• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Wudhu / Ablution / وضو > سُوتی موزہ پر مسح جائز ہے یا نہی

سُوتی موزہ پر مسح جائز ہے یا نہی

Published by Admin2 on 2012/4/24 (1135 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۴۰: از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملّا یعقوب علی خان    ۱۵۔جمادی الاولٰی ۱۳۱۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُوتی موزہ پر مسح جائز ہے  یا نہیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب:  سُوتی  یا اُونی موزے جیسے ہمارے بلاد میں رائج ان پر مسح کسی کے نزدیک  درست نہیں کہ نہ وہ مجلد ہیں

یعنی ٹخنوں تک چمڑا منڈھے ہوئے نہ منعل یعنی تلاچمڑے کا لگا ہوا نہ ثخین یعنی ایسے دبیز ومحکم کہ تنہا اُنہیں کو پہن کر قطع مسافت کریں تو شق نہ ہوجائیں اور ساق پر اپنے دبیز ہونے کے سبب بے بندش کے رُکے رہیں ڈھلک نہ آئیں اور اُن پر پانی پڑے تو روک لیں فوراً پاؤں کی طرف چھن نہ جائے جو پائتابے ان تینوں وصف مجلد منعل ثخین سے خالی ہوں اُن پر مسح بالاتفاق ناجائز ہے۔ ہاں اگر اُن پر چمڑا منڈھ لیں  یا چمڑے کا تلا لگالیں تو بالاتفاق  یا شاید کہیں اُس طرح کے دبیز بنائے جائیں تو صاحبین کے نزدیک  مسح جائز ہوگا اور اسی پر فتوٰی ہے۔

فی المنیۃ والغنیۃ (المسح علی الجوارب لایجوز عند ابی حینفۃ الا ان یکونا مجلدین) ای استوعب الجلد مایستقر القدم الی الکعب (اومنعلین) ای جعل الجلد علی ما یلی الارض منھما خاصۃ کالنعل للرجل (وقالایجوز اذاکانا ثخینین لایشفان) فان الجورب اذاکان بحیث لایجاوز الماء منہ الی القدم فھو بمنزلۃ الادیم والصرم فی عدم جذب الماء الی نفسہ الابعد لبث اودلک بخلاف الرقیق فانہ یجذب الماء وینفذہ الی الرجل فی الحال ۱؎۔

منیہ اور غنیہ میں ہے (امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک  جرابوں پر مسح جائز نہیں مگر یہ کہ چمڑے کی ہوں) یعنی اس تمام جگہ کو گھ یرلیں جو قدم کو ٹخنوں تک ڈھانپتی ہے ( یا منعل ہوں) یعنی جرابوں کا جو حصّہ زمین سے ملتا ہے صرف وہ چمڑے کا ہو، جیسے پاؤں کی جُوتی ہوتی ہے (اور صاحبین نے فرما یا اگر (جرابیں) ایسی دبیز ہوں کہ نہ کھلتی ہوں تو مسح جائز ہے کیونکہ اگر جراب اس طرح کی ہو کہ پانی قدم تک تجاوز نہ کرے تو وہ جذب کرنے کے حق میں چمڑے اور چمڑا چڑھائے ہوئے موزے کی طرح ہے مگر کچھ د یر ٹھہرنے  یا رگڑنے سے پانی جذب کرے تو کوئی حرج نہیں بخلاف پتلی جراب کے، کہ وہ پانی کو جذب کرکے فوراً پاؤں تک پہنچاتی ہے۔(ت)

 (۱؎  غنیۃ المستملی،  فصل فی المسح علی الخفین    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۲۰)

 (وعلیہ) ای علی قول ابی یوسف ومحمد (الفتوی والثخین ان یستمسک علی الساق من  غیر ان یشد بشیئ) ھکذا فسروہ کلھم وینبغی ان یقید بما اذا لم یکن ضیقا فانا نشاھد مایکون فیہ ضیق یستمسک علی الساق من  غیرشد والحدبعدم جذب الماء اقرب وبمایمکن فیہ متابعۃ المشی اصوب۔

 (وعلیہ) یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے قول پر (فتوٰی ہے، اور ثخین وہ ہے کہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلی پر ٹھہر جائے) تمام فقہا نے اس کی یونہی وضاحت کی ہے لیکن مناسب ہے کہ اس کے ساتھ تنگ نہ ہونے کی قید لگائی جائے کیونکہ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ جو جراب تنگ ہو وہ باندھے بغیر بھی پنڈلی پر ٹھہر جاتی ہے۔ موزے کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ پانی کو جذب نہ کرے اور اس کے ساتھ لگاتار چلنا ممکن ہو، حق کے ز یادہ قریب اور بہترین تعریف ہے۔(ت)

وقدذکر نجم الدین الزاھدی عن شمس الائمۃ الحلوانی ان الجوارب من الغزل والشعر ماکان رقیقا منھا لایجوز المسح علیہ اتفاقا الاان یکون مجلدا اومنعلا وماکان ثخینا منھا فان لم یکن مجلدا اومنعلا فمختلف فیہ وماکان فلاخلاف فیہ ۱؎ اھ۔ ملتقطا۔

نجم الدین زاہدی نے شمس الائمہ حلوانی سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اُون اور بالوں سے بنی ہوئی جرابیں پتلی ہوں تو بالاتفاق ان پر مسح جائز نہیں جب تک وہ مجلّد  یا منعل نہ ہوں اور اگر وہ (دبینر ہوں تو ان میں سے جو مجلّد اور منعل نہ ہوں ان پر مسح کرنے میں اختلاف ہے جبکہ مجلّد اور منعل میں کوئی اختلاف نہیں، انتہی انتخاباً۔ (ت)

 (۱؎  غنیۃ المستملی        فصل فی المسح علی الخفین    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۲۱)

قلت وھھنا وھم عرض للمولی الفاضل اخی یوسف چلپی فی حاشیۃ شرح الوقا یۃ فلاعلیک  منہ بعد ماسمعت نص امام الشان شمس الائمۃ وکذلک نص فی الخلاصۃ بمایکفی لازاھتہ کماحققہ فی الغنیۃ وذکر طرفا منہ فی ردالمحتار فراجعھا ان شئت واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

فاضل اخی یوسف چلپی کو حاشیہ شرح وقایہ کے اس مقام پر ایک  وہم ۲؎ ہوا۔ لہذا امام الشان شمس الائمہ کی تصریح سننے کے بعد اب تمہیں وہ قول اخت یار نہیں کرنا چاہئے، اسی طرح خلاصہ میں بھی تصریح ہے جو اس کے ازالہ کے لئے کافی ہے جیسا کہ غنیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور کچھ بحث ردالمحتار میں بھی مذکور ہے اگر چاہو تو وہاں رجوع کرو۔ اور اللہ سبحانہ، وتعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت) ۲؎ چلپی نے فرما یا اگر وہ ثخین نہ ہو تو نیچے چمڑا چڑھا ہونے کے باوجود مسح جائز نہیں۔

 (  ذخیرۃ العقبٰی ص۵۲)


Navigate through the articles
Previous article کتا کنوئیں میں گر جائے تو؟ بُوٹ کیا چمڑے کے موزے کا حکم رکھتا ہے Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (282 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu