• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > کسی نیک آدمی کو ایصال ثواب کی کیا ضرورت ہے؟

کسی نیک آدمی کو ایصال ثواب کی کیا ضرورت ہے؟

Published by Admin2 on 2014/10/15 (765 reads)

New Page 1

مسئلہ ۲۱۳: از موضع گہر کھالی تھانہ منگنڈوا بازار ہانچورانہ ضلع ارکان عرف اکباب مسئولہ مولوی ابوالحسن صاحب ۲۸ جمادی الآخر ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مسلم صالح کا انتقال بروز جمعہ بوقت صبح ہوا۔ اب زید کے واسطے قبل نماز جمعہ تسبیح وتہلیل وختم قرآن مجید پڑھ کر ایصا ل ثواب جائزہے یا نہیں؟ برتقدیر اول جب زید قبر کے عذاب سے محفوظ ہے پھر ایصال وثواب کی کیا ضرورت، بناءً علیہ بعض علماء ان امور مذکورہ کو جائز مانتے ہیں، اب قول فیصل کیا ہے؟ بینوا جروا

الجواب

جائز ہے، جبکہ میّت کی تجہیز وتکفین میں اس کے باعث تاخیرنہ ہو، اس کا اہتمام اور لوگ کرتے ہوں نہ اس کے سبب ان پڑھنے والوں کو جمعہ میں تاخیر ہوجائے، اس کے اہتمام کاوقت انے سے پہلے فارغ ہوجائیں ۔ا ب یہ نفع بلاضرورت اور اس حدیث صحیح کو عموم میں داخل ہے کہ:من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلیفعل ۱؎ رواہ مسلم عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچاسکتا ہو تو چاہئے کہ اسے فائدہ پہنچائے، اسے امام مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔(ت)

 (۱؎ صحیح مسلم    کتاب السلام    باب استحباب الرقیۃ من العین الخ    نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲ /۲۲۳)

یہ خیال کہ جب ہو حکم حدیث ان شاء اللہ العزیز فتنہ قبرسے مامون ہے کہ اس مسلم کی موت روز جمعہ واقع ہوئی خصوصاً وہ خودہی صالحین سے تھا تواب ایصال ثواب کی کیا حاجت، محض غلط اور بے معنی ہے۔ ایصال ثواب جس طرح منعِ عذاب عقاب میں باذن اللہ تعالٰی کام دیتا ہے یونہی رفعِ درجات وزیادت حسنات میں اور حق سبحانہ وتعالٰی کے فضل اور اس کی زیادت وبرکت سے کوئی غنی نہیں۔قال تعالٰی للذین احسنوا الحسنٰی وزیادۃ ۱؎ ۔اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے: نیکوکاروں کے لیے بھلائی ہے اور مزید بھی ہے ۔(ت)

(۱؎ القرآن    ۱۰ /۲۶)

سید نا ایوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مولٰی جلا وعلانے اموال عظیمہ عطافرمائے تھے، ایک روز نہارہے تھے کہ اسمان سے سونے کی ٹیریاں برسیں، ایوب علیہ الصلٰوۃ والسلام چادر میں بھرنے لگے، رب عزوجل نے ندا فرمائی:یا ایوب الم اکن اغنیک عماتریاے ایوب! جو تمھارے پیشِ نظر ہے کیا میں نے تمھیں اس سے بے پروا نہ کیا تھا؟ عرض کی:بلٰی وعزتکی ولکن لا غنی عن برکتک ۲؎ضرو غنی کیا تھا تیری عزت کی قسم مگر مجھے تیری برکت سے توبے نیازی نہیںرواہ البخاری واحمد والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ(اسے امام بخاری وامام احمد ونسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے ۔ت)

 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الابنبیائ    باب قول اللہ عزوج وایوب الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۸۰)

(درمنشور بحوالہ احم وبخاری وبہیقی         آیہ وایوبیہ اذنادٰی ربہ    مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران    ۴ /۳۳۰)

جب حق جل وعلا کی دینوی برکت سے بندہ کوغنا نہیں تو اس کی دینی برکت سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔ صلحاء تو صلحا خود امام اعاظم اولیاء بلکہ حضرات انبیاء خود حضور پر نور نبی الانبیاء علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ایصال ثواب زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اب تک معمول ہے حالانکہ انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام قطعاً معصوم ہیں تو موتِ جمعہ یا صلاح کیا مانع ہوسکتی ہے۔

ردالمحتار میں ہے :ان ا بن عمر کان یعتمر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عمرا بعد موتہ من غیر وصیۃ وحج ابن الموفق (رحمۃ اﷲ تعالٰی) وھوفی طبقۃ الجنید قدس سرہ) عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سبعین حجۃ وختم ابن السراج عنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اکثر من عشر الاف ختمۃ وضحٰی عنہ مثل ذلک (نقلہ عن الامام ابن حجر المکی عنب الامام الاجل تقی الملۃ والدین السبکی رحمہا اﷲ تعالٰی ثم قال اعنی الشامی) احمد بن الشلبی شیخ صاحب البحر نقلا عن شرح الطیبۃ للنویری (رحمہم اﷲ تعالٰی ثم قال) وقول علمائنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہی احق بذٰلک حیث انقدنا من الضلالۃ ففی ذلک نوع شکر واسداء جمیل لہ والکامل قابل لزیادۃ الکمال ملخصا ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم

حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے وصا ل کے بعد بغیر کسی وصیت کے ان کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، ابن موفق رحمہ اﷲ نے (جو حضرت جنید بغدادی قدس سرہ، کے طبقہ سے ہیں) حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے ستّر حج کیے، ابن سراج نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم سے زیادہ پڑھے، اور اسی کے مثل سرکار کی جانب سے قربانی بھی کی۔ اسے امام ابن حجر مکی سے انھوں نے امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی سے نقل کیا، رحمہما اﷲتعالٰی، آگے علامہ شامی نے لکھا : اسی جیسا مضمون مفتی حنفیہ شہاب الدین احمد الشلبی شیخ صاحب بحر کی قلمی تحریر میں نویری کی شرح طبیہ کے حوالے سے دیکھا رحمہم اﷲ۔ آگے علامہ شامی نے فرمایا ، اور ہمارے علماء کا یہ قول کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسروں کے لیے کرسکتا ہے، اسی میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہیں اسی لیے کہ وہ اس سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ حضور ہی نے ہمیں گمراہی سے نکالاتو اس میں ایک طرح کی شکرگزاری اور حسن سلوک ہے او رصاحب کمال مزید کمال کے قابل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

 (۱؎ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵ و ۶۰۶)


Navigate through the articles
Previous article مرحومین کے ایصال ثواب کےطریقوں سے متعلق سوالات گیارھویں شریف کس چیز پر دینی افضل ہے Next article
Rating 2.85/5
Rating: 2.8/5 (219 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu