• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > نجاستوں کے پاک کرنے کا طریقہ

نجاستوں کے پاک کرنے کا طریقہ

Published by Admin2 on 2012/5/9 (969 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۷۳:مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رام پُوری۲۰۔ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نجس چیز ایک مرتبہ میں پاک ہوگی بغیر مبالغہ کے یا نہیں بینوا توجروا۔

الجواب: نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشک ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اُس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں بلکہ زوال عین درکار ہے خواہ ایک بار میں ہوجائے یا دس بار میں مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل تو زوال اثر مثل رنگ وبو ضرور لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائےگا، صابُون یا گرم پانی وغیرہ سے چھُڑانے کی حاجت نہیں۔

درمختار میں ہے: یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بعد جفاف بزوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبمافوق ثلث فی الاصح ولایضربقاء اثرکلونٍ وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الٰی ماء حار اوصابون ونحوہ ۱؎ اھ ملخصا۔

اصح قول کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ سے عینِ نجاست اور اس کا اثر دُور کیا جائے، خواہ ایک مرتبہ سے یا تین۳ سے بھی زیادہ مرتبہ سے دور ہو تو خشک ہونے کے بعد پاک ہوجاتی ہے، اور ایسا اثر جو اس کے لئے لازم ہوچکا ہے (یعنی دور نہیں ہوتا) مثلاً رنگ اور بُو، تو اسے گرم پانی یا صابن وغیرہ کے ساتھ دُور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی اھ ملخصا (ت)

 (۱؎ درمختار    باب الانجاس    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)

اور غیر مرئیہ کو سُوکھنے کے بعد نہ دکھائی دے اس میں علماء کے دو قول ہیں ایک قول پر غلبہ ظن کا اعتبار ہے یعنی جب گمان غالب ہوجائے کہ اب نجاست نکل گئی پاک ہوگیا اگرچہ یہ غلبہ ظن ایک ہی بار میں حاصل ہو یا زائد میں۔ اور دوسرے قول پر تثلیث یعنی تین بار دھونا شرط ہے ہر بار اتنا نچوڑیں کہ بوند نہ ٹپکے اور نچوڑنے کی چیز نہ ہو تو ہر بار خشک ہونے کے بعد دوبارہ دھوئیں اس قول پر اگر یوں تثلیث نہ کرے گا طہارت نہ ہوگی۔ ایک جماعتِ علماء نے فرمایا یہ طریقہ خاصل اہلِ وسواس کے لئے ہے جسے وسوسہ نہ ہو وہ اسی غلبہ ظن پر عمل کرے، ان علماء کا قصد یہ ہے کہ دونوں قولوں کو ہر دو حالت وسوسہ وعدمِ وسوسہ پر تقسیم کرکے نزاع اُٹھادیں۔

اقول: الا ان ھذا التطبیق لایکاد یلائم ظاھر اطلاق عامۃ المتون فان الموسوسین فی الناس اقل قلیل بالنسبت الی غیرھم واطلاق الحکم المختص بالغالب الکثیر غیر بعید ولامستنکر بخلاف عکسہ کمالایخفی۔

اقول:  مگر یہ تطبیق عام متون کے ظاہر اطلاق کے مناسب معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وسوسے والے لوگ دوسروں کی نسبت بہت کم ہیں اور حکم کا اطلاق جو غالب اکثریت سے مختص ہے وہ (عقل سے) نہ تو بعید ہے اور نہ ہی غیر معروف، بخلاف اس کے عکس کے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)

دُوسری جماعتِ ائمہ نے فرمایا قول ثانی قول اول کی تحدید وتقدیر ہے یعنی یہ غلبہ ظن غالباً تین بار میں حاصل ہوتا ہے۔ای وانما العبرۃ للغالب وعلیہ تبنی الاحکام ویقطع النظر عن القلیل النادر۔یعنی اعتبار غالب کا ہوتا ہے اور احکام کی بنیاد بھی یہی ہے، قلیل وکمیاب سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ (ت)

اس تقدیر پر دونوں قول قولِ ثانی کی طرف عود کرآئیں گے ہدایہ وکافی ودرر وغنیہ وتنویر وغیرہا میں اسی طرف میل فرمایا اور بیشک وہ بہت قرینِ قیاس ہے بالجملہ دنوں قول نہایت باقوت ہیں اور دونوں کو ظاہر الروایۃ کہا گیا اور دونوں طرف تصحیح وترجیح۔

اقول: مگر قول ثانی عامہ متون میں مذکور اور غالباً اُسی میں احتیاط زیادہ اور اُس میں انضباط ازید اور آج کل اگر بعض لوگ موسوس ہیں تو بہتیرے مُداہن وبے پروا ہیں انہیں ایک ایسے غیر منضبط بات بتانے میں اُن کی بے پرواہی کی مطلق العنانی ہے لہذا قول ثانی ہی پر عمل انسب والیق ہے اور ہدایہ وکافی کی توفیق حسن پر تو قول ثانی کے سوا دوسرا قول ہی نہیں۔ بہرحال ایک بار دھونے سے جبکہ زوال نجاست کا ظن غالب نہ ہو اور غالباً بلامبالغہ سرسری طور پر ایک دفعہ دھونے میں ایسا ہی ہوگا تو اس صورت میں بالاتفاق حاصل نہ ہوگی۔

دُرِمختار میں ہے: یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل لومکلفا والا فمستعمل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف فی غیر منعصر ۱؎ اھ ملخصا۔

جس جگہ نجاست دکھائی نہ دیتی ہو اگر دھونے والے کو غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاک ہوجاتی ہے ورنہ اس جگہ کی طہارت کے لئے گنتی کے بغیر پانی استعمال کیا جائے اسی پر فتوٰی ہے اور وسوسہ والے کے لئے جس چیز کو نچوڑنا ممکن ہے اسے تین بار دھونا اور یوں نچوڑنا کہ اب قطرے نہ گریں اور جس چیز کو نچوڑنا ممکن نہیں اس کو تین بار خشک کرنا مقرر ہے۔ اھ ملخصا (ت)

 (۱؎ درمختار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)

ردالمحتار میں ہے: قولہ بلاعددبہ یفتی، کذافی المنیۃ وظاھرہ انہ لوغلب علی ظنہ زوالھا بمرۃ اجزأہ وبہ صرح الامام الکرخی فی مختصرہ واختارہ الامام الاسبیجابی وفی غایۃ البیان التقدیر بالثلث ظاھر الروایۃ وفی السراج اعتبار غلبۃ الظن مختار العراقیین والتقدیر بالثلث مختار البخاریین والظاھر الاول ان لم یکن موسوسا وان کان موسوسا فالثانی اھ بحرقال فی النھر وھو توفیق حسن اھ وعلیہ جری صاحب المختار فانہ اعتبر غلبۃ الظن الافی الموسوس وھومامشی علیہ المصنّف واستحسنہ فی الحلیۃ وقال وقدمشی الجم الغفیر علیہ فی الاستنجاء۔

اس (صاحبِ درمختار) کا قول ''بلاعدد'' (گنتی شرط نہیں) پر فتوٰی ہے، منیہ میں بھی اسی طرح ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایک مرتبہ دھونے سے نجاست کے زائل ہونے کا غالب گمان ہوجائے تو یہی کافی ہے۔ امام کرخی نے اپنی مختصر میں اسی کی تصریح فرمائی اور امام اسبیجابی نے بھی اسے ہی اختیار کیا اور غایۃ البیان میں ہے کہ تین بار کا مقرر کرنا ظاہر روایت ہے۔ سراج میں ہے کہ عراقیوں کے نزدیک غلبہ ظن کا اعتبار مختار ہے جبکہ تین بار کا اندازہ بخارا والوں کا مختار ہے۔ اور پہلا ظاہر ہے اگر وسوسے والا نہ ہو، اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو دوسری بات ظاہر ہے اھ (بحرالرائق انتہٰی) نہر الفائق میں فرمایا کہ یہ اچھی تطبیق ہے اھ۔ صاحبِ مختار نے بھی یہی راستہ اختیار کیا کہ انہوں نے وسوسہ نہ کرنے والوں کے بارے میں اسی کا اعتبار کیا ہے مگر وسوسہ کرنے والے کے بارے میں ان کا وہی موقف جس پر مصنف (صاحبِ دُرمختار) چلے ہیں اور حلیہ نے بھی اسی کو مستحسن قرار دیا ہے اور فرمایا استنجاء کے بارے میں جم غفیر کا یہی مسلک ہے (ت)

اقول:  وھذا مبنی علی تحقق الخلاف وھو ان القول بغلبۃ الظن غیر القول بالثلث قال فی الحلیۃ وھو الحق واستشھد لہ بکلام الحاوی القدسی والمحیط۔

اقول:  میں (علامہ شامی) کہتا ہوں اس کی بنیاد (دونوں باتوں میں) ثبوتِ اختلاف پر ہے یعنی جب غلبہ ظن کا قول تین کے قول کا غیر ہو حلیہ میں فرمایا یہی حق ہے اور انہوں نے اس پر حاوی قدسی اور محیط کے کلام سے شہادت پیش کی ہے۔ (ت)

اقول:  وھوخلاف مافی الکافی ممایقتضی انھما قول واحد وعلیہ مشی فی شرح المنیۃ فقال فعلم بھذا ان المذھب اعتبار غلبۃ الظن وانھا مقدرۃ بالثلث لحصولھا بھافی الغالب وقطعاً للوسوسۃ وانہ من اقامۃ السبب الظاھر مقام المسبب الذی فی الاطلاع علی حقیقتہ عسرکالسفر مقام المشقۃ اھ وھو مقتضی کلام الھدایۃ وغیرھا واقتصر علیہ فی الامداد وھو ظاھر المتون حیث صرحوا بالثلث ۱؎ اھ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

اقول:  (میں (علامہ شامی) کہتا ہوں) یہ (اختلاف) اس کے خلاف ہے جو کافی میں ہے اور اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ دونوں ایک ہی قول ہیں۔ شرح منیہ میں یہی راستہ اختیار کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ مذہب میں غلبہ ظن کا اعتبار ہے اور وہ تین بار کا اندازہ ہے کیوں کہ غالب یہی ہے تین بار دھونے سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے اور وسوسہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ کہ سبب ظاہر کو اس مسبب کے قائم مقام رکھنا ہے جس کی حقیقت پر اطلاع مشکل ہے جیسے سفر مشقت کے قائم مقام ہے اھ ہدایہ وغیرہ کے کلام کا مقتضٰی بھی یہی ہے اور الامداد بھی اسی پر اختصار کیا گیا ہے۔ ظاہر متون بھی یہی ہیں کیونکہ انہوں نے تین کی تصریح کی ہے اھ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۴۲)


Navigate through the articles
Previous article پڑیا کے رنگ ہوئے کپڑے سے نماز درست ہے پاک رضائی ناپاک گدے سے ملحق ہو تو پاک رہے گی؟ Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (258 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu