• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > کیا بچوں کا کیا ہوا ایصال ثواب بھی پہنچتا ہے؟

کیا بچوں کا کیا ہوا ایصال ثواب بھی پہنچتا ہے؟

Published by Admin2 on 2014/10/22 (1455 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۲۴۱: از بندر کراچی محلہ جمعدار گل محمد مکرانی مرسلہ مولوی عبدالرحیم مکرانی ۲۷ شعبان ۱۳۱۱ھ

چہ می فرمایند علمائے کرام ومفتیان عظام رحمکم ربکم اندرین مسئلہ کہ اگر گروہ صبیان قرآن خواندہ یا دیگر اعمال حسنہ کردہ وثواب بموتٰی بخشد، شرعامی رسد یا نہ؟ بینوا الجواب بسند الکتاب وتوجروا عند اللہ بحسن المآب صاحباً حسبۃ للہ تعالٰی، جواب این مسئلہ بعبارت شافی و دلائل کافی از کتب فقہ حنفیہ و حدیث شریفہ مع حوالہ کتبِ فقہ نوشتہ وبمواہیر علمائے اعلام آنجائے ثبت نمودہ بفرستند کہ عند اللہ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد، چراکہ درباب این مسئلہ درمیان علمائے بندر کراچی مباحثہ واختلاف افتادہ است آخر الامر طرفین بریں قرار دادہ اند کہ ہر جوابیکہ علمائے کرام بریلی دہند، بباید کہ جانبین تسلیم نمایند۔

علمائے کرام ومفتیان عظام، آپ پر خدا کی رحمت ہو، اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ اگر بچوں کی جماعت قرآن پڑھ کر یادوسرے نیک اعمال کرکے اس کا ثواب مردوں کو بخشے توشرعا پہنچتا ہے یا نہیں؟ کتاب کی سند سے واضح جواب دیں اور خدا کے یہاں حسن انجام کا ثواب لیں۔حضور! خالصاً للہ اس سوال کا جواب شافی عبارت اورکتب فقہ حنفی وحدیث شریف کے دلائل سے کتب فقہ کے حوالوں کے ساتھ تحریر فرما کر اور وہاں کے علمائے اعلام کی مہریں ثبت فرماکر  ارسال فرمائیں، خدا کے یہاں اجر پائیں گے اور لوگ شکر گزار ہوں گے ا س مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء میں مباحثہ اور اختلاف واقع ہوا۔ آخر طرفین نے یہ طے کیا کہ بریلی کے علمائے کرام جو جواب دیں وہ جانبین تسلیم کریں۔ (ت)

الجواب

اللھم لک الحمد صل علی المصطفی واٰلہ العمد ہر قربتے کہ صبی اہل آنست (نہ ہمچو اعتاق و صدقہ وہبہ مال کہ اصلا از وصور ت نہ بندد) چو از صبی عاقل اداشود برقول جمہو ر ومذہب صحیح ومنصور ثوابش ہم ازان ا وباشد علامہ استروشنی درجامع صغار فرماید حسنات الصبی قبل ان یجری علیہ القلم للصبی لا لا بویہ لقولہ تعالٰی وان لیس للانسان الاماسعٰی ھذا قول عامۃ مشائخنا ۱؎ ۔اے اللہ! تیرے  ہی لیے حمد ہے حضرت محمد مصطفی اور ان کی آل معتمد پر درود نازل فرما۔ ہر وہ قربت کہ بچہ جس کا اہل ہے (غلام آزاد کرنا، صدقہ کرنا، مال کا ہبہ کرنا اور اس طرح کی قربتیں نہیں، کہ یہ بچےّ سے واقع ہو نہیں سکتیں) جب عاقل بچّے سے وہ ادا ہوگی توقول جمہور اور مذہب صحیح و منصور یہ ہے کہ اس کا ثواب بھی بچے ہی کے لیے ہوگا، علامہ استروشنی جامع صغار میں فرماتے ہیں: بچے کی نیکیاں جواس پر قلم جاری ہونے سے قبل ہوں وہ بچے ہی کے لیے ہیں اس کے والدین کے لیے نہیں کیونکہ ارشاد باری ہے: انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کوشش کی___ یہ ہمارے عامہ مشائخ کا قول ہے ۔ (ت)

(۱؎ جامع احکام الصغار علی ھامش جامع الفصولین    مسائل الکراہیۃ    مطبع ازہر یہ مصر    ۱ /۱۴۸)

علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری دراحکام الصیبان از کتاب الاشباہ فرماید : علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری کتاب الاشباہ کے احکام الصیبان میں فرماتے ہیں :تصح عباداتہ وان لم تجب علیہ واختلفوا فی ثوابھا والمعتمد انہ لہ وللمعلم ثواب التعلیم، وکذا جمیع حسناتہ ۲؎ ۔بچے کی عبادتیں صحیح ہیں اگر چہ اس پر واجب نہیں ،ان کے ثواب کے بارے میں اختلاف ہے۔ معتمد یہ ہے کہ ثواب بچے ہی کے لیے ہوگا،ا ور معلم کو سکھا نے کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح اس کی تمام نیکیوں کا حال ہے۔ (ت)

 (۲؎ الاشباہ والنظائر      احکام الصیبان    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۴۲)

باز علمائے مااصولاً وفروعاً تصریحات جلیہ دارند کہ انسان رامی ر سد کہ ثوا ب اعمال خودش ازاں با غیرے کند کما نص علیہ فی الھدایۃ وشروحھا و الملتقی والدر و خزانۃ المفتین والھندیۃ وغیرھا من کتب المذہب۔ علمائے کرام ایں سخن راہمچناں مرسل ومطلق گزاشتہ اند وہیچ بو ئے از تخصیص وتقیید ندادہ، پس آن چنانکہ باطلاق اعمال برشمول فرائض وتناول عملیکہ ابتداء برائے خود بےنیت غیر کردہ باشد وبہ ارسال غیر  بر دخول حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ و الثناء استدلال کردہ اند ہمچناں اطلاق انسان بردخول صبیان دلیلے کافی است تا آنکہ برہانے صحیح استثنائے آناں قائم شود و خو د آں برہان کجا وکدام ۔پھر کتب اصول وفروع میں ہمارے علماء کی روشن تصریحات موجود ہیں کہ انسان اپنے اعمال کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتاہے۔جیسا کہ ہدایہ، شروح ہدایہ، ملتقی، درمختار، خزانۃ المفتین، ہندیہ وغیرہا کتب مذہب میں اس کی صراحت ہے (ت)علمائے کرام نے یہ کلام اسی طرح مُرسَل ومطلق رکھا ہے۔ کسی تخصیص وتقیید کا اشارہ ونشان نہ دیا___ تو جس طرح اعمال کو مطلق ذکر کرنے سے علماء نے یہ استدلال کیا کہ یہ حکم فرائض کوبھی شامل ہے اوراس عمل کو بھی جسے ابتداء میں اپنے لیے دوسرے کی نیت کے بغیر کیا ہو ___ اور جس طرح ''غیر'' کے عموم سے یہ استدلال کیا کہ اس میں حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والثناء بھی داخل ہیں اسی طرح لفظ ''انسان'' مطلق مذکور ہونااس بات کی کافی دلیل ہے کہ اس میں بچے بھی داخل ہیں جب تک کہ کوئی صحیح برہان ان کے  استثناء پر قائم نہ ہوجائے مگر ایسی برہان کہاں  ا ور کون؟ (ت)

فی ردالمحتار فی البحر بحثا ان اطلاقھم شامل للفریضۃ ۱؎ اھ وفیہ' عنہ ان  الظاھر انہ لافرق بین ان ینوی بہ عند الفعل للغیر اوبفعلہ لنفسہ ثم بعد ذلک یجعل ثوابہ لغیرہ لاطلاق کلامھم ۲؎ اھردالمحتار میں ہے: بحر میں بطور بحث ہے کہ علماء کا اعمال کو مطلق ذکر کرنا فرض کو بھی شامل ہے اھ اور اسی میں اسی بحر کے حوالے سے ہے: ظاہر یہ ہے کہ میرے نزدیک اس میں کوئی فرق نہیں کہ عمل کے وقت دوسرے کے لیے کرنے کی نیت کی ہو یا اپنے لیے کرنے کی نیت کی ہو، پھر ا س کا ثواب دوسرے کے لیے کردے۔ اس لیے کہ کلام علماء میں اطلاق ہے، ایسی کوئی قید نہیں اھ

(۱؎ ردالمحتار    باب الحج عن الغیر        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۲۳۶)

 (۲؎ ردالمحتار    مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۰۵)

فیہ قلت وقول علمائنا لہ ان جعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ احق بذلک حیث انقذنا من الضلالۃ ۳؎ اھ۔اسی میں ہے: میں نے کہا: ہمارے علما کا قول ہے کہ '' وہ اپنے عمل کا ثواب ''دوسرے'' (اپنے غیر) کے لیے کرسکتا ہے'' ___ تو اس میں ہمارے  نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہیں ا س لیے کہ وہ ا س کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ حضور نے ہی ہمیں گمراہی سے نجات دی اھ (ت)

(۳؎ ردالمحتار    مطلب فی اہداء ثواب القرأۃ الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱ /۶۰۶ ۔ ۶۰۵

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article گیارھویں شریف کس چیز پر دینی افضل ہے
Rating 2.73/5
Rating: 2.7/5 (242 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu