• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Zakat / زکٰوۃ > طلائی اور نقرئی زیور پر کس قدر زکوۃ ہے؟

طلائی اور نقرئی زیور پر کس قدر زکوۃ ہے؟

Published by Admin2 on 2014/11/4 (819 reads)

New Page 1

مسئلہ ۲۶تا ۲۷: از اٹا وہ کچہری کلکٹری مرسلہ مولوی وصی علی صاحب    ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ

ماقولکم رحمکم اﷲتعالیٰ فی ھا تین المسألتین (اﷲتعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ان دو مسئلوں میں  آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت):

(۱) زید اس وقت ۸ تولے ۶ماشے زیور طلائی اور ۷۹ ماشے زیور نقرئی کا مالک ہے۔

(۲)عمرو سَو تولے چھ ماشے زیور طلائی اور ۲۵۱تولے ۳ ماشے زیور نقرئی کا مالک ہے، دونوں کو کس قدر زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے۔ المستفتی عبدالودود

بموجب ضوابط مندرجہ تحفہ حنفیہ میں نے اس کو یُوں نکالاہے: (۱)۸تولے ۶ماشے جس میں سے ۷-۱/۲ تولے نصاب سونے کے بعد خمس ڈیڑھ تولہ تک نہیں پہنچا لہذا دو ماشے ۲رتی واجب الادا زکوٰۃ ہُوئی اور ایک تولہ عفو ہوا، ۷۹تولے۶ماشے میں ایک نصاب چاندی ۵۲تولے اور ۲خمس۲۱تولے،کل ۷۳ تولے پر ایک تولہ۱۰ماشے ۲/۵رتی واجب  الا دا اور ۶تولے چاندی عفو ہوئی۔ اب دونوں عفو بلحاظ انفع للفقراء ایک تولہ سونے کی ۳۷ تولے ۶ ماشے چاندی اس طرح ہُوئی کہ ایک تولہ سونا بحساب نرخ حال برابر ہے ؎ روپے کے اور ؎ کی چاندی ؎ ۰۶۔۔۔۔۔ چاندی میں ۶ تولے چاندی جو عفو تھی شامل کی گئی تو ۴۱تولے ۶ماشے ہُوئی جس میں ۶ماشے کم چار خمس ہیں:

 (ا)پُورے چارخمس کا ربع عشر ۱۲ماشے ۴-۴/۵سُرخ لیے جو ایک تولہ ۱۰ماشے ۴/۵واجب پر بڑھائے تو۲تولے ۱۰ماشے ۵-۱/۵سرخ واجب الادا ہُوا۔

(ب)اگر تین نصاب خمس ۳۱-۱/۲تولہ اضافہ کیا جائے تو ۹ ماشے۳-۳/۵اضافہ ہوا اور دس۱۰تولے پھر فاضل ہوگا اور ۲ تولے ۷ ماشے ۴ رتی واجب ہوگا، اگر یہ حساب صحیح ہے تو کون سااختیار کیا جائے، الف یا ب ؟

(۲)عمرو والے معاملہ اسی طریقہ سے۱۶-۱/۲تولہ سونے میں ۲ نصاب ۱۵تولے اور ایک خمس ۱-۱/۲ تولہ ہے تو دو۲ نصاب کے ۴ ماشے ۴سُرخ اور خمس کا ۳-۳/۵، کل ۴ ماشے ۷-۳/۵سرخ واجب الادا ہوتا ہے اور عفو کچھ نہیں، اور ۲۵۱ تولے۳ ماشے چاندی میں ۴نصاب ۲۱۰تولے اور تین خمس ۳۱-۱/۲تولے مجرا ہوکر ۹ تولے ۹ ماشے عفو رہتا ہے اور ۴ نصاب کے ۵ تولے ۳ ماشے اور تین خمس کا ربع عشر ۹ ماشے ۳-۳/۵سرخ ہمگیں ۶۰ تولے ۳-۳/۵سرخ واجب الادا ہوتا ہے اب ایک جانب عفو نہیں اور دوسری جانب ہے اس صورت میں ۹ تولے ۹ ماشے عفو کو چھوڑدیا جائے یا اس کو سونا کیا جائے، اگر سونا کیا جائے تو اس کے خمس کا ربع عشر لے کر ۴ ماشے ۷-۳/۵سرخ اضافہ کیا جائے یا کیا؟بینو اتوجروا

الجواب: زکوٰۃ عمر و کا حساب صحیح ہے مگر ۹ تولے ۹ماشے چاندی جبکہ سونا کرنے سے ۱-۱/۲تولہ سونے کی قدر نہ ہوتو اُسے نصاب ذہب میں ملانے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ صورتِ مذکورہ میں وُہ مطلقاًعفورہے گی، ہا ں اگر اپنی صنعت کی وجہ سے اُس مقدار تک پہنچ جائے یا بڑھ جائے تو جتنے خمس نصابِ ذہب اس میں پیدا ہوں گے اُن کا ربع عشر زکوٰۃِ ذہب پر زیادہ کرلیا جائے گا باقی جو خمس کامل سے کم رہا چھوڑا دیا جائے گا، حسابِ زکوٰۃِ زید میں تین سہوواقع ہوئے:

(۱)تولہ بھر سونا کہ اپنی نوع میں عفو تھا جبکہ نرخ حال سے پچیس روپے کا ہے تو اُسے پچیس ہی روپیہ بھر چاندی قرار دیں گے جس کی تئیس۲۳ تولے پانچ ماشے دو۲رتی  چاندی ہوئی کہ روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے نہ یہ کہ تولہ بھر سونے کی قیمت ؎روپیہ لے کر پھر ان ؎ روپے کی چاندی خریدیں اور ۳۷ تولے چاندی قرار دیں سکّہ ہی سے لگائی جاتی ہے نہ کہ پتّھر یا اینٹ سے۔

فتح القدیر میں ہے:التقویم فی حق اﷲتعالیٰ یعتبر با لتقویم فی حق العباد متی قومنا المغضوب اوالمستھلک نقوم بالنقد الغالب کذاھذا۔ ۱؎اﷲتعالیٰ کے حق میں قیمت لگانے کا اعتبار اسی طرح ہوگا جو بندوں کے حق میں مفید ہو جب ہم کسی مغضوب یا ہلاک شدہ چیز کی قیمت لگائیں گے نقد غالب سے لگائیں گے، اسی طرح یہ ہے۔ (ت)

 (۱؎ فتح القدیر  فصل فی العروض مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۶۸)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :یقوم بالمضروبۃ کذافی التبیین۔ ۲؎مضروبہ سے قیمت لگائی جائے گی، جیسا کہ تبیین میں ہے ۔

 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ         الفصل الثانی فی العروض             نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۱۷۹)

پس مقدار مذکور۶ تولے عفو سیم میں ملانے سے ۲۹تولے ۵ ماشے ۲ رتی چاندی ہوئی جس میں صرف ۲ خمس ہیں جن پر ۶ماشے ۲-۲/۵سرخ اور واجب ہو کر کل واجب ذمہ زید سونا ۲ ماشے ۲سرخ ،چاندی ۲ تولے ۴ماشے ۲-۴/۵سرخ۔

(۲)۲۵روپوں کے پھر ۳۷ تولے چاندی اگر کی جائے تو ۶تولے عفو سے مل کر ۴۳تولے ہوتی نہ کہ ۴۱، یہ لغزش قلم تھی ۔

(۳)اگر بالفرض ۳۷تولے اور ملاتے اور حاصل جمع ۴۱ ہی تولے ہوتا حساب ب متعین تھا الف کی طرف کوئی راہ نہ تھی جو خمس سے چاول بھر بھی کم ہے وہ خمس کامل ہر گز نہ مانا جائے گا، یہ ہمیشہ یادرکھا جائے اور فائدہ اولےٰ خوب سمجھ لیا جائے کہ فقیر کا ضابطہ جو تحفہ حنفیہ میں چھپا اس میں اس کی صاف تصریح کی گئی تھی اس کا جاننا اس کے

ضوابط کے اجراء پر معین ہوگا۔ واﷲتعالیٰ اعلم ۔


Navigate through the articles
Previous article چوری سے نقصان زکوۃ سے منہا کرنے کی نیت کرنا کیسا؟
Rating 2.30/5
Rating: 2.3/5 (139 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu