• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > میت کا منہ قبلہ کی طرف کرنے سے کیا مراد ہے؟

میت کا منہ قبلہ کی طرف کرنے سے کیا مراد ہے؟

Published by Admin2 on 2014/5/29 (810 reads)

New Page 1

مسئلہ ۹۱: از اپربر ہما ضلع کتھا پوسٹ لین مسئولہ امیر خان دکاندار ۹شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کتب فقہیہ میں لکھتے ہیں کہ میّت کا منہ قبلہ کی طرف کیا جائے، اس سے کیا مراد ہے، اس میں پانچ صورتیں ہیں:پہلی صورت تویہ ہے کہ میّت کو صندوقی قبر میں اس طرح سے داہنی کروٹ پر لٹائیں کہ تمام بدن کا بوجھ داہنی کروٹ پر اور داہنی کروٹ کا تمام بوجھ داہنے بازو پر گرے اور میّت کی پیشانی، ناک، گھٹنا صندوق کی داہنی طرف کی دیوار سے لگا کر پشت کی طرف پتھر اور ڈھیلے رکھ دئے جائیں۔ او ردوسری صورت یہ ہے کہ میّت کے بائیں پہلوکو اٹھا کر اس کے نیچے ڈھیلے دے کر میّت کو بائیں پہلو بل رکھیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ میّت کو چِت لٹایا جائے اور فقط منہ ہی قبلہ کی طرف پھیر دی جائے۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ قبر کھودتے وقت قبر کی داہنی طرف تھوڑا نیچا اور بائیں طرف تھوڑا اونچا کر کے کھودی جائے۔ لاش رکھنے کے بعد داہنے پہلو پر ہو کر قبلہ رُخ ہوجاتی ہے۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ میّت کا پاؤں قبلہ کی طرف او رمنہ پورب کی طرف کیاجائے جیسا کہ حالتِ نزع میں ہے۔ کتبِ فقہ میں ان صورتوں میں کون صورت مراد ہے اور اگر سب جائز ہیں تو اعلٰی و افضل کون ہے؟ بینوا توجروا

الجواب

پانچویں صُورت محض ناجائز ہے کہ سنت متواترہ مسلمین کے محض خلاف ہے اور افضل طریقہ یہ ہے کہ میّت کو دہنی کروٹ پر لٹائیں۔ اس کے پیچھے نرم مٹی یا ریتے کا تکیہ سابنادیں اور ہاتھ کروٹ سے الگ رکھیں، بدن کا بوجھ ہاتھ پر نہ ہو  اس سے میّت کو ایذا ہوگی۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان المیّت یتاذی ممایتاذی بہ الحی ۱؎ ۔بے شک مُردے کو اس سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندے کو ایذا ہوتی ہے ۔(ت)

(۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجاء        ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱/ ۲۲۹)

اور اینٹ پتھر کا تکیہ نہ چاہئے کہ بدن میں چبھیں گے اور ایذا ہوگی ا ورناک وغیرہ اعضاء دیوار قبر سے ملادینے کی اجازت نہیں، نہ اس کی کوئی وجہ۔ اور جہاں اس میں وقت ہوتو چِت لٹا کر منہ قبلہ کو کردیں، اب اکثر یہی معمول ہے او راگر معاذاﷲ معاذاﷲ منہ غیر قبلہ کی طرف رہا اور ایسا سخت ہو گیا کہ پھر نہیں سکتا تو چھوڑدیں اورزیادہ تکلیف نہ دیں۔ چھوتی صورت بھی بالکل خلافِ سنت ہے اور اس میں بھی میّت کے لیے اذیت ہے کہ بیٹھنے میں دقت ہوگی۔ ملائکہ کہ سوال کے لئے آتے ہیں ، میّت کو بٹھاتے ہیں، ایسی ڈھلوان جگہ پر بیٹھنا بہت دشوار ہوگا۔ اور دوسری صورت بھی ناقص ہے، بہتر پہلی صورت ہے، مگر ان اصلاحوں کے بعد جو ہم نے لکھیں۔ دُرمختار میں ہے:

ویوجہ الیھا وجوباً وینبغی کونہ علی شقہ الایمن ۲؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلمواجب ہے کہ اسے قبلہ رو کیا جائے اور اسے داہنی کروٹ پر ہونا چاہئے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

(۲ ؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۲۵)


Navigate through the articles
Previous article بعد جنازہ فاتحہ و سورہ اخلاص کا ثبوت قبر پر عاشورہ کے دن پانی چھڑکنا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.90/5
Rating: 2.9/5 (213 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu