• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > بدن کی ناپاکی دور کرنے کے طریقے

بدن کی ناپاکی دور کرنے کے طریقے

Published by Admin2 on 2012/5/10 (971 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۷   از لکھنؤ چوبداری محلہ متصل کوٹھی قدیم عینک سازان مکان نمبر ۱۰۳ مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب مارہروی    ۵ محرم۳ ۱۳۳ھ

(۱) کپڑے یا بدن پر کوئی حصّہ نجس ہوگیا اُس پر پانی پہلی مرتبہ ڈالا پھر ہاتھ سے اس کے قطرے پونچھ ڈالے، اسی طرح تین مرتبہ پانی ڈالا اور اُسی ہاتھ سے جس سے پہلی مرتبہ قطرے پونچھے تھے اُس کو دھوئے بغیر قطرے پُونچھے تو آیا یہ عضو مغسول اور وہ ہاتھ دونوں پاک ہوجائیں گے بحالیکہ عضو مغسول کو وہ ہاتھ لگا ہے جس نے پہلی اور دوسری تیسری مرتبہ کے غسالہ کو پونچھا تھا اور خود الگ پانی سے دھویا نہ گیا تھا۔

(۲) اگر اس ترکیب سے پاکی نہ ہوسکے تو کیا کِیا جائے؟

(۳) بدن کو دھوکر جھٹک دیا سب قطرے گر گئے ہاں وہ رہ گئے جو بال کی جڑمیں ہیں یا بہت ہی باریک میں جھٹکنے سے بھی نہیں گرتے تو ایسی صورت میں عضو تین بار دھو ڈالے پاک ہوجائیگا یا نہیں، اگر نہیں تو کیا کرے، خاص کر اُس صورت میں جب دونوں ہاتھ نجس ہوں۔

(۴) بدن پاک کرنے میں ہر بار کے دھونے میں تقاطر جاتا رہنا ضرور ہے یا مطلقاً ہر قطرہ کا خواہ وہ چھوٹا ہی ہو اور پونچھنے سے صرف بدن پر پھیل کر رہ جاتا ہو اس کا بھی دُور کرنا یعنی وہی پھیلادینا ضرور ہے۔

الجواب: بدن پاک کرنے میں نہ چھوٹے قطرے صاف کرکے دوبارہ دھونا ضرور نہ انقطاع تقاطر کا انتظار درکار بلکہ قطرات وتقاطر درکنار دھار کا موقوف ہونا لازم نہیں نجاست اگر مرئیہ ہو جب تو اُس کے عین کا زوال مطلوب اگرچہ ایک ہی بار میں ہوجائے اور غیر مرئیہ ہے تو زوال کا غلبہ ظن جس کی تقدیر تثلیث سے کی گئی جہاں عصر شرط ہے اور وہ متعذر ہوجیسے مٹّی کا گھڑا یا معتسر ہو جیسے بھاری قالین دری تو شک لحاف وہاں انقطاع تقاطر یا ذہاب تری کو قائم مقام عصر رکھا ہے بدن میں عصر ہی درکار نہیں کہ ان کی حاجت ہو صرف تین بار پانی بَہ جانا چاہئے اگرچہ پہلی دھار ابھی حصّہ زیریں پر باقی ہے مثلاً ساق پر نجاست غیر مرئیہ تھی اوپر سے پانی ایک بار بہایا وہ ابھی ایڑی سے بَہ رہا ہے دوبارہ اوپر سے پھر بہایا ابھی اس کا سیلان نیچے باقی تھا سہ بارہ پھر بہایا جب یہ پانی اُتر گیا تطہیر ہوگئی بلکہ ایک مذہب پر تو انقطاع تقاطر کا انتظار جائز نہیں اگر انتظار کرے گا طہارت نہ ہوگی کہ ان کے نزدیک تطہیر بدن میں عصر کی جگہ توالی غسلات یعنی تینوں غسل پے درپے ہونا ضرور ہے مذہب ارجح میں اگرچہ اس کی بھی ضرورت نہیں مگر خلاف سے بچنے کے لئے اس کی رعایت ضرور مناسب ہے اس تقریر سے تین سوال اخیر کا جواب ہوگیا۔ درمختار میں ہے:

یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بقلعا ای زوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبما فوق ثلث فی الاصح ولایضر بقاء اثرلازم ومحل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا ۱؎۔

اصح مذہب کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ عین نجاست اور اس کے اثر کو دُور کرنے سے پاک ہوجاتی ہے اگرچہ ایک مرتبہ سے ہو یا تین بار سے زیادہ یہ اصح مذہب ہے۔ اس سے لازم ہونے والے (نہ دُور ہونے والے) اثر کا باقی رہنا کچھ نقصان دہ نہیں اور جہاں نجاست نظر نہ آتی ہو اگر دھونے والے کو اس جگہ کے پاک ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاک ہوجائیگی۔ اس میں گنتی شرط نہیں اور اسی پر فتویٰ ہے۔ جس چیز کو نچوڑا جاسکتا ہے وہ تین بار دھونے اور خوب نچوڑنے کے ساتھ کہ اب کوئی قطرہ باقی نہ ہو، پاک ہوجاتی ہے۔ اور جس کا نچوڑنا ممکن ہو اور اس میں نجاست جذب ہوتی ہو وہ تین بار خشک کرنے یعنی قطرات کے ختم ہونے سے پاک ہوجاتی ہے ورنہ اسے زائل کیا جائے۔ (ت)

 (۱؎ درمختار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)

ردالمحتار میں ہے: بتثلیث جفاف ای جفاف کل غسلۃ من الغسلات الثلاث وھذا شرط فی غیر البدن ونحوہ امافیہ فیقوم مقامہ توالی الغسل ثلثا قال فی الحلیۃ والاظھر ان کلا من التوالی والجفاف لیس بشرط فیہ وقدصرح بہ فی النوازل وفی الذخیرۃ مایوافقہ ۱؎ اھ واقرہ فی البحر۔

تین بار خشک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہربار دھونے کے بعد خشک کیا جائے یہ شرط غیرِ بدن وغیرہ میں ہے بدن میں تین بار مسلسل دھونا اس کے قائم مقام ہوگا حلیہ میں فرمایا اظہر بات یہ ہے کہ اس میں تسلسل اور اور خشک کرنے (دونوں) میں سے کوئی بات بھی شرط نہیں نوازل میں اس کی تصریح ہے، ذخیرہ میں اس کے موافق ہے اھ بحرالرائق میں اس کو برقرار ررکھا ہے۔

 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۲۱)

رہا سوال اول یہ تو ظاہر ہوگیا کہ ہر بار قطرات کا پونچھنا فضول تھا بلکہ بلاوجہ ہاتھ ناپاک کرلینا مگر جبکہ اس نے ایسا کیا، مثلاً پاؤں پر نجاست تھی سیدھے ہاتھ میں لوٹا لے کر اُس پر پانی بہایا اور جو قطرات باقی رہے بائیں ہاتھ سے پونچھ لیے تو یہ ہاتھ ناپاک ہوگیا مگر ایسی نجاست سے کہ دوبار دھونے سے پاک ہوجائے گی اس لئے کہ ایک بار دُھل چکی اب پاؤں پر دوبار پانی ڈالنا تھا دوسری بار کے بعد ایک ہی بار ڈالنا تھا لیکن اس نے دوبارہ دھوکر نجس ہاتھ سے پھر اس کے قطرے پونچھے تو اب پاؤں کو وہ نجاست لگ گئی جو دوبار دھونے کی محتاج ہے تو پاؤں کو پھر دوبار دھونے کی ضرورت ہوگئی اور ہاتھ بدستور اُسی نجاست سے نجس رہا اُس میں تخفیف نہ ہُوئی کہ اُس پر سیلان آب نہ ہوا اب پاؤں پر سہ بارہ کا پانی دوبارہ کے حکم میں ہے کہ اس کے بعد ایک بار اور دھونے کی حاجت ہے لیکن اس نے اس کے بعد بھی وہی نجس ہاتھ اس کے قطرات صاف کرنے میں استعمال کیا تو اب پھر پاؤں کو دو۲ بار دھونے کی ضرورت ہوگئی وھکذا (اور اسی طرح ہے۔ ت) لہذا اُسے لازم کہ پاؤں پر دوبار پانی بہائے اور قطرات نہ پونچھے اور وہ ہاتھ جدا دوبار دھولے۔

ردالمحتار میں ہے:قال فی الامداد والمیاہ الثلثۃ متفاوتۃ فی النجاسۃ فالاولی یطھر مااصابتہ بالغسل ثلثا والثانیۃ بالثنتین والثالثۃ بواحدۃ وکذا الاوانی الثلثۃ التی غسل فیھا واحدۃ بعد واحدۃ وقیل یطھر الاناء الثالث بمجرد الاراقۃ والثانی بواحدۃ والاول بثنتین ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

 (۲؎ ردالمحتار      باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۲۲)

''الامداد'' میں فرمایا نجاست میں تینوں پانی الگ الگ حکم رکھتے ہیں پہلا پانی جس چیز کو لگ جائے وہ تین بار دھونے سے پاک ہے۔ دوسرا پانی جسے پہنچے وہ دو بار، اور تیسرے پانی جسے پہنچے ایک بار دھونے سے پاک ہوجاتی ہے۔ اسی طرح وہ تینوں برتن جو یکے بعد دیگرے اس میں دھوئے گئے۔ اور کہا گیا ہے تیسرا برتن محض پانی بہانے سے پاک ہوجائے گا دوسرا ایک بار دھونے سے اور پہلا دوبار دھونے سے پاک ہوگا اھ واللہ تعالیٰ اعلم (ت)


Navigate through the articles
Previous article کفار کی استعمال اشیاء استعمال کرنے کا حکم نجاست والی انگلی کو چاٹ لیا جائے تو؟ Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (246 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu