• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > ایصال ثواب تیجہ چہلم، ششماہی، برسی جائز ہے یا نہیں

ایصال ثواب تیجہ چہلم، ششماہی، برسی جائز ہے یا نہیں

Published by Admin2 on 2014/10/14 (979 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۹۶ تا ۱۹۸: از چمن سرائے سنبھل مرسلہ احمد خان صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :

(۱) عشرہ محرم الحرام میں کھانے یاشیرینی یا مالیدہ یا شربت جس قدر میسر ہو رو برو رکھ کر ہاتھ اٹھا کر الحمد شریف قل ہو اللہ شریف ، درود شریف پڑھ کر یہ کہنا کہ نذر اللہ رسول، میں اس کھانے اور جو کھانے اور جو کلام پڑھا ہے اس کا ثواب بروحِ پاک جناب امامین وجمیع شہدائے دشتِ کربلا پہنچانا بخشتا ہوں یہ جائزہے یا نہیں؟ا وریہ کھانا یا جو کچھ فاتحہ کا ہے یہ حق محتاجین ہے یا غنی بھی کھاسکتے ہیں؟ او رشریعت میں شرائط اور صفات محتاج کیا ہیں؟ او رجو شخص مسلمان ہو کر نذر ونیاز بزرگانِ دین کو حرام بتائے بلکہ یہ کہے کہ شربت سبیل جناب امام حسین عالی مقام کا نعوذ باﷲ مثل پیشاب ہے، ایسا کہنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ او سلام یا مصافحہ ایسے شخص سے کرے یا نہیں؟

(۲) تیجہ ، دسواں، چہلم، ششماہی، برسی جائز ہے یا نہیں؟ او رروحیں ان ایما میں اتی ہے یا نہیں؟ او راپنے عزیزوں کا ان کو علم ہوتا ہے یا نہیں؟ اور کھانا ان کی فاتحہ کا کس کا حق ہے؟ اور اگر فاتحہ دلانے والا خود محتاج ہے تو فاتحہ دلا کر خود کھالے اور بچوں کو کھلائے تو جائز ہے یا نہیں؟ او رالفاظ ثواب رسانی کیا ادا کرے ؟ا ور اگر غنی فاتحہ دے او رثواب پہنچائے بروحِ اموات، تو ثوا ب کھانے او رفاتحہ کا فوراً اس میّت کو پہنچے گا یا ایک عبادت کا؟ اگر محتاجین کو کھانا فاتحہ دے تو نیت پر ثواب پہنچایا نہیں؟ اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پرشرائط محتاج ثابت ہوں تو پھر کھانا کسے دے اور کہاں صرف کرے؟ اور حضرت رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اور حضور کے صحابہ نے فاتحہ دی یا نہیں؟ اور تیجہ صحابہ میں ہوتا رہا یا نہیں؟

(۳) قبر اہل۔ اﷲ پر شامیانہ چڑھانا یا شیرینی نزد قبر رکھ کر ایصال ثواب کرنا یا چراغ نز د قبر جلانا یا عروس کرناجائز ہے یا حرام ہے؟

الجواب

(۱) شیرینی وغیرہ پر حضرت شہدائے کرام کی نیاز دینا بیشک باعثِ اجرو برکات ہے اور عشرہ محرم شریف اس کے لیے زیادہ مناسب، اور جبکہ وہ منّت مانی ہوئی نہ تو اغنیاء کو بھی اس کا کھانا جائزہے۔ اور وقت فاتحہ کھانا سامنے رکھنے کی ممانعت نہیں مگر اسے ضروری جاننایایہ سمجھنا کہ بے اس کے فاتحہ نہیں ہوسکتی یا ثواب کم ملے گا، غلط وباطل خیال ہے ۔ فاتحہ پڑھ کر جب ایصال ثواب کاوقت جس میں دعا کی جاتی ہے کہ الٰہی! یہ ثواب فلاں کو پہنچا، س وقت ہاتھ اٹھا نا چاہئے کہ یہ دعا کی سنت ہے۔ جس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کررہا ہے ہاتھ اُٹھانے کی حاجت نہیں۔ ہاں سورۃ فاتحہ شریف خود دعاہے، یوں ہی درود شریف، حدیث میں فرمایا:

افضل الدعاء الحمد اﷲ ۱؎ ( سب سے افضل دعا الحمد اﷲ ہے ،ت) او ر قل ھواللہ شریف ذکر حمد الٰہی ہے۔

 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب فضل الحامدین    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۷۸)

(المستدرک علی الصحیحین    کتاب الدعاء    دارالفکر بیروت    ۱ /۴۹۸)

اور علماء فرماتے ہیں: کُل دعا ذکر او رکل ذکر دعا، تو وہ بھی دعاہے ۔ اس نیت سے ان کے بڑھتے وقت ابتداء ہی سے ہاتھ اٹھائے توضروربجا ہے اور اکا بر کو ثواب رسانی میں بخشنے کا لفظ کہنا بیجا ہے بخشنا بڑے سے چھوٹے کے لیے ہوتا ہے اور ایصال ثواب میں نذر اﷲ نہ کہنا چاہئے، اﷲ عزوجل اس سے پاک ہے کہ ثواب اسے نذر کیا جائے، ہاں نذرِ  رسول اﷲ کہناصحیح ہے۔ معظمین کی سرکار میں جو ہدیہ حاضر کیا جاتا ہے اسے عرف میں نذر کہتے ہیں، جیسے بادشاہوں کو نذر دی جاتی ہے، اولیاء کی نذر کے بہت ثبوت ہمارے فتاوٰی افریقہ میں ہیں۔ او رتازہ ثبو ت یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب انسان العین فی مشائخ الحرمین میں حالِ سید عبدالرحمن ادریسی قدس سرہ، میں فرماتے ہیں :از اطراف دیار اسلام نذور  برائے وے می آوردند ۱؎ ۔مسلمان علاقوں سے ان کے لے نذریں پیش کی جاتی ہیں (ت)جو مالک نصاب نہ ہو شرعاً اسے محتاج کہتے ہیں، جو نذر ونیاز کو حرام بتائے اور شریعت نیاز کی نسبت وہ ناپاک ملعون لفظ وہ نہ ہوگا مگر وہابی، اور وہابیہ اصلاً مسلمان نہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض ، اوراس سے مصافحہ حرام اور اسے سلام کرنا جائز وگناہ۔

 (۱؎ انسان العین فی مشائخ الحرمین )

(۲) تیجہ، دسواں، چہلم وغیرہ جائز ہیں جبکہ اللہ کے لیے او رمساکین کو دیں، اپنے عزیزوں کا ارواح کو علم ہوتا ہے او رکاآنا نہ آنا کچھ ضرور نہیں، فاتحہ کا کھانا بہتر یہ ہے کہ مساکین کو دے ، اور اگر خود محتاج ہے تو آپ کھالے اپنے بی بی بچّوں کو کھلائے سب اجر ہے۔

حدیث میں ہے :مااطعمت ولدک فھولک صدقۃ ومااطعمت خادمک فھولک صدقۃ وما اطعمت نفسک فھولک صدقۃ ۲؎ ۔جو کچھ تو اپنی اولاد کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو اپنے خادم کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے او ر جو کچھ تو اپنے نفس کو کھلائے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔ (ت)

 (۲؎ مسند احمد بن حنبل        حدیث المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ عنہ    دارالفکر بیروت    ۴ /۱۳۱)

ثواب رسانی میں کہے کہ الٰہی! جو ثواب تونے مجھ کو عطا فرمایا وہ میری طر ف سے فلاں شخص کو پہنچادے غنی ہو یا فقیر ہو، اگرصرف فاتحہ دے گا تو اسی کا ثواب پہنچے گا او رصرف کھانا دے گا تو اسی کا، اور دونوں تو دونوں کا، اور ثواب پہنچانا صرف نیت ہی سے نہ ہو بلکہ اس کی دعا بھی ہو۔ یہ سوال کہ (اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پر شرائط محتاجِ شریعت ثابت ہوں) خلاف واقع ہے۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں محتاج نہیں۔حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایصال ثوا ب کے لیے حکم بھی دیا، او رصحا بہ نے ایصال ثواب کیا، او ر آج تک کے مسلمانوں کا اس پرا جماع رہا، تخصیصات عرفیہ جبکہ لازم شرعی نہ سمجھی جائیں خدانے مباح کی ہیں ۔ حدیث میں ہے : صوم یوم السبت لالک ولاعلیک ۱؎ (شنبہ کا روزہ نہ تیرے لیے زیادہ نافع نہ کچھ مضر ۔ ت)

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث امرأۃ رضی اﷲ عنہا    دارالفکر بیروت    ۶ /۳۶۸)

(۳) مزار اولیاء پر نفع رسانی زائرین حاضرین کے لیے شامیانہ کھڑا کرنا، یونہی ان کے نفع کو چراغ جلانا، اور عرس کہ منہاتِ شرعیہ سے خالی ہو اور شرینی پر ایصال ثوابِ۔ یہ سب جائز ہیں، اور نزد قبررکھنے کی ضرورت نہیں، نہ اس میں جرم جبکہ لازم نہ جا نے، چراغ کی تفصیل ہمارے رسالہ بریق المنار بشموعد المزارمیں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article مزارات پر فاتحہ وغیرہ کے مسائل ایصال کرتے وقت نام لینا کافی ہے یا والد کا نام بھی؟ Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (209 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu