسلم عن ام سلمۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذاحضرتم المریض اوالمیت فقولوا خیرافان الملٰئکۃ یؤمنون علی ماتقولون۳؎امام مسلم حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا سے راوی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیمار  یا میّت کے پاس آؤ تو اچھی بات بولو، اس لئے کہ ملائکہ تمہاری باتوں پر آمین کہتے ہیں--

 (۳؎ صحیح مسلم      کتاب الجنائز       مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۳۰۰)

وھوعنھارضی اﷲتعالٰی عنھاقالت دخل رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ابی سلمۃ وقدشق بصرہ فاغمضہ (الی ان قالت) ثم قال اللھم اغفر لابی سلمۃ وارفع درجتہ فی المھدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین واغفرلنا ولہ یارب العٰلمین وافسح فی قبرہ ونور لہ ۱؎فیہ،وہی امام، انہی ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا سے راوی ہیں فرماتی ہیں:رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم ابوسلمہ کی وفات پر تشریف لائے تو ابھی ان کی آنکھ کھُلی ہوئی تھی سرکار نے بند کی(یہاں تک فرمایا) پھر سرکار نے دعاکی:اے اﷲ! ابو سلمہ کو بخش دے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور پسماندان میں اس کا نیک بدل عطا فرما، اور ہمیں اور اسے اپنی رحمت سے چھپا، اس کی قبر کشادہ فرمادے اور اس کے لیے اس میں روشنی ونور پیدا فرما—

 (۱؎ صحیح مسلم   کتاب الجنائز        مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/۱۔۳۰۰)

ابوداؤد والحاکم وصححہ عن امیرالمومنین عثمان رضی اﷲتعالٰی عنہ قال کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیّت وقف علیہ وقال استغفر وا لاخیکم وسلوالہ التثبیت انہ الاٰن یسأل ۲؎۔ابوداؤد و حاکم امیر المومنین حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے راوی حاکم نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا --وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اﷲتعالٰی  علیکہ وسلم جب میّت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے، اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو اور اس وقت اس سے سوال ہونے والا ہے --

 (۲؎ سنن ابی داؤد     کتاب الجنائز          مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور   ۲ /۱۰۳)

 (مستدرک علی الصحیحین    کتاب الجنائز        مطبوعہ دارصادر بیروت            ۱ /۳۷۰)

احمد عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نعی النجاشی لاصحابہ ثم قال استغفروالہ ثم خرج باصحابہ الی المصلی ثم قام فصلی بھم کما یصلی علی الجنازۃ۳؎امام احمد ،حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے راوی ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نجاشی کے مرنے کی اطلاع دی پھر فرمایا: اس کے لئے دعائے مغفرت کرو۔پھر صحابہ کو لےکر نماز گاہ تشریف لے گئے پھر انہیں نماز پڑھائی جیسے جنازہ کی نماز پڑھی جاتی ہے--

 (۳؎ ،سند احمد بن حنبل    مروی ازابوہریرہ       مطبوعہ  دارالفکر بیروت            ۲ /۵۲۹)

ابن ماجۃ والبیھقی فی سننہ عن سعید بن المسیب قال حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہا فی جنازۃ فلما وضعھا فی اللحد قال بسم اﷲ وفی سبیل اﷲ وعلٰی ملّۃ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم، فلما اخذفی تسویۃاللبن علی اللحد، قال اللھم اجرھم من الشیطان ومن عذاب القبر، اللھم جاف الارض عن جنبیھا وصعدروحہا ولقہامنک رضوانا قلت یاابن عمراشیئ سمعتہ من رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ام قلتہ برأیک، قال انی اذاً لقادر علی القول بل شیئ سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۱ ۱؎ھذہ روایۃ ابن ماجۃ وفی اخری فلما اخذفی تسویۃ اللحد قال اللھم اجرھا من الشیطان ومن عذاب القبر فلما سوی اللبن علیھا قام جانب القبر ثم قال اللھم جاف الارض من جنبیھاوصعدروحھا وتلقھا رضوانا ثم قال سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۲؎۔

ابن ماجہ اوربیہقی سنن میں حضرت سعید بن مسیب سے راوی ہیں۔وُہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی  عنہ کے ساتھ ایک جنازہ میں حاضر تھا جب انہوں نے جنازہ کو لحد میں رکھا تو کہا: اﷲ کے نام سے، اﷲکی راہ میں، اور اﷲ کے رسول صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کے دین پر--پھر جب لحد پر کچی اینٹیں درست کرنے لگے تو کہا: اے اﷲ! اسے شیطان سے اور عذابِ قبر سے پناہ میں رکھ، اے اﷲ! اس کی کروٹوں سے زمین جدا رکھ، اس کی روح کو اوپر پہنچا، اوراسے اپنی خوشنودی عطافرما--میں نے عرض کیا:اے ابن عمر ! یہ کوئی ایسی دُعا ہے جو آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے سُنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے؟-- فرمایا: ایسا ہے تو وُہ دُعاکرسکتاہوں جو میں نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے سنی ہے۔ یہ ابن ماجہ کی روایت ہے --اور دوسری روایت میں یُوں ہے کہ جب لحد برابر کرنے لگے توکہا: اے اﷲ!اسے شیطان سے اور عذاب قبر سے پناہ میں رکھ۔ پھر جب اس پر اینٹیں برابر کردیں تو قبر کے کنارے کھڑے ہوکر یہ دعا کی: اے اللہ اس کی کروٹوں سے زمین کوجدارکھ، اس کی روح کواُوپر  پہنچا اوراسے اپنی خوشنودی عطافرما--پھر فرمایا: میں نے اسے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے سُناہے۔(ت)

 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب ماجاء فی ادخال المیت القبر     مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی        ص۱۱۲)

(۲؎ السنن الکبرٰی     کتاب الجنائز             مطبوعہ دارصادر بیروت        ۴ /۵۵)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article مرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟ بعد جنازہ فاتحہ و سورہ اخلاص کا ثبوت Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (219 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu