• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Zakat / زکٰوۃ > زکوۃ کے لئے چاندی کا نصاب کیا ہے؟

زکوۃ کے لئے چاندی کا نصاب کیا ہے؟

Published by Admin2 on 2014/11/4 (924 reads)

New Page 1

مسئلہ ۲۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اد ا ئے زکوٰۃ کے واسطے چاندی کا نصاب کس قدر روپیہ یا کس قدر وزن ہے اور ایسے ہی سونے کا کس قدر ہے؟رانی کھیت میں چند دنوں سے ایک عالم واعظ وارد ہیں ، انہوں نے وعظ میں فرمایا کہ پانچ کم دو سو پر زکوٰۃ فرض نہیں، جس وقت دو سو روپے ہوجائیں اور ایک سال اُن پر گزر جائے اس وقت زکوٰۃ دینا فرض ہوگی اور روپیہ رائج الوقت گورنمٹ انگلشیہ کا،جس کا وزن سوا گیارہ ماشے ہے۔ بینواتوجروا

الجواب  : اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲحق اور صواب کی ہدایت عطا فرما۔ ت)چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے ہے جس کے سکّہ رائجہ سے چھپن۵۶ روپے ہوئے، اور سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے۔ درمختار میں ہے :نصاب الذہب عشرون مثقال والفضۃ مائتا درھم کل عشرۃدراھم وزن سبعۃ مثاقیل۔ ۱؎سونے کا نصاب بیس ۲۰ مثقال اور چاندی کا دو سو درہم جن سے ہر دس۱۰ درہم کا وزن سات مثقال ہوسکے(ت)

درمختار             کتاب الزکوٰۃ         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۳۴)

ثقال ساڑھے چار ماشے ہے تو درہم کہ اس کا ۷/۱۰ ہے تین ماشے ایک رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہوا۔ کشف الغطاء میں ہے :مثقال بیست قیراط وقیراط ایک حبہ و چہارخمس حبہ وحبہ کہ آنر ابفارسی سرخ گویند ہشتم حصّہ ماشہ است پس مثقال چہار و نیم ماشہ باشد۔ ۲؎مثقال بیس قیراط، اور قیراط ایک رتی اور رتی کے خمس کی چوتھائی ہوتا ہے، رتی جسے فارسی میں سرخ کہا جاتا ہے ماشہ کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے، تو ایک مثقال ساڑھے چار ماشے کا ہوگا۔

 (۲؎ کشف الغطاء         فصل دراحکام دعاء و صدقہ        مطبع احمدی دھلی ص/۶۸)

واہرالاخلاطی میں ہے:الدرھم الشرعی خمس و عشرون حبۃ و خمس حبّۃ۔ ۳؎یعنی درہم شرعی پچیس رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہے۔

 (۳؎ جواہر الاخلاطی         کتاب الزکوٰۃ         غیر مطبوعہ قلمی نسخہ        ص ۴۴)

اب حساب سے واضح ہوسکتا ہے کہ دوسو درم نصاب فضہ کے ۵۲تولے ۶ماشے اور بیس مثقال، نصاب ذہب کے ۷ تولے ۶ماشے ہوئے اور یہاں کا روپیہ کہ ۱۱ ماشہ ہے اس سے ؎ روپے دوسو درہم کے برابر ہوئے ، یہی وزن معین متون مذہب و عامہ شروح و فتاوٰی میں ہے،

ردالمحتار میں فرمایا:علیہ الجم الغفیرو الجمھور الکثیر و اطباق کتب المتقدمین والمتاخرین۔ ۴؎جم غفیر اور جمہور اسی پر ہیں اور کتب متقدمین و متاخرین کا اسی پر اتفاق ہے۔ (ت)

 (۴؎ ردالمحتار   کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر  ۲ /۳۲)

تو اس کے خلاف پر عمل جائز نہیں، عقودالدریہ وغیر ہا کتب کثیرہ میں ہے:العمل بما علیہ الاکثر۵؎ (عمل اسی پر ہوگا جس پر اکثریت ہو۔

 (۵؎ ردالمحتار            کتاب الزکوٰۃ           مصطفی البابی مصر          ۱ /۱۶۶)

فقیر نے  اپنے تعلیقات حاشیہ شامی میں لکھا:اقول :  ویظہر للعبد الضعیف انہ الا وجہ فان الشرع المطہر انما اعتبر النصاب تحدیدا لغنی یوجب الزکوٰۃ والغنی با لمالیۃ النامیۃ دون العددفمن ملک مائۃ ساوت مائتی درھم فقد ساوی الغنی الشرعی فی الموجب ارأیت لو تعورف فی بلد درھم یساوی فی الوزن مائتی درھم ولم یوجب علیہ الابعد مایملک مائتین من ھذا کان حاصلہ ان من ملک فی العرب مثلا ھذا القدر من الفضۃ کان غنیاقد انعقد علیہ النصاب ومن ملک فی ذلک البلد قریبا من مائتی امثال تلک الفضۃ یکون فقیراً لا یخاطب بالزکوٰۃ بل یحل لہ اخذ الزکوٰۃ فیؤل الی ان من ملک قدر ربیۃ یا مرہ الشرع بان یعطی من ربیتہ لمن یملک مائتی ربیۃ الاواحدۃمسدالخلتہ،فانہ لقلۃ مالہ فقیر وھذا غنی ،ھذا مما لا یقبلہ العقل فافھم، واﷲتعالیٰ اعلم اھ ۱؎ماکتبتہ۔

اقول اس عبدِ ضعیف پر واضح ہوا ہے کہ یہی مختار ہے کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے غنا کی حد بندی کرتے ہوئے ایسے نصاب کا اعتبار کیا ہے جو زکوٰۃ کے وجوب کا سبب ہو اور غنا مالیتِ نامیہ کی وجہ سے ہے نہ کہ تعداد کی وجہ سے، پس جو شخص ایسے سَو کا مالک ہوا جو دوسو درہم کے برابر ہے تو وہ موجب میں غنائے شرعی کے برابر ٹھہرا۔ بتائیے اگر کسی شہر میں ایک ایسا درہم رواج پائے جس کا وزن دوسو درہم کے برابر ہو، تو کیا اس پر زکوٰۃ صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب وہ اس درہم جیسے دوسودرہم کا مالک بنے ، تو حاصل یہ ہوگا کہ کوئی عرب دوسودرہم کے بر ابر چاندی کا مالک بن جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائے کیونکہ وہ نصاب کا مالک ہوکر غنی ہوگیا، اور جو شخص اس بھاری درہم والے شہر میں اس چاندی کے دوسو گنا کے قریب کا مالک بنے وُہ فقیر رہے اور نصاب کا مالک نہ ہونے پر زکوٰۃ لے سکے،تو گویا عدد کے اعتبار سے بات یُوں ہُوئی کہ جو شخص ایک روپے کی مقدار کا مالک ہوا سے شریعت حکم دے رہی ہے کہ وُہ اپنے ایک روپے سے اس شخص کو زکوٰۃ دے جو ایک کم دوسوروپے کا مالک ہے تاکہ اس کی حاجت پُوری ہوسکے کیونکہ یہ قلّتِ مال کی وجہ سے فقیر ہے اور ایک روپے والاغنی ہے، اور یہ ایسی چیز ہے جسے عقل قبول نہیں کرتی ، غور کیجئے۔ واﷲتعالیٰ اعلم (ت)

 ( ۱؎ جد الممتار             باب زکوٰۃ المال         مطبع مبارکپور(بھارت)          ۲/ ۱۲۸)


Navigate through the articles
Previous article چوری سے نقصان زکوۃ سے منہا کرنے کی نیت کرنا کیسا؟
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (194 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu