• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > ذبح کے جانور کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہوتو؟

ذبح کے جانور کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہوتو؟

Published by Admin2 on 2012/5/8 (1108 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۷۰: از اندور صدربازار چھاؤنی بانسری صاحب قریب مکان بابودین دیال

مرسلہ میاں عبدالقادر صاحب یکم رجب ۱۳۰۸ھ

چہ می فرمایند علمائے ذوی الاقتدار ومفتیان ورع شعاردریں مسئلہ کہ مردے میگوید کہ ماکیان مذبوحہ رابدون برآوردن پروچاک شکمش درآب گرم انداختہ برون برآوردہ پرہاے برکندہ پزانندپس بعدم چاک شکم اوکہ آلایش بطنی اندرونش بودمردار گردیدہ ازیں باعث تشکیک است ورحلت وحرمت آں جانور مذبوجہ صورت ایں مسئلہ چگونہ است بیان فرمایند

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور متقی مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ ذبح کی ہوئی مُرغیوں کے پَر اکھیڑنے اور پیٹ چاک کیے بغیر ان کو گرم پانی میں ڈالتے ہیں پھر باہر نکال کر پَر اکھاڑ کر پکاتے چونکہ پیٹ چاک نہ کرنے کی وجہ سے پیٹ کی آلائش اندر ہی رہتی ہے لہذا وہ مردار ہوگیا۔ بنابریں اس مذبوحہ جانور کے حلال وحرام ہونے میں شک پیدا ہوگیا

بسند عبارت کتب علماء رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔اس مسئلہ کی کیا صورت ہوگی۔ علمائے کرام رحمہم اللہ کی کتابوں سے حوالہ دیتے ہوئے بیان فرمائیں۔

الجواب: پیداست کہ مراد اینان ازنیکار یختن ماکیان دریں آب نمی باشد بلکہ ہمیں ایصال حرارتے لظاہر جلدش تامواضع بینحاے پرسست ونرم شود وبرکندن نیز آساں گردر اینقدر راتیزگرم آبی کہ بحدجوش وغلیان رسیدہ باشد ضرورنیست نہ درنگ بسیارے کہ باعث نفوذ آب وجزآں دراجزائے باطنہ لحم باشدبلکہ اگر ایں چنیں کنند مقصود ایشاں رازیاں دارد پس ہمیں قدر کہ درآب فاترے نہادند یادرجوشش آب مہلت بسیارے ندادند نجاست باجزائے گوشت سرایت نمی کندہمیں بسطوح ظاہرہ میر سد لہذا دریں صورت حکم مردار زنہارنتواں دادطہارت وحلت اور اہمیں بسندست کہ لحم را سہ باربہ آب شویند وفشرند وبکاربرند۔

ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کا مقصد مرغیوں کو اس پانی میں پکانا نہیں ہے بلکہ یہی ان کی ظاہری جلد کو حرارت پہنچاتا ہے تاکہ پَر کی جڑوں والی جگہ ڈھیلی اور نرم پڑ جائے اور پروں کا اکھاڑنا آسان ہوجائے۔ اس کام کیلئے اتنے گرم پانی کا ہونا ضروری نہیں جو جوش کی حالت کو پہنچ چکا ہو نہ ہی زیادہ ٹھہرنا جو پانی اور اس کے اجزا کا گوشت کے اندرونی اجزاء میں سرایت کرنے کا باعث بنے بلکہ اگر وہ ایسا کریں تو اُن کے مقصد میں نقصان ہوگا۔ پس اتنے کام سے کہ نیم گرم پانی میں رکھیں یا اُبلے ہوئے پانی میں زیادہ دیر نہ رکھیں نجاست، گوشت کے اجزاء میں سرایت نہیں کرتی محض ظاہری سطح تک پہنچتی ہے لہذا اس صورت میں ہرگز مردار ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور اس کے پاک وحلال ہونے کیلئے یہی کافی سند ہے کہ گوشت کو تین بار پانی سے دھوئیں اور نچوڑیں اور کام میں لائیں۔ (ت)

آرے اگر ماکیان بحالت غلیان وفوران آب آں مقدار در آب مکث کرد کہ نجاست باطن بسبب جوش ودرنگ درقعر وعمق لحم نفود نمود آنگاہ برقول مفتی بہ حکم مردار پیدا کندکہ بہےیچ حیلہ او را طاہر وحلال نتواں ساخت۔

البتہ اگر مرغیوں کو اُبلتے ہوئے پانی میں اتنا وقت رکھیں کہ پانی کے جوش اور اس میں ٹھہرنے کی وجہ سے اندر کی نجاست گوشت کی گہرائیوں میں سرایت کرجائے تو اس وقت مفتٰی بہ قول کے مطابق وہ مردار ہوجائیں گی، کیونکہ اسے کسی طریقے سے بھی پاک اور حلال نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)

امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الملۃ دالدین محمد بن الہمام قدسنا اللہ تعالٰی بسرہ الکریم درفتح القدیر فرماید:

محقق علی الاطلاق، دین وملت میں کامل، سیدی امام محمد بن ہمام، اللہ تعالٰی ان کی ذاتِ والا صفات سے ہمیں برکت عطا فرمائے، فتح القدیر میں فرماتے ہیں: لوالقیت دجاجۃ حالۃ الغلیان فی الماء قبل ان یشق بطنھا لنتف اوکرش قبل الغسل لایطھر ابدا لکن علی قول ابی یوسف یجب ان یطھر علی قانون ماتقدم فی اللحم۔

اگر تم مرغی کے پیٹ کو چاک کرنے سے پہلے اسے دھوئے بغیر پَر اُکھاڑنے کے لئے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈال دی تو وہ کبھی بھی پاک نہ ہوگی البتہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر گوشت کے بارے میں جو قانون گزر چکا ہے اس کا پاک ہونا ثابت ہے۔

قلت وھو سبحٰنہ اعلم ھو معلل بتشربھا النجاسۃ المتخللۃ فی اللحم بواسطۃ الغلیان وعلی ھذا اشتھران اللحم السمیط بمصر نجس لایطھر لکن العلۃ المذکورۃ لاتثبت حتی یصل الماء الی حد الغلیان ویمکث فیہ اللحم بعد ذلک زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم وکل من الامرین غیر متحقق فی السمیط الواقع حیث لایصل الماء الی حد الغلیان ولایترک فیہ الامقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف بل ذلک الترک یمنع من جودۃ انقلاع الشعر فالاولی فی السمیط ان یطھر بالغسل ثلثا لتنجس سطح الجلد بذلک الماء فانھم لایتحرسون فیہ عن المنجس ۔

قلت وہوسبحنہ اعلم اس مذکور بالا قول کی علّت یہ ہے کہ پانی کے جوش کے باعث وہ نجاست گوشت کے اندر جذب ہوجاتی ہے، اسی بنیاد پر مشہور ہے کہ مصر میں سمیط (بکری کا بچہ جس کے بال صاف کرکے اسے بھُون لیا جائے) کا گوشت ناپاک شمار ہوتا ہے وہ پاک نہیں ہوتا، لیکن یہ علت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک پانی جوش کی حد کو نہ پہنچ جائے اور اس کے بعد اس میں گوشت اتنی دیر تک نہ ٹھہرا رہے جس سے پانی گوشت کے اندر داخل ہوکر جذب ہوجائے۔ اور سمیط میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں کیونکہ نہ تو پانی جوش کی حد کو پہنچتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں اتنی دیر چھوڑا جاتا ہے کہ حرارت، جِلد کی سطح کے نیچے پہنچ جائے اور بالوں کے نیچے مساموں میں داخل ہوجائے بلکہ اس کو اس قدر (پانی میں) چھوڑنا اچھی طرح بال اکھاڑنے سے بھی مانع ہے پس سمیط کے بارے میں بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ اِس نجس پانی سے جِلد کا ظاہر ناپاک ہوگیا لہذا تین باردھونے سے پاک ہوجائے گا کیونکہ وہ لوگ ناپاک کرنے والی چیز سے پرہیز نہیں کرتے۔

وقدقال شرف الائمۃ بھذا فی الدجاجۃ والکرش والسمیط مثلھما ۱؎ اھ۔شرف الائمہ نے مرغی اور کرش (جگالی کرنے والے جانوروں کی اوجھڑی) کے بارے میں یہی بات فرمائی اور سمیط ان دونوں کی مثل ہے الخ۔

( ۱؎ فتح القدیر        آخر باب الانجاس وتطہیرھا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۸۶)

وقال قدس سرہ قبل ذلک ناقلا عن التجنیس طبخت الحنطۃ فی الخمر قال ابویوسف تطبخ ثلثا بالماء وتجفف کل مرۃ وکذا اللحم وقال ابوحنیفۃ لاتطھر ابدا وبہ یفتی اھ قال والکل عند محمد لاتطھر ابدا ۲؎۔

صاحبِ فتح القدیر قدس سرہ، نے اسے پہلے تجنیس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ گندم، شراب میں پکائی گئی اس کے بارے میں امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں اسے تین بار پانی میں پکایا جائے اور ہر بار خشک کیا جائے۔ گوشت کا بھی یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کبھی پاک نہیں ہوگی اور اسی پر فتوٰی ہے اھ اور فرمایا یہ سب کچھ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک پاک نہیں ہوتا۔ (ت)

 (۲؎ فتح القدیر        آخر باب الانجاس وتطہیرھا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۸۵)

وازینجا بوضوح پیوست کہ ہرکہ ایں کارخواہدا ولے واحوط درحقش آنست کہ اولاً ماکیان راشکم چاک وازامعا پاک کندوخون مسفوح کہ بمحل ذبح منجمد مے شود شوید پس ازاں بہرآبے کہ خواہد تہدتا ازنجس شدن لحم ایمن ماند سید علّامہ احمد طحطاوی درحاشیہ درمختارفرمودہ فالاولی قبل وضعھا فی الماء المسخن ان ےیخرج مافی جوفھا ویغسل محل الذبح مما علیہ من دم مسفوح تجمد ۳؎ اھ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو شخص یہ کام کرنا چاہے اس کیلئے بہتر اور زیادہ محتاط یہ ہے کہ پہلے مرغی کا پیٹ چاک کرکے اسے آنتوں سے پاک کرے اور بہنے والے خون کو جو گردن وغیرہ پر جم جاتا ہے دھولے اس کے بعد جس پانی میں چاہے رکھے تاکہ گوشت کے ناپاک ہونے سے مطمئن ہو۔ علّامہ احمد طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا بہتر یہ ہے کہ گرم پانی میں رکھنے سے پہلے جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے نکال لیا جائے اور ذبح کے مقام سے جما ہوا خون مسفوح دھولیا جائے اھ۔ (ت)

 (۳؎ طحطاوی حاشیہ درمختار    آخر باب الانجاس    دار المعرفۃ بیروت لبنان       ۱/۱۶۴)


Navigate through the articles
Previous article چھپکلی سرکہ میں گر جائے تو؟ پڑیا کے رنگ ہوئے کپڑے سے نماز درست ہے Next article
Rating 3.01/5
Rating: 3.0/5 (253 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu