• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > کیا قبرستان مضر صحت ہے؟ تبدیلیء قبرستان کا حکم

کیا قبرستان مضر صحت ہے؟ تبدیلیء قبرستان کا حکم

Published by Admin2 on 2014/6/2 (926 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۰۵ تا ۱۰۹ : از فتحپور ہسورہ محلہ جری ٹولہ مرسلہ محمود علی صاحب اہلمد کلکٹری ۷ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

(۱) قبرستان باشندگانِ قر ب وجوار کے لئے مضر صحت ہوسکتا ہے یا نہیں؟

(۲) تبدیلی قبرستان بلاعذرِ شرعی جائز ہے یا نہیں؟

(۳) جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس میں پہلے غلیظ دفن ہورہا ہے جاری کرنا جائز ہے یا نہیں؟

(۴) جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس کے قرب میں اب غلیظ دفن ہورہا ہے جائز ہے یا نہیں؟

(۵) مُردہ کو کس طرح قبر میں دفن کرنا چاہئے؟ جواب بحوالہ کتب معتبرہ مرحمت ہو۔

الجواب

(۱) شریعتِ مطہرہ نے قبر کا گہرا ہونا اسی واسط رکھا ہے کہ احیاء کی صحت کر ضرر نہ پہنچے درمختار میں ہے:حفر قبرہ مقدار نصف قامۃ فان زاد فحسن ۲ ؎ ۔میّت کی قبر نصف قد کے برابر کھودی جائے ، اگر زیادہ ہو تو اچھا ہے ۔(ت)

 (؂۲درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۲۴)

ردالمحتار میں ہے:وان زاد الی مقدار قامۃ فھو احسن کما فی الذخیرۃ وھذا احدالعمق والمقصود منہ المبالغۃ فی منع الرائحۃ ونبش السباع ۲؎ ۔اگر قد برابر زیادہ کیا تو زیادہ اچھا ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اور یہ گہرائی کی حد ہے، اس کا مقصد بُو روکنے اور درندوں کے اکھاڑنے سے بچانے میں مبالغہ ہے ۔(ت)

 (۱؎ ردالمحتار        باب صلٰوۃ الجنائز       مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۲۴)

بلکہ ہزاروں لاکھوں آدمی مقابر کے قریب بستے ہیں بلکہ ہزاروں وہ ہیں جن کا پیشہ ہی تکیہ داری یا قبور کی مجاورت ہے ان کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں آتا، جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) تبدیلی سے اگر یہ قبرستان کو کوئی اور مکان کسی کے رہنے بسنے کا یا مسجد یا مدرسہ لیا جائے اور قبور کے لئے دوسری زمین دے دی جائے تو یہ قطعی حرام اور  بوجوہ حرام کہ وقف میں تصرف بیجا ہے اور وقف نہ بھی ہو تو قبور مسلمین کی توہین وبیحرمتی ہے۔ قبر  پر چلنا پھرنا، پاؤں رکھنا حرام ہے چہ جائکہ انھیں پامالی کے لیے مقرر کرلینا ____ اس کی تفصیل ہمارے رسالہاھلاک الوھابین فی توھین قبور المسلمینمیں ہے۔ عالمگیری میں ہے :لا یجوز  تغییر الوقف عن ھیئتہ ۲؎ ۔وقف کی ہیأت بدلنا جائز نہیں ۔(ت)

(۲ ؎فتاوٰی ہندیۃ    کتا ب الوقف     الباب العاشرفی المتفرقات    نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰)

ہدایہ میں ہے :فی غایۃ القبح ان یقبر فیہ الموتٰی سنۃ ویزرع سنۃ ۳؎ ۔بہت زیادہ بُرا یہ ہے کہ ا س میں ایک سال مردے دفن ہوں اور ایک سال کھیتی ہو ۔(ت)

 (۳؎ الہدایۃ        کتاب الوقف         المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۲/ ۶۱۸)

ردالمحتار میں ہے :انھم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فیھا حرام ۴؎ ۔علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نَوپیدا  راستے میں چلنا حرام ہے ۔(ت)

(۴؎ ردالمحتار        فصل الاستنجاء     ادارۃ الطباعۃ العربیۃ مصر ۱ / ۲۲۹)

اسی طرح طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ مقبرہ بدستور رکھا جائیے گام اس میںکوئی تصرف نہ کیا جائے گا۔ مگراس میں دفن کرنا روک دیا جائے گا اور اس کے عوض دوسری زمین میں دفن کرنے لگیں، تو یہ اگریوں ہے کہ پرانا مقبرہ بالکل بھرگیا اور اس میں کہیں قبر کی جگہ نہ رہی توبے شک مناسب ہے اگر دوسری جگہ معقول وقابل قبور مسلمین مل سکے اور اگریہ بھی نہیں بلکہ قبور کے لئے جگہ موجود ہے اور پھر منع کیاجائے تو دو صورتیں ہیں اگر وہ جگہ جہاں اموات دفن ہو تے تھے کسی شخص خاص کی ملک ہے کہ اس کی اجازت سے دفن ہوتے تھے تو بلاشبہ اسے اختیار ہے کہ میّت کو نکلوادے۔ درمختار میں ہے :لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق اٰدمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ ویخیر المالک بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ۱ ؎ ۔مٹی ڈال دینے کے بعد قبر سے مردے کو نکالا نہ جائے گا مگر کسی انسان کے حق کی وجہ سے، مثلاً زمین غصب کی ہو یا شفعہ کی وجہ سے لے گئی ہو او رمالک کو اختیار ہوگا کہ مردے کو نکال دے یا قبر  زمین کے  برابر کردے (ت)

 (۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ الجنائز    مطبع مجتبائی دہلی   ۱ ۱۲۶)

اگر وہ کسی کا مملوک نہیں بلکہ وقف ہے تو وقف میں دست اندازی کا کسی کو حق نہیں الوقف لا یملک  ( وقف کسی آدمی کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم

 (۳) یہ حرام او ر سخت توہین اموات اہل اسلام ہے۔ مقابر میں پاخانہ پھر نا حرام ہے حالاں کہ وہ اوپر ہی رہے گا اموات تک نہ پہنچے گا تو یہ صورت کیونکر حلال ہوسکتی ہے درمختار میں ہے :یکرہ بول وغائط فی المقابر ۲ ؎ ( قبرستان میں پیشاب اور پاخانہ مکروہ ہے ۔ت)

(۲درمختار    فصل الاستنجاء    مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۵۷)

طحطاوی و ردالمحتار میں ہے:الظاھر انھا تحریمۃ  ۳؎ ( ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

 (۳ردالمحتار     فصل الاستنجاء    ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر     ۱ / ۲۲۹)

 (۴) اس سے بھی شرعاً منع کیا جائے گا، جو لوگ دفن کے لئے جائیں انھیں ایذا ہوگی، جو فاتحہ کو جائیں انھیں ایذا ہوگی، او ران سے قطع نظر کیجئے ان کی ایذا تو اتنی دیر کے لئے ہوگی جب تک وہاں رہیں گے اموات کے لیے یہ آٹھ پہر کی ایذا ہوگی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان المیّت یتأذی مما یتأذی منہ الحی ۴ ؎ ۔جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے۔

 (۴ردالمحتار     فصل الاستنجاء         ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر۱/ ۲۲۹)

علامہ طحطاوی و علامہ شامی نے اسی مسئلہ کی دلیل میں کہ مقابر میں پیشاب کرنا ممنوع ہے، فرمایا:لان المیّت یتأذی بہ الحی ۱؎ ( جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم

(۱؎ ردالمحتار        فصل الاستنجاء            ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر    ۱ /۲۲۹)

 (۵) صالحین کے قریب دفن کرنا چاہئے کہ ان کے قرب کی برکت اسے شامل ہوتی ہے۔ اگر معاذاﷲ مسحقِ عذاب بھی ہوجاتا ہے  تو وہ شفاعت کرتے ہیں ، وہ رحمت کہ ان پر نازل ہوتی ہے اسے بھی گھیر لیتی ہے،

حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :ادفنو اموتاکم وسط قوم صالحین  ۲؎ ۔اپنے اموات کوا چھے لوگوکے درمیان دفن کرو ۔

 (۲؎ الموضوعات لابن جوزی    باب دفن المیّت فی جوار الصالحین    دارالفکر بیروت        ۳ /۲۳۷)

اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :ھم القوم لا یشقی بھم جلیسھم ۳؎ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔

 (۳؎ المدخل لا بن الحاج    صفۃ القبور     دارالکتاب العربیہ بیروت    ۳/ ۲۶۹)

اور اگر صالحین کا قرب میسر نہ ہو تواس کے عزیزوں قریبوں کے قریب دفن کریں کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں ا ۤدمی اپنے اعزّا کے قرب سے خوش ہوتا ہے اور ان کی جدائی سے ملول، اسی طرح بعد موت بھی۔ ہم ابھی حدیث وفقہ کو ذکر کر آئے کہ مردے کو ہر اس بات سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندہ کو۔وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل( اور ہمیں اﷲ کافی ہے او روہ کیاہی اچھا کرساز ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔


Navigate through the articles
Previous article قبر پر عاشورہ کے دن پانی چھڑکنا کیسا ہے؟ پرانے,نئے قبرستان سے متعلق دیوبند کے فتوے کاحکم Next article
Rating 2.74/5
Rating: 2.7/5 (219 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu