• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Women / خواتین > حیض والی کوسپیدی آنے پر بے نہائے صحبت کرنا

حیض والی کوسپیدی آنے پر بے نہائے صحبت کرنا

Published by Admin2 on 2012/4/24 (1244 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۴۵  از علی گڑھ    ۵۔ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

سوال اوّل: ایک  عورت کو آٹھ دن سے کم حیض ہوتا ہے سپیدی آجانے کے بعد بے نہائے اس سے صحبت کرنا جائز ہے  یا نہیں؟ بینوّا توجّروا۔

الجواب جو حیض اپنی پُوری مدّت یعنی دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو۲ صورتیں ہیں  یاتو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آ یا تھا اُتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خُون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات۷ دن آ یا تھا اب بھی سات  یا آٹھ روز آکر ختم ہُوا  یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آ یا اور دس۱۰ دن سے کم میں ختم ہوا تو اُس سے صحبت جائز ہونے کےلئے دو۲ باتوں سے ایک  بات ضرور ہے  یا(۱) تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض  یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے خالی تیمم کافی نہیں  یا(۲) طہارت نہ کرے تو اتنا ہوکہ اس پر کوئی نمازِفرض فرض ہوجائے یعنی نماز پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پا یا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک  چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی اس صورت میں بے طہارت کے بھی اُس سے صحبت جائز ہوجائے گی ورنہ نہیں مگر یہ کہ عورت کتابیہ یہودیہ  یا نصرانیہ ہو تو اُس سے مطلقاً بے نہائے صحبت جائز ہے جبکہ انقطاع حیض ا یام عادت سے کم میں نہ ہوا ہو۔

فی الدر المختار یحل وطؤھا اذا انقطع حیضھا لاکثرہ بلا غسل وجوبا بل ندبا وان انقطع لاقلہ فان لدون عادتھا لم یحل (الوطؤ وان اغتسلت لان العود فی العادۃ غالب بحر) وان لعادتھا فان کتاب یۃ حل فی الحال (لانہ لااغتسال علیھا لعدم المطالب) والالایحل حتی تغتسل اوتتیمم بشرطہ (ھو فقد الماء بہ والصلٰوۃ بہ علی الصحیح کمایعلم من النھر و غیرہ وبھذا ظھر ان المراد التیمم الکامل المبیح للصلاۃ مع الصلاۃ بہ ایضا) اویمضی علیھا زمن یسع الغسل ولبس الث یاب والتحریمۃیعنی من آخر الوقت لتعلیلھم بوجوبھا فی ذمتھا حتی لوطھرت فی وقت العید لابد ان یمضی وقت الظھر کمافی السراج ۱؎ اھ مزیدا من ردالمحتار ۲؎۔

درمختار میں ہے: اگر عورت کا حیض، ز یادہ دنوں کے بعد ختم ہو تو اس کے ساتھ غسل واجب بلکہ مستحب غسل سے بھی پہلے وطی کرنا جائز ہے اور اگر کم از کم مدت میں ختم ہو تو (دیکھیں گے) اگر عادت سے کم میں ختم ہو تو جماع جائز نہیں اگرچہ غسل کرلے کیونکہ عادت کی طرف لَوٹنا غالب ہے (بحرالرائق) اگر عادت کے مطابق ختم ہوا تو کتابیہ ہونے کی صورت میں اسی وقت وطی حلال ہوجائےگی کیونکہ اس پر غسل واجب نہیں اس لئے کہ اس سے (غسل کا) مطالبہ کرنے والی چیز (یعنی اسلام) نہیں۔ اگر وہ کتابیہ نہیں تو جب تک غسل  یا شرائطِ تیمم پائے جانے کی صورت میں تیمم نہ کرے اس سے جماع جائز نہیں۔ صحیح قول کے مطابق (اس کےلئے تیمم کی) شرط یہ ہے کہ پانی نہ ہونا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا ہے جیسا کہ نہر (نہرالفائق) و غیرہ سے معلوم ہوتا ہے اس سے ظاہر ہوا کہ تیمم کامل مراد ہے جس سے نہ صرف یہ کہ نماز پڑھنا جائز ہوجائے بلکہ اس کے ساتھ نماز بھی پڑھ لے)  یا اتنا وقت گزر جائے جس میں غسل کرکے کپڑے پہننے اور تکبیر تحریمہ کی گنجائش ہوکیونکہ انہوں نے اسی بات کو عورت کے ذمہ (نماز) واجب ہونے کی علت قرار د یا ہے حتی کہ اگر عید کے وقت پاک ہوجائے تو اس پر وقتِ ظہر گزرنا ضروی ہے جیسا کہ سراج میں ہے (انتہی) یہ ردالمحتار سے اضافہ کے ساتھ ہے۔

 (۱؎ دُرمختار        باب الحیض        مطبوعہ مجتبائی دہلی            ۱/۵۱)

(۲؎ ردالمحتار         باب الحیض        مصطفی البابی مصر            ۱/۲۱۵)

ورأیتنی کتبت علی قولہ ولیس الثیاب مانصہ ای المبیحۃ للصلاۃ ولورداء واحدا یسترھا من قرنھا الی قدمھا لان المقصود کون الصلاۃ دینا علیھا وذلک یحصل بھذا القدر ولذا استظھر العلامۃ الحلبی فی الغسل ان المراد قدر الفرض وھو ظاھر ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

اور میرا خیال ہے کہ میں نے اس (دُرمختار) کے قول ''ولیس الثیاب'' پر لکھا ہے کہ اس سے وہ کپڑے مراد ہیں جن کے ساتھ نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ ایک  چادر ہو جو سر سے قدموں تک اسے ڈھانپ لے کیونکہ مقصد تو نماز کا اس کے ذمہ فرض ہونا ہے اور یہ اس مقدار سے حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے علامہ حلبی نے غسل کے بارے میں بتا یا کہ اس سے فرض کا اندازہ مراد ہے اور یہی ظاہر ہے واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)

 (۳؎ جدّ الممتار علی الدر المختار    باب الحیض    اللمجمع الاسلامی مبارکپور ہندوستان    ص۱۶۴)


Navigate through the articles
Previous article دوران نماز حیض آئے تو اس نماز کی قضا ہے یا نہیں؟ عورت سے ران یا پیٹ وغیرہ پر فراغت حاصل کرنا کیسا؟ Next article
Rating 2.69/5
Rating: 2.7/5 (258 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu