• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > قبر کے گرد پختہ چاردیواری بنانے کا حکم

قبر کے گرد پختہ چاردیواری بنانے کا حکم

Published by Admin2 on 2014/9/17 (1340 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۱۲۷: از سہانپور مرسلہ مولوی امیر یار خاں صاحب امام مسجد جامع ۲۰ شوال ۱۳۱۱ھماقولکم رحمکم اﷲ ( اﷲ آپ پر رحم کرے، آپ کا کیا فرمان ہے ۔ت) ا س مسئلہ میں کہ ایک بزرگ کی قبر خام ہے اس اہل قبر سے اس کے مقتدین کے لیے کمال درجہ کا فیض مثل اویسیہ کے اور حصول تسکین قلب ومراقبہ واشغال متصور ہے۔ مگر چونکہ موسم برسات میں بباعث آب وسیلاب کے اور دیگر مواسمِ گرما وغیرہ میں معتقد ین کو وہاں بیٹھنے کی بہت تکلیف رہتی ہے، پس اگر معتقدین مذکورین واسطے اپنے استفاضہ طریقت اس قبر کے گرداگرد چبوترہ پختہ دیوار او رچار دیواری پختہ بنادیں او راوپر سے کھلی ہوئی رکھیں اور قبر کو خام رہنے دیں تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

صورت مذکورہ فی السوال جائز ہے۔ ائمہ دین نے مزراتِ حضرات علماء ومشائخ قدست اسرار ہم کے گرد زمین جائز التصرف میں اس غرض سے کہ زائرین ومستفیدین راحت پائیں عمارت بنانا جائز رکھا، اور تصریحات فرمائیں کہ علت منع نیت فاسدہ یا عدم فائدہ ہے توجہاں نیت محمود اور نفع موجود منع مفقود۔ تفصیل صور وتحقیق اغر اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر پہلے عمارت بنالی جائے بعدہ اس میں دفن واقع ہو جب تو مسئلہ بناء علی القبر سے متعلق ہی نہیں کہ یہ اقبار فی البناء ہے، نہ بناء علی القبر، علامہ طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن، پھر علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام،

پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین، پھر علامہ سید احمد مصری حاشیتین در ومراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :

واللفظ الغنیۃ قال قال فی البرھان یحرم البناء علیہ للزینۃ ویکرہ للاحکام بعد الدفن لاالدفن مقام بنی فیہ قبلہ لعدم کونہ قبر حقیقۃ بدونہ ۱؎ اھالفاظ غنیہ کے ہیں کہا کہ برہان میں ہے کہ قبر پر زینت کے لیے عمارت بنانا حرم ہے او ردفن کے بعد پختگی ومضبوطی کے لیے بنانا مکروہ ہے، جہاں پہلے سے عمارت تھی وہاں دفں مکروہ نہیں کیونکہ بغیر دفن کے وہ جگہ حقیقۃً قبر نہیں اھ (ت)

(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام فی بغیہ  درر الاحکام  باب الجنائز  مطبعۃ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت بیروت ۱ ۱۶۷)

 اور اگر دفن کے بعد تعمیر ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ خود نفسِ قبر پر کوئی عمارت چُنی جائے اس کی ممانعت میں اصلاً شک نہیں کہ سقفِ قبر و ہوائے قبر حق میّت ہے، معہذا اس فعل میں ا س کی اہانت واذیت، یہاں تک کہ قبر پر بیٹھنا ، چلنا ممنوع ہوا نہ کہ عمارت چننا، ہمارے بہت علمائے مذہب قدست اسرارہم نے احادیث وروایات نہی عن النباء سے یہی معنٰی مراد لیے اور فی الواقع بناء علی القبر کے حقیقی معنٰی یہی ہیں۔ گرد قبر کوئی مکان بنانا حول القبر ہے کہ علی القبر۔جیسے صلٰوۃ علی القبر کی ممانعت بجنب القبر کو شامل نہیںکما نص علیہ العلماء قاطبۃ وبیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ علماء نے بالاتفاق اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے ۔ت)

امام فقیہ النفس فخر الملۃ والدین اوزجندی خانیہ میں فرماتے ہیں:لا یجصص القبر لماروی عن البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ انھی عن التجصیص و التقضیض وعن البناء فوق القبر، قالوا اراد بالبناء السفط الذی یجعل علی القبر فی دیار نالماروی عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال لایحصص القبر ولایطین ولایرفع علیہ بناء وسفط ۱؎ ۔قبر کو گچ سے پکا نہ کیا جائے گا ا س لیے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ حضور نے گچ اور چونے سے پختہ کرنے سے اور قبر کے اوپر عمارت بنانے سے ممانعت فرمائی ہے، علماء نے فرمایا عمارت سے مراد وہ سفط ہے جو ہمارے دیار میں قبر پر بنایا جاتا ہے اس لیے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: قبر کو گچ اور گارے سے پختہ نہ کیا جائے اور نہ اس پر عمارت او رسفط بلند کیا جائے ۔(ت)

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    باب غسل المیّت الخ            منشی نولکشور لکھنؤ    ۱/ ۹۲)

امام طاہرین بن عبدلرشید بخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں:لا یرفع علیہ بناء قالوا ارادبہ السفط الذی نجعل فی دیارنہ علی القبور وقال فی الفتاوی الیوم اعتاد واالسفوط ۲؎ ۔اس پر کوئی عمارت اونچی نہ کی جائے، علماء نے فرمایا: اس سے وہ سفط مراد ہے جو ہمارے دیار میں قبروں پر بنایا جاتا ہے، اور فتاوٰی میں ہے کہ اس زمانے میں سفطوں کی عادت ہوچکی ہے

(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الخامس والعشرون فی الجنائز    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱/ ۲۲۶)

رحمانیہ میں نصاب الاحتساب سے ہے :لایجوز لاحد ان یبنی فوق القبور بیتا اومسجدا لان موضع القبر حق المقبور فلا یجوز لاحد التصرف فی ھواء قبرہ ۳؎ ۔قبر کے اوپر گھر یا مسجد بناناجائز نہیں اس لیے کہ قبر کی جگہ میّت کا حق ہے تو کسی کے لیے اس قبرکی فضا میں تصرف روا نہ ہوگا ۔(ت)

 (۳؎ رحمانیہ)

ہندیہ میں ہے:یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیّت ۴؎ ۔قبروں پر چلنے سے گنہگار ہوگا اس لیے کہ قبر کی چھت حقِ میّت ہے ۔(ت)

 (۴؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب السادس عشرفی زیارۃ القبور الخ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۱)

دوسسرے یہ کہ گرد قبر کوئی چبوترہ یا مکان بنایاجائے، یہ اگر زمین ناجائز تصرف میں ہو جیسے ملک غیر بے اذن مالک یا ارض وقف بے شرط واقف، تو اس وجہ سے ناجائز ہے کہ ایسی جگہ تو مسجد بنانی بھی جائز نہیں اور عمارت تو اور ہے،ولذ النقل فی المرقاۃ عن الازھاران النھی للحرمۃ فی المقبرۃ المسبلۃ ویجب الھدم وان کان مسجدا ۱ ؎ ۔اسی لیے مرقات میں ازہار سے نقل ہے کہ عام وقفی قبرستان میں تعمیر حرام ہونے کی وجہ سے نہی ہے اور اسے ڈھادینا ضروری ہے اگر چہ مسجد ہی ہو ۔(ت)

 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب دفن المیّت   مکتبہ امدادیہ ملتان    ۴/ ۶۹)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article پرانے,نئے قبرستان سے متعلق دیوبند کے فتوے کاحکم مردہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون اسکی قبر پر آیا؟ Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (213 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu