• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Misc. Topics / متفرق مسائل > شرعی معذور کے احکام

شرعی معذور کے احکام

Published by Admin2 on 2012/4/25 (1365 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۵۶: از لکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب    ۷۔جمادی الاولٰی ۱۳۱۳ھ

ما تقولون ایھا السادۃ العلماء فی من لایستطیع ان یصلی صلاۃ واحدۃ الابوضع القطن فی الاحلیل لمابہ من سلس البول وجریانہ فی کل وقت بحیث یبتل رأس احلیلہ وینجس ازارہ ھل ھو معذور عند الشرع ویجری علیہ احکام المعذورین من الوضوء فی کل وقت واداء الصلٰوۃ بذلک الثوب وعدم صلوحہ لامامۃ الناس وغیرھا من الاحکام ام لاوکیف یصلی فی الاسفار سیما اذاکان علی الوابور البری ای المرکب الدخانی الذی یجری فی کثیر من بلادنا فان فی وضع القطن ھناک فی الاحلیل تعذرا ای تعذر بینوا ھذا وفصلوا بمالامزید علیہ من الکتاب والسنۃ واقاویل السلف واستحقوا الثواب الجزیل من اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی فی غدان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

 

اے رہبری کرنے والے علماء کرام! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آلہ تناسل کے سوراخ میں رُوئی رکھے بغیر ایک نماز بھی نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ سلسل البول کا مریض ہے اور اس کا پیشاب ہر وقت اس طرح جاری رہتا ہے کہ عضو مخصوص کے سوراخ کا سر تر رہتا ہے اور اس کی ازار ناپاک رہتی ہے کیا وہ شرعی طور پر معذور ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوں گے کہ وہ ہر وقت کیلئے وضو کرے اور وہ اس ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکے نیز وہ لوگوں کی امامت کرانے اور اس طرح کے دیگر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، یا وہ معذور نہیں ہے۔ وہ سفر میں نماز کیسے پڑھے خصوصاً جب بھاپ سے چلنے والی گاڑی پر ہو جو ہمارے اکثر شہروں چلتی ہیں کیونکہ وہاں سوراخِ ذَکر میں رُوئی رکھنے میں کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے قرآن وسنّت اور اقوالِ سلف سے اس طرح تفصیل سے بیان فرمائیں کہ مزید گنجائش نہ رہے اور کل (بروز قیامت) اللہ سبحانہ، وتعالٰی کی طرف سے عظیم ثواب کے مستحق ہوں، اِن شاء اللہ تعالٰی۔ (ت)

الجواب: الحمدللّٰہ وحدہ اذاکان احتشاؤہ یردمابہ کماوصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس ویؤم کل نفس ولایعذر فی ترک الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ قال فی الدر یجب ردعزرہ اوتقلیلہ بقدر قدرتہ ولوبصلاتہ مؤمنا وبردہ لایبقی ذاعذر ۱؎ اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ والمسألہ ظاھرۃ وفی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ ولیسفلہ ولیربط العضو الی فوق ۔

تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو یکتا ہے۔ اگر رُوئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایک کی امامت کراسکتا ہے اس سے رُوئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا بلکہ نماز کی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ دُرمختار میں ہے:''حسبِ طاقت عذر کو دُور کرنا یا کم کرنا واجب ہے اگرچہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کے ذریعے وہ اور اس کو دُور کرنے کے بعد وہ معذور نہیں رہے گا اھ البحرالرائق وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زادِ راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں رُوئی کا اضافہ  کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے رُوئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اور اوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔

 (۱؎ درمختار    فروع من باب الحیض    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۳)

وذکر العلامۃ الشامی فی ردالمحتار ان من کان بطئ الاستبراء فلیفتل نحوورقۃ مثل الشعیرۃ ویحتشی بھافی الاحلیل فانھا تتشرب مابقی من اثرالرطوبۃ التی یحاف خروجھا وینبغی ان یغیب فی المحل لئلا تذھب الرطوبۃ الی طرفھا الخارج وللخروج من خلاف الشافعی وقدجرب ذلک فوجد انفع من ربط المحل لکن الربط اولٰی اذاکان صائما لئلا ےیفسد صومہ علی قول الامام الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اعلم اھ ۱؎۔

علّامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا جس شخص کو تاخیر سے طہارت حاصل ہوتی ہو وہ جَو کے دانے برابر (روئی وغیرہ کا) پتّا وغیرہ بٹ کراسیعضو مخصوص کے سوراخ میں ڈالے وہ رطوبت کے باقیماندہ اثر کو جس کے نکلنے کا ڈر ہے جذب کرلے گا اور چاہے کہ اسے اندر غائب کردے تاکہ رطوبت اس کی باہر والی جانب نہ نکلے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک کے خلاف عمل کرنے سے بھی بچ جائے گا۔ اس کا متعدد بار تجربہ کیا گیا اور اسے باندھنے سے زیادہ نافع پایا لیکن جب روزہ دار ہو تو باندھنا زیادہ بہتر ہے تاکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول پر (بھی) اس کا روزہ نہ ٹوٹے اھ

 (۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجائ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۳)

اقول:  لکن مجرد الربط لایسد الخلۃ لصاحب السلس فھویجب علیہ الاحتشاء کماذکرنا ولامراعاۃ للخلاف فی اتیان الواجبات وعندی احسن من وضع المفتول ان یأخذو رقۃ لھاصلابۃ مع نعومۃ کورقۃ التمر الھندی فیطویہ طیا ویحتشی بہ بحیث یکون وسطہ داخلا ویبقی طرفاہ عندراس الاحلیل فانہ اجدی واحری لسد المجری فان خشی الخروج ربط المحل الٰی فوق کماوصفنا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اقول :(میں کہتا ہوں) سلسل البول والے کیلئے محض باندھنا سوراخ کو بند نہیں کرتا اس میں (رُوئی وغیرہ) داخل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور واجب کی ادائیگی میں اختلاف (سے بچنے) کی رعایت نہیں کی جاتی اور میرے نزدیک بٹی ہوئی چیز رکھنا نہایت اچھّا ہے وہ یوں کہ ایک پتّا جو سخت ہونے کے ساتھ کچھ نرم بھی ہو، جیسے ہندی کھجور کا پتّا ہوتا ہے، لیا جائے اور خوب لپیٹ کر سوراخ میں اس طرح داخل کرے کہ اس کا درمیانی حصّہ داخل ہوجائے اور کنارے آلہ تناسل کے کنارے کے پاس رہ جائیں۔ جریان کو بند کرنے کیلئے یہ طریقہ نہایت نافع اور زیادہ مناسب ہے اگر نکلنے کا ڈر ہو تو اُوپر سے اس جگہ کو باندھ دے، جیسا کہ ہم نے طریقہ بیان کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)


Navigate through the articles
Previous article غیراللہ کے جانور کے چمڑے سے نفع جائز ہے یا نہیں؟ ہاتھی دانت کا استعمال کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.74/5
Rating: 2.7/5 (178 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu