• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > کئی لوگوں کو ایصال کیا تو پورا ثواب ہوگا دلائل

کئی لوگوں کو ایصال کیا تو پورا ثواب ہوگا دلائل

Published by Admin2 on 2014/10/22 (892 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۲۴۰: از کارا ڈاکخانہ اونیرا ضلع گیا مرسلہ مولوی علی احمد صاحب ۵ شعبان ۱۳۳۱ھ

زید کہتا ہے اگر دو چار شخصوں کو اجمالاً ایصال ثواب کیا جائے توہر ایک کو پورا پورا پہنچے گا، اور بکر تقسیم کا قائل ہے۔ زید اپنے ثبوت میں شامی کی یہ عبارت پیش کرتا ہے:لکن سئل ابن حجر المکی عمالو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحہ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لکل منھم مثل ثواب ذلک کاملا فاجاب بانہ افتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل۴؎۔ابن حجر مکی سے سوال ہوا: اگر اہل قبرستان کے لیے فاتحہ پڑھے تو ثواب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ان میں سے ہر ایک کو اس کا ثواب مثل کامل طور پر پہنچے گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک جماعت نے صورت دوم پر فتوٰی دیا ہے اور وسعتِ کرم کے لائق وہی ہے۔ (ت)

 (۴؎ ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)

اور بکر کہتاہے کہ سوال میں دو باتیں مذکور ہوئیں: ایک تو ایصال ثواب قراءت اور اس کے ساتھ تقسیم ثواب مقرؤ، اور دوسرے وصول مثل ثواب، چونکہ عند الشافعیہ عبادات بدنیہ کا ثواب ہی نہیں پہنچتا۔ اس لیے علامہ ابن حجر نے اول جواب سے تو بالکل سکوت فرمایا اور فقط شق ثانی کا بموجب مختار متاخرین شافعیہ جواب دیا جس کی تشریح علاّمہ شامی اس عبارت سے کچھ اوپر بایں الفاظ فرماتے ہیں:والذی حررہ المتاخرون من الشافعیہ وصول القرأۃ للمیّت اذاکانت بحضرتہ اودعی لہ عقبھا، والدعاء عقبہا ارجی للقبول ومقتضاہ ان المراد انتفاع المیّت بالقرأۃ لاحصول ثوابھالہ ولھذا اختاروا فی الدعاء اللھم اوصل مثل ثواب ماقرأتہ الٰی فلاں واماعندنا فالو اصل الیہ نفس الثواب ۱؎ ۔متاخرینِ شافعیہ نے جو تنقیح کی ہے وہ یہ ہے کہ قرأت میّت کو پہنچتی ہے جبکہ قرأت اس کے پاس ہو یا بعد قرأت اللہ سے دعا کی جائے اس لیے کہ قرأت قرآن کے بعد دعامیں امید قبول  زیادہ ہے ۔ اس کا مقتضاء یہ ہےکہ میت کو قراءت  سے فائدہ ملتا ہے یہ نہیں کہ قرأت کا ثواب اسے حاصل ہوتا ہے اسی لیے دعامیں وہ یہ الفاظ اختیار کرتے ہیں کہ اے اللہ! میں نے جو پڑھا اس کے ثواب کا مثل فلاں کو پہنچا مگر ہمارے نزدیک خود ثواب اسے پہنچتا ہے۔ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)

غرض  بموجب مذہب حنفیہ کہ وہ وصول ثواب مقرؤ کے قائل ہیں تقسیم لابدی ہے کیونکہ ہر عمل کا ثواب خواہ بتضاعیف ہی سہی عند اللہ ایک امر معدود ہے جس کا وصول دوچار شخصوں کو بلاتقسیم کے عقلاً ممتنع ہے۔ اور ابن حجر کا قول ثانی کو ''لائق بسعۃ الفضل'' فرمانا بھی اسی کو مقتضی ہے کہ قائلین وصول ثواب قرأت کے نزدیک تقسیم ضروری ہے اگراول صورت بھی وصول کامل ہو تو ثانی لائق بسعۃ الفضل فرمانا بالکل بے معنی ہےلعدم الفرق بینھما (کیونکہ دونوں میں فرق نہ ہوگا ۔ت) اب علمائے کرام فرمائیں کہ حق بجانب کون شخص ہے زید یا بکر؟ اور بموجب مذہب حنفیہ تقسیم ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

عبارت فتاوٰی ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا مطلب بہت صاف ہے، بکر نے بالکل تحویل کردیا۔ امام ابن حجرمکی سے ایک سوال ہے جس میں سائل دریافت کرتاہے کہ متعدد مسلمانوں کے لیے فاتحہ پڑھےتو ثواب ان پر تقسیم ہو گا یا ہرمیّت کو کامل ثواب ملے گا مثل لفظ کہ شق ثانی میں سائل شافعی المذہب نے اپنے مذہب کی رعایت سے بڑھایا، شقِ اول میں بھی ان کے طور پر ملحوظ ہے ولھذا ثوابھا نہ کہا بلکہ الثواب بلام عہد یعنی وہی ثواب کہ ہم شافعیہ کے نزدیک معروف ومعہود ہے کہ مثل ثواب قاری ہے۔ آیا اموات پر تقسیم ہوگا یا ہر ایک کو پورا ملے گا۔ روشن ہے کہ یہ ایک ہی سوال ہے اور اس میں مقصود بالاستفادہ تقسیم وتکمیل کی دو شقوں سے ایک متعین جس کا جواب امام نے دیا کہ ایک جماعت نے شق دوم پر فتوٰی دیا یعنی ہر ایک کو پوراثواب  پہنچے گا اور یہی  وسعتِ رحمت الہٰیہ کے لائق ہے نہ یہ کہ دوسوال تھے، پہلا مذہب حنفیہ اوردوسرا مذہب شافعیہ سے امام نے پہلے جواب سے سکوت کیاا ور د وسرے کا جواب دیا۔ یوں ہوتا تو تقسیم او رلکل منھم فضول تھا کہ حنفیہ وشافعیہ کا یہ اختلاف ایک جماعت اموات کے لیے قرأت سے خاص نہیں ایک میّت کے لیے قرأت بھی یہی ہے کہ ہمارے نزدیک نفس ثواب پہنچتاہے او ران کے نزدیک اس کا مثل ۔ ایسا ہوتا تو امام اس غلطی پر متنبہ فرماتے۔ پھر جواب یُوں نہ ہوتا کہ ایک جماعت نے ثانی پر فتوٰی دیا،بلکہ یوں ہوتا کہ ہمارا مذہب شق ثانی ہے پھر نفس ومثل میں سعتہ رحمت کا کیا فرق ہے جسے امام ھو اللائق بسعۃ الفضل فرمارہے ہیں۔ بکر کا استدلال کہ ''ابن حجر کے قول ثانی کو الخ'' عجیب ہے ۔ شق اول میں لفظ  تقسیم خود مصرح  ہے۔ سائل پوچھتا ہی یہ ہے کہ ثواب جو کچھ بھی پہنچے کہ وہ ان کے نزدیک مثل ثواب قاری ہے نہ نفس تقسیم ہوگا یا ہر ایک کو پورا پہنچے گا؟ امام نے جواب دیا کہ ہرایک کو پورا پہنچنا الیق ہے، تو قائلین وصول ثواب سے یہ بھی ہوئے۔ شق اول میں نفس ثواب القاری کہاں تھا۔

ثم اقول وباﷲ  التوفیق (میں پھر اللہ تعالٰی کی مدد سے کہتاہوں ۔ت) یہاں تحقیق امر ا ور ہے جو شبہ کو راساً ختم کردے۔ جب نظر عامہ اہل ظاہر پر شے واحد کا دو شخصوں کو بلاتقسیم وصول عقلاً ممتنع ہے یعنی عرض واحد دومحل سے قائم نہیں ہوسکے (ورنہ اس تعبیر میں تو صریح منع ہے) تو واجب کہ حنفیہ کے نزدیک جب نفس ثواب قاری میّت کو پہنچے قاری کے پاس نہ رہے، ورنہ یہ بھی عرض واحد کا دو محل سے قیام ہوگا حالانکہ احادیث وحنفیہ وسائر علماء کرام خلاف پر تصریح فرماہیں،

محیط پھر تاتار خانیہ پھر ردالمحتار میں ہے :الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ ۱؎ ۔صدقہ نفل کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی نیت کرے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا (ت)تو جب وہی ثواب اس کے پاس بھی رہا اورد وسرے کو بھی پہنچا اور تقسیم نہ ہوا کہ لاینقص من اجرہ شیئ اس کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوا، تقسیم ہوتا تو قطعاً کم ہوتا، توا گر دوسو یا لاکھ یا سب اولین وآخرین مومنین ومومنات کے وہی ثواب پورا پورا پہنچے  اور تقسیم نہ ہو کیااستحالہ ہے، جیسے دو  ویسے کروڑہا کروڑ۔

 (۱؎ ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article گیارھویں شریف کس چیز پر دینی افضل ہے
Rating 2.84/5
Rating: 2.8/5 (180 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu