• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > ثواب چنداموات کو بخشنے سےتقسیم ہو گا یا پوراملے گا

ثواب چنداموات کو بخشنے سےتقسیم ہو گا یا پوراملے گا

Published by Admin2 on 2014/10/20 (1124 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۲۳۵: مرزا باقی بیگ رام پوری ۱۶ محرم ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس فعل نیک کا ثواب چنداموات کو بخشا جائے وہ ان پر تقسیم ہوگا یا سب کو اس پورے فعل کا ثواب ملے گا؟ بینوا توجروا

الجواب

اللہ عزوجل کے کرمِ عمیم وفضل عظیم سے امید ہے کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے گا، اگر چہ ایک آیت یا درود یا تہلیل کا ثواب آدم علیہ السلام سے قیامت تک کے تمام مومنین ومومنات احیا واموات کے لیے ہدیہ کرے، علمائے اہلسنت سے ایک جماعت نے اسی پر فتوٰی دیا۔ امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :وسعت فضل الٰہی کے لائق یہی ہے۔ علامہ شامی ردالمحتارمیں فرماتے ہیں :سئل ابن حجر المکی عما لو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحۃ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لک منھم مثل ثواب ذلک کاملہ فاجاب بانہ فتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل ۱؎ اھ۔حضرت ابن حجر مکی سے سوال ہوا اگر اہل مقبرہ کے لئے فاتحہ پڑھا توا ب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہرایک کو اس کا پور ا ثواب ملے گا؟ انھوں نے جواب دیا کہ جماعت نے دوسری صورت پر فتوٰی دیا ہے اور وہی فضل ربانی کی وسعت کے شایان ہے اھ (ت)

(۱؎ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ            داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)

اورہر شخص کو افضل یہی کہ جو عمل صالح کرے اس کا ثواب اولین وآخرین احیاء واموات تمام مومنین ومومنات کے لیے ہدیہ بھیجے سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے اُن سب کے برابر اجرملے گا۔فی ردالمحتار عن التاتارخانیۃ عن المحیط الافضل لمن یتصدق نفلہ ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ ۲؎ا ھردالمحتار میں تارتار خانبیہ سے، اس میں محیط سے منقول ہے کہ جو کوئی نقل صدقہ کرے توبہتر یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرے اس لیے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا اھ (ت)

 (۲؎ ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ            داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)

دارقطنی و طبرانی ودیلمی وسلفی امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من مرعلی المقابر وقرأ قل ھو اﷲ احد احدی عشرۃ مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی اعطی من الاجر بعد دالاموات ۳؎ ۔جو مقابر پر گزرے اور قل ھواﷲ گیارہ بار پڑ ھ کر اس کا ثواب اموات کو بخشے بعدد تمام اموات کے ثواب پائے۔

 (۳؎ فتح القدیر     عن علی رضی اﷲ عنہ        باب الحج عن الغیر    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۶۵)

(کنز العمال     رافعی عن علی        حدیث ۴۲۵۹۶    موسستہ الرسالۃ بیروت    ۱۵ /۶۵۵)

(ردالمحتار عن علی    مطلب فی اہدا الثواب الاعمال لغیر        مصطفی البابی مصر        ۲ /۲۵۷)

رہا ابن قیم ظاہری المذہب کا کتاب الروح میں تقسیم ثواب کو اختیار کرنا یعنی ایک ہی ثواب ان پر ٹکڑے ہو کر بٹ جائے گاحیث قال لواھدی الکل الی اربعۃ یحصل لکل منھم ربعہ ۴؎ اھ ( اس کے الفاظ یہ ہیں: اگر چار آدمیوں کو سب ہدیہ کیا توہر ایک کو چوتھائی ملے گا۔ (ت)

(۴؎ ردالمحتار    بحوالہ کتاب الروح    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ        ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱ /۶۰۵)

اقول وباﷲ التوفیق علماء کہ سب کو ثواب کامل ملے گا، اس قولِ ابن قیم پر بچند وجہ مرجح ہے :

اولاً ابن قیم بد مذہب ہے، تواس کا قول علمائے اہلسنت کے مقابل معتبر نہیں۔

ثانیاً وہ اسی کا قول ہے اور یہ یک جماعت کا فتوٰیوالعمل بما علیہ الاکثر (اور عمل اس پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ت)

ثالثاً وھو الطراز المعلم (اور وہی نقش بانگارہے، یعنی زیادہ مضبوط جواب ہے۔ ت) ثواب واحدہ کا سب پر منقسم ہونا ایک ظاہری بات ہے جسے آدمی بنظرِ ظاہر اپنی رائے سے کہہ سکتا ہے۔ عالم شہود میں یونہی دیکھتے ہیں، ایک چیز دس کو دیجئے توسب کو پوری نہ ملے گا ہر ایک کو ٹکڑا ٹکڑا پہنچے گا۔ غالباً اس ظاہری نے اسی ظاہری بات پر نظر اور معقول پر محسوس کو قیاس کرکے تقسیم کا حکم دے دیا۔ نہ کہ حدیث سے اس پر دلیل پائی ہو بخلاف اس حکم کمال کے کہ اگر کروڑوں کو بخشو توہر ایک کو پورا ثواب ملے گا، ایسی بات بے سند شرعی اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے توظاہر کہ جماعت اہل فتوٰی نے جب تک شرع مطہر سے دلیل نہ پائی ہر گز اس پر جزم نہ فرمایا بلکہ تصریح علماء سے ثابت کہ جوبات رائے سے نہ کہ سکیں وہ اگرچہ علماء کا ارشاد ہو حدیثِ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم میں سمجھا جائے گا۔ آخرجب یہ عالم متدین ہے اوربات میں رائے کو دخل نہیں تو لاجرم حدیث سے ثبوت ہوگی، امام علامہ قاضی عیاض نے سریج بن یونس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نقل کیا کہ اللہ تعالٰی کے کچھ سیاح فرشتے یہں جن کے متعلق یہی حدیث ہے کہ جس گھر میں احمد یا محمد نام کوئی شخص ہو اس گھر کی زیارت کیا کریں۔ علامہ خفاجی مصری اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :فھو ظاھر وان کان لسریج فھو فی حکم المرفوع لان مثلہ لایقال بالرای ۱؎ اھ ملخصا۔یہ اگر چہ سریج کا قول ہے مگر وہ مرفوع کے حکم میں ہے اس لئے کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی اھ ملخصاً (ت)

 (۱؎ نسیم الریاض    الباب الثالث    فصل الاول    دارالفکر بیروت    ۲ /۲۲۵)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article ایصال کرتے وقت نام لینا کافی ہے یا والد کا نام بھی؟ کئی لوگوں کو ایصال کیا تو پورا ثواب ہوگا دلائل Next article
Rating 2.67/5
Rating: 2.7/5 (220 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu