• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > پاک رضائی ناپاک گدے سے ملحق ہو تو پاک رہے گی؟

پاک رضائی ناپاک گدے سے ملحق ہو تو پاک رہے گی؟

Published by Admin2 on 2012/5/9 (1095 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۷۵: از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب میرزا غلام قادر بیگ صاحب۸رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گدّا رُوئی کا جس میں نجس ہونے کا شبہہ قوی ہے نیچے بچھا ہے اور اس پر پاک رضائی اوڑھی ہے، بارش سے چھت ٹپکی رضائی اور گدّا خوب تَر ہوگیا رضائی پیروں کے تلے بھی دبی تھی یعنی گدّے سے ملحق تھی اس صورت میں رضائی کی نسبت کیا حکم ہے بینوّا توجّروا۔

الجواب: بہہ سے کوئی چیز ناپاک نہیں ہوتی کہ اصل طہارت ہے والیقین لایزول بالشک (یقین شک سے دُور نہیں ہوتا۔ ت) ہاں ظن غالب کہ بربنائے دلیل صحیح ہو فقہیات میں ملحق بیقین ہے نہ بربنائے تو ہمات عامہ پس اگر گدّے(۱) میں کسی نجاست کا ہونا معلوم تھا اور(۲) یہ بھی معلوم ہوکہ رضائی گدّے کے خاص موضع نجاست سے ملصق تھی اور(۳) گدّے میں خاص اُس جگہ تری بھی اتنی تھی کہ چھوٹ کر رضائی کو لگے یا رضائی کے موضع اتصال میں اس قدر رطوبت تھی کہ چھوٹ کر گدّے کے محلِ نجاست کو تر کردے غرض یہ کہ موضع نجاست پر رطوبت خواہ وہیں کہ خواہ دوسری چیز مجاور کی پہنچی ہوئی اس قدر ہو جس کے باعث نجاست ایک کپڑے سے دوسرے تک تجاوز کرسکے (اور اس تجاوز کے یہ معنی کہ کچھ اجزائے رطوبت نجسہ اُس سے متصل ہوکر اس میں آجائیں نہ صرف وہ جسے سیل یا ٹھنڈک کہتے ہیں کہ حکم فقہ میں یہ انفصال اجزا نہیں صرف انتقال کیفیت ہے اور وہ موجب نجاست نہیں اور اس قابلیت تجاوز کی تقدیرر رطوبت کا اس قدر ہونا ہے جسے نچوڑے سے بوند ٹپکے کہ ایسے ہی رطوبت کے اجزا دوسری شے کی طرف متجاوز ہوتےہیں)

جب تینوں شرطیں ثابت ہوں تو البتہ رضائی کے اُتنے موضع پر تجاوز نجاست کا حکم دیا جائے گا پھر اگر وہ موضع بقدر معتبر فی الشرع مثلاً ایک درہم سے زائد ہو تو رضائی ناپاک ٹھہرے گی اور اُسے اوڑھ کر نماز ناجائز ہوگی ورنہ حکم عفو میں رہے گی اگرچہ ایک درم کی قدر میں کراہت تحریمی اور کم میں صرف تنزیہی ہوگی اور اگر ان تینوں شرط میں کسی کی بھی کمی ہوئی تو رضائی سرے سے اپنی طہارت پر باقی اور سراپاک ہے۔ مثلاً گدّے کی نجاست مشکوک تھی یا وہ سب ناپاک نہ تھا اور رضائی کا خاص موضع نجاست سے ملنا معلوم نہیں یا محل نجاست کی رطوبت خود اپنی خواہ رضائی سے حاصل کی ہوئی قابلِ تجاوز نہ تھی یہ سب صورتیں طہارت مطلقہ تامہ کے ہیں۔

ھذا ھو التحقیق الذی عولنا علیہ لظھور وجھہ ولکونہ احوط وان کان الکلام فی المسئلۃ طویل الذیل ذکر بعضہ فی ردالمحتار اٰخر الانجاس واٰخر الکتاب وفیہ عن البرھان ولایخفی منہ انہ لایتیقن بانہ مجرد نداوۃ الا اذاکان النجس الرطب ھو الذی لایتقاطر بعصرہ اذیمکن ان یصیب الثوب الجاف قدر کثیر من النجاسۃ ولاینبع منہ شیئ بعصرہ کماھو مشاھد عند البدایۃ بغسلہ ۱؎ اھ  وفیہ عن الامام الزیلعی لانہ اذالم یتقاطر منہ بالعصر لاینفصل منہ شیئ وانما یبتل مایجاورہ بالنداوۃ وبذلک لایتنجس ۲؎ الخ

یہی وہ تحقیق ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا کیونکہ اس کا سبب ظاہر ہے اور اس میں زیادہ احتیاط ہے اگرچہ اس مسئلہ میں کلام کا دامن نہایت طویل ہے جس میں سے کچھ ردالمحتار میں باب الانجاس اور کتاب ردالمحتار کے آخر میں مذکور ہے۔ اور اس میں البرہان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی خفا نہیں کہ اس کے محض رطوبت ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا مگر جب کہ تر نجاست کے نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں کیوں کہ ممکن ہے کہ خشک کپڑے کو بہت سی نجاست لگے اور نچوڑنے سے اس سے کچھ نہ نِکلے جیسا کہ اسے دھونے کا آغاز کرتے وقت مشاہدہ ہوتا ہے۔ الخ اسی (ردالمحتار) میں امام زیلعی سے نقل کیا کہ جب نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں تو اس سے کچھ بھی جُدا نہ ہوگا اور اس سے ملنے والی چیز محض مجاورت (ملنے) سے تر ہوگی اور اس سے وہ ناپاک نہیں ہوتی۔

 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۵)

(۲؎ رد المحتار     مسائل شتی          مصطفی البابی مصر       ۵/۵۱۷)

وفیہ عن الخانیۃ اذاغسل رجلہ فمشی علی ارض نجسۃ بغیر مکعب فابتل الارض من بلل رجلہ واسود وجہ الارض لکن لم یظھر اثر طبل الارض فی رجلہ فصلی جازت صلاتہ وان کان بلل الماء فی رجلہ کثیرا حتی ابتل وجہ الارض وصارطینا ثم اصاب الطین رجلہ لاتجوز صلاتہ ۱؎ الخ واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

اور اسی (ردالمحتار) میں خانیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پاؤں دھوکر جُوتے کے بغیر ناپاک زمین پر چلا اور اس کے پاؤں کی رطوبت سے زمین تر ہوگئی اور زمین پر نشان لگ گیا لیکن زمین کی رطوبت اس کے پاؤں میں ظاہر نہیں ہوئی اب اس نے نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے اور اگر پاؤں میں پانی کی رطوبت زیادہ تھی حتی کہ زمین کا ظاہر تر ہوگیا اور کیچڑ پاؤں میں لگ گیا تو اس کی نماز جائز نہیں الخ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    مسائل شتّی    مصطفی البابی مصر    ۵/۵۱۸)


Navigate through the articles
Previous article نجاستوں کے پاک کرنے کا طریقہ بدن پر لگنے والی نجاست کے پاک کرنے کا طریقہ Next article
Rating 3.01/5
Rating: 3.0/5 (294 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu