• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Ghusl / Bath / غسل > زانی کا غسل اُترتا ہے یا نہیں؟

زانی کا غسل اُترتا ہے یا نہیں؟

Published by Admin2 on 2012/4/23 (1372 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۱۹: از جنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش پاسوٹولینڈ مسؤلہ حاجی اسمٰعیل میاں بن حاجی امیر م یاں کاٹھ یاواری۔

حضور نے فرما یا ہے کہ زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے۔اس پر زید کہتا ہے کہ کیسے جائز ہو، زانی پر غسل چالیس۴۰روز تک نہیں اُترتا ہے۔کیا زید کا قول سچّا ہے اور زانی کا غسل اُترتا ہے  یا نہیں؟

الجواب: زید نے محض غلط کہا زانی کے ظاہر بدن کی طہارت اول ہی بار نہانے سے فوراً ہوجائے گی ہاں قلب کی طہارت توبہ سے ہوگی اس میں چالیس۴۰دن کی حد باندھنی غلط ہے چالیس۴۰برس توبہ نہ کرے تو چالیس۴۰برس طہارت باطن نہ ہوگی۔اور غسل نہ اُترنے کو ذبیحہ ناجائز ہونے سے کیا علاقہ! طہارت شرط ذبح نہیں، جنب کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی درست ہے بلکہ وہ جن کا غسل فی الواقع کبھی نہیں اُترتا یعنی کافر ان کتابی ان کے ہاتھ کا ذبیحہ سب کتابوں بلکہ خود قرآن عظیم میں حلال فرما یا ہے:طعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۱؎۔کتابیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے۔

  (۱؎ القرآن    ۵/۵)

اور کفّار کا کبھی غسل نہ اُترنا اس لئے کہ غسل کا ایک  فرض تمام دہن کے پُرزے پُرزے کا حلق تک دُھل جانا ہے، دوسرا فرض ناک کے دونوں نتھنوں میں پُورے نرم بانسے تک پانی چڑھنا اول اگرچہ ان سے ادا ہوجاتا ہو جبکہ بے تمیزی سے مُنہ بھر کر پانی پئیں مگر دوم کے لئے پانی سُونگھ کر چڑھانا درکار ہے جسے وہ قطعاً نہیں کرتے بلکہ آج لاکھوں جاہل مسلمان اس سے غافل ہیں جس کے سبب اُن کا غسل نا درست اور نمازیں باطل ہیں نہ کہ کفار۔

امام ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں: فی المحیط نص محمد فی السیر الکبیر فقال و ینبغی للکافر اذا اسلم ان یغتسل غسل الجنابۃ لان المشرکین لایغتسلون من الجنابۃ ولایدرون کیفیۃ الغسل اھ۔وفی الذخیرۃ من المشرکین من لایدری الاغتسال من الجنابۃ ومنھم من یدری کقرشی فانھم توارثوا ذلک من اسمٰعیل علیہ الصّلٰوۃ والسلام الا انھم لایدرون کیفیتہ لایتمضمضون ولایستنشقون وھما فرضان الا تری ان فرضیۃ المضمضۃ والاستنشاق خفیت علی کثیر من العلماء فکیف علی الکفار فحال الکفار علی مااشار الیہ فی الکتاب اما ان لایغتسلوا من الجنابۃ اویغتسلون ولکن لایدرون کیفیتہ وای ذلک کان یؤمرون بالاغتسال بعد الاسلام لبقاء الجنابۃ وبہ تبین ان ماذکر بعض مشایخنا ان الغسل بعد الاسلام مستحب فذلک فیمن لم یکن اجنب اھ۔مختصرا ۱؎۔

محیط میں ہے: ''امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے سِیر کبیر میں تصریح فرمائی ہے کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اُسے غسلِ جنابت کرنا چاہئے کیونکہ مشرکین جنابت کا غسل نہیں کرتے اور نہ ہی غسل کا طریقہ جانتے ہیں'' (انتہی)۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ بعض مشرک غسلِ جنابت کا علم نہیں رکھتے اور بعض جیسے کفارِ قریش جانتے ہیں کیونکہ وہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے نسلاً بعد نسلٍ ایسا کرتے آئے ہیں لیکن وہ اس کا طریقہ نہیں جانتے ہیں وہ نہ کُلی کرتے ہیں نہ ناک میں پانی چڑھاتے ہیں حالانکہ یہ دونوں باتیں فرض ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کُلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کی فرضیت بہت سے اہلِ علم پر مخفی ہے تو کفار پر اس کے پوشیدہ رہنے کا کیا حال ہوگا لہذا کفار کا وہی حال ہے جس کی طرف انہوں نے (امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے) کتاب (سِیر کبیر) میں اشارہ فرما یا کہ  یا تو وہ غسلِ جنابت کرتے ہی نہیں  یا غسل تو کرتے ہیں لیکن اس کا طریقہ نہیں جانتے۔ جو بھی بات ہو بہرحال اسلام لانے کے بعد ان کو غسل کرنے کا حکم د یا جائےگا کیونکہ جنابت باقی ہےاس سے ظاہر ہوا کہ بعض مشایخ کا یہ کہنا کہ اسلام لانے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔ اس شخص کے بارے میں ہے جو جنبی نہ ہو اھ مثلاً بلوغ سے پہلے اسلام لے آ یا (مختصراً)(ت)

 (۱؂ حلیہ )

ہاں یہ اور بات ہے کہ بحال جنابت بلاضرورت ذبح نہ چاہئے کہ ذبح عبادت الٰہی ہے جس سے خاص اُس کی تعظم چاہی جاتی ہے پھر اُس میں تسمیہ وتکبیر ذکرِ الٰہی ہے تو بعد طہارت اولٰی ہے اگرچہ ممانعت اب بھی نہیں۔

دُرمختار میں ہے: لایکرہ النظر الی القراٰن لجنب کما لا تکرہ ادعیۃ ای تحریما والا فالوضوء لمطلق الذکر مندوب وترکہ خلاف الاولٰی۱؎ ۔واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

جنبی کے لئے دُعائیں پڑھنے کی طرح قرآن پاک کو دیکھنا بھی مکروہ نہیں اور اس سے مکروہ تحریمیہ مراد ہے ورنہ مطلق ذکر کےلئے وضو کرنا مستحب ہے اور اس کا چھوڑنا خلافِ اولٰی ہے۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے


Navigate through the articles
Previous article دانتوں پر چونا کتھا جما ہو تو غسل کا حکم غسل فرض ہو تو سلام کا جواب دے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (267 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu