• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Zakat / زکٰوۃ > بزرگ کی خدمت پر مامور شخص کی تنخواہ زکوۃ سے دینا؟

بزرگ کی خدمت پر مامور شخص کی تنخواہ زکوۃ سے دینا؟

Published by Admin2 on 2014/10/27 (1184 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ۲:مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری ۱۰ذی قعدہ ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند مسلمانوں نے ایک صاحب کا کچھ ماہوار نقد بطور چندہ مد زکوٰ ۃ میں سے اور طعام شبانہ روز مقرر کردیا اور کوئی کام خدمت یا بدل وغیرہ  ان کے ذمہ نہیں کیا ،غرض ان لوگوں کی ایک مسلمان بزرگ و مسکین کے ساتھ سلوک کرنا تھا اور ایسے شخص کا اپنے محلّہ و مسجد میں رہنا موجبِ خیر و برکت سمجھا، اسی طور پر عرصہ قریب چار سال کی گزرا کہ یہ لوگ مو افق اپنے وعدے اور نیّت کے خواہ وہ بزرگ اپنے وطن کو گئے یا یہاں رہے ، دیتے اور ادا کرتے رہے ، مگر بعض  نے ان میں عذر کیا اور کہا ہم ایامِ غیر حاضری کا نہ دیں گے ، تو اس صورت میں زکوٰ ۃ ان لوگوں کی ادا ہوئی یانہیں ؟بینو اتوجروا۔

الجواب :  اللہم ھدایۃ الحق والصواب :اصل یہ ہے کہ زکوٰ ۃ میں نیّت شرط ہے بے اس کے ادا نہیں ہو تی،فی الاشباہ ماالزکوٰۃ فلایصح ادا ھا الّابالنیۃ ۴؎(اشباہ میں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی نیت کی بغیر درست نہیں ۔ ت)

 ( ۴؎الاشبادہ والنطائر    القاعدۃ الاولیٰ من الفن الاول     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کر اچی    ۱ /۳۰)

اور نیّت میں اخلاص شرط ہے بغیر اس کے نیّت مہمل ،فی مجمع الانھرالزکوٰۃ عبادۃ فلابدّفیھامن الاخلاص ۱؎ (مجمع الانہر میں ہے زکوٰۃ عبادت ہے لہٰذا اس میں اخلاص شر ط ہے۔ ت)

 ( ۱؎مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر         کتاب الزکوٰۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۱۹۲)

ور اخلاص کے یہ  معنٰی کہ زکوٰۃ صرف بہ نیّتِ زکوٰۃ و ادائے فرض و بجا آوری حکم الٰہی دی جائے ، اس کی ساتھ اور کوئی امر منافیِ زکوٰۃ مقصود نہ ہو۔ تنویر الابصار میں ہے :الزکوٰۃ تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیرغیرھاشمی ولامولاہ مع قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ ﷲ تعالٰی۔۲؎زکوٰۃ شارع کی مقرر کردہ حصہ کا فقط رضائے الہٰی کے لئے کسی مسلمان فقیر کو اس طرح مالک بنانا کہ ہر طرح سے مالک نے اس شے سے نفع حاصل نہ کرنا ہو بشرطیکہ وُہ مسلمان ہاشمی نہ ہو اور نہ ہی اس کا مولیٰ ہو ۔ (ت)

 (۲؎  درمختار          کتاب الزکٰوۃ            مطبع مجتبائی دہلی             ۱ /۱۲۹)

درمختار میں ہے:ﷲتعالٰی بیان لا شتراط النیّۃ۔ ۳؎''اﷲکےلئے ہو '' کے الفا ظ نیت ہی کو شرط قرار دینے کیلئے ہیں۔

  ( ۳؎ درمختار     کتاب الزکٰوۃ            مطبع مجتبائی دہلی             ۱ /۱۲۹)

ردالمحتار میں ہے :متعلق بتملیک ای لاجل امتثا ل امرہ تعالٰی ۔ ۴؎ان کلمات (ﷲ تعالٰی )کا تعلق لفظ تملیک سے ہے یعنی یہ عمل فقط اپنے رب کریم کے حکم کی بجا آوری کے طور پر ہو ۔ (ت)

( ۴؎ ردالمحتار کتاب الزکٰوۃ مصطفے البابی مصر ۲ /۴)

پھر اس میں اعتبار صرف نیّت کا ہے اگر چہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے ، مثلاً دل میں زکوٰۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یاقرض کہہ کردیا صحیح مذہب پر زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔ شامی میں ہے :لااعتبارللتسمیۃفلوسماھا ھبۃاوقرضا تجزیہ فی الاصح۔۵؎نام لینے کا اعتبار نہیں ، اگر کسی نے اس مال کو ہبہ یا قر ض کہہ دیا تب بھی  اصح قول کے مطابق زکوٰۃ ادا ہوجائے گی(ت)

 (۵؎ ردالمحتار              کتاب الزکٰوۃ             مصطفے البابی مصر             ۲ /۴)

        پھر نیت بھی صرف دینے والے کی ہے لینے والا کچھ سمجھ کرلے اس کا علم اصلاً معتبر نہیں ،فی غمزالعیون العبرۃلنیۃ الدافع لالعلم المدفوع۔ ۱؎غمزالعیون میں ہے کہ  اعتبار دینے والے کی نیّت کا ہے نہ کہ اس کے علم کا جسے زکوٰۃ دی جارہی ہے (ت)

 (۱؎ غمزعیون البصائر      کتاب الزکوٰۃ، فن ثانی مصطفی البابی مصر ۱ /۲۲۱)

ولہٰذااگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کچھ روپیہ عیدی کا نام کر کے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس  کے دل میں یہ نیّت تھی میں زکوٰۃ دیتا ہوں بلاشبہ ادا ہوجائیگی ۔ اسی طرح اگر کوئی ڈالی لایا رمضان مبارک میں سحری کو جگانے والا عید کا انعام لینے آیا یا کسی شخص نے دوست کے آنے یا اور کسی خوشی کا مژدہ سنایا اس نے دل میں زکوٰۃ کا قصد کر کے ان لوگوں کو کچھ دیا ، یہ دینا بھی زکوٰۃ ہی ٹہرے گا، اگر چہ ان کے ظاہر میں ڈ الی لانے یا سحری کو جگانے یا خوشخبری کو سنانے کا انعام تھا ، اور انہوں نے اپنی دانست میں یہی جان کرلیا ،

خلاصۃالفتاوٰی و خزانۃالمفتین وغیر ھما معتبرات میں ہے :لودفع علیٰ صبیان اقاربہ دراھم فی ایام العید یعنی عیدی بنیّۃالزکوٰۃ اودفع الیٰ من یبشرہ  بقدوم صدیق او یخبرہ بخبر او یھدی الیہ الباکورۃ او الی الطبال یعنی سحر خواں او  الی المعلم بنیّۃ الزکوٰۃ جائز۔ ۲؎اگر کسی نے ایامِ عید میں اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو نیّت زکوٰۃسے عیدی دیدی یا اس شخص کو جس نے اس کے دوست کی آمد کی اطلاع دی یا کوئی خوشی والی خبر دی یا کسی کو  عید مبارک پر دی یا سحری کے وقت بیدار کرنے والوں یا استاد کودی تو زکوٰۃ ادا ہوجائیگی (ت )

 (۲؎ خلاصۃالفتاوٰی کتاب الزکوٰۃ    الفصل الثامن فی اداء الزکوٰۃ    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۲۴۳)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
چوری سے نقصان زکوۃ سے منہا کرنے کی نیت کرنا کیسا؟ Next article
Rating 2.79/5
Rating: 2.8/5 (159 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu