• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Misc. Topics / متفرق مسائل > بچوں کے گلے میں تعویذ ڈلنے کا حکم

بچوں کے گلے میں تعویذ ڈلنے کا حکم

Published by Admin2 on 2012/5/14 (1375 reads)

New Page 1

مسئلہ ۲۴۶: از ادھ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمد صادق علی خان صاحب    رمضان ۱۳۳۰ھ

بچّوں کے گلے میں بچّوں کے ماں باپ بچّوں کی حفاظت کے لئے چھوٹی حمائل شریف ٹین کے تعویذ میں اور اُوپر اُس کے کپڑا پاک چڑھا کر ڈالتے ہیں غرض بہت احتیاط سے یہ کام ہوتا ہے یا فقط ایک دو آیت، بچّے پاخانے میں جاتے ہیں طرح طرح کی بے ادبیاں ظہور میں آتی ہیں یہ کام شرع میں جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب: تعویذ موم جامعہ وغیرہ کرکے غلاف جُداگانہ میں رکھ کر بچّوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اُس میں بعض آیاتِ قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے میں لے جانا بھی جائز ہے، ہاں افضل احتراز ہے، درمختار میں ہے:

رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخولالخلاء بہ والاحتراز افضل ۱؎غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں البتہ بچنا افضل ہے (ت)

 (۱؎ دُرمختار    کتاب الطہارۃ     مطبوعہ مجتبائی دہلی   ۱/۳۴)

ردالمحتار میں ہے: الظاھر ان المراد بھامایسمونہ الاٰن بالھیکل والحمائل المشتمل علی الاٰیات القراٰنیۃ فاذاکان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء بہ ومسہ وحملہ للجنب ۲؎۔

ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جسے آج کل ہیکل یا حمائل کہتے ہیں اور وہ آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوتی ہے جب اس کا غلاف الگ ہو جیسے موم جامعہ وغیرہ تو اس کے ساتھ بھی بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے، نیزجنبی آدمی کا اسے ہاتھ لگانا اور اٹھانا بھی جائز ہے۔ (ت)

 ( ۲؎ ردالمحتار ، مطلب یطلق الدعاء علٰی مایشتمل الثناء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی، ۱/۱۳۱)

بے ادبیوں کی احتیاط کی جائے پھر یہ امر مانع انتفاع نہیں کہ پہنانے والوں کی نیت تبرک ہے۔

وانما الاعمال بالنیات ۳؎ وقد کتب امیرالمؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ علی افخاذاھل الصدقۃ حبیس فی سبیل اللّٰہ۔اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اونٹوں کی رانوں پر لکھا ''اللہ کی راہ میں روکا ہوا''۔ (ت)

(۳؎ صحیح البخاری    باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲)

اس مقصد کی تفصیل ہمارے رسالہ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن میں ہے مگر تعویذ پر قرآن عظیم ومصحف کریم کا قیاس نہیں ہوسکتا۔

اوّلاً :قرآن مجید اگرچہ دس۱۰ غلافوں میں ہو پاخانے میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور اُن کے عرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عرف پر ہے تعویذ کہ بعض آیات پر مشتمل ہو وہ آیات ضرور قرآن عظیم ہیں مگر اُسے تعویذ کہیں گے نہ قرآن، جیسے کتاب نحوکہ امثلہ قواعد میں آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل، اُس کے لئے کتاب نحو ہی کا حکم ہوگا نہ کہ مصحف شریف کا۔ مصحف شریف دارالحرب میں لے جانا منع ہے اور کتاب لے جانے سے کسی نے منع نہ کیا مصحف کے پٹھے کو بے وضو چھونا حرام اور اُس کتاب کے ورق کو بھی چھُونا جائز۔

ثانیاً :اُس کا ٹین میں رکھ کر بند کردینا یا موم جامے یا کپڑے ہی کے غلاف میں سی دینا یہ خود خلافِ شرع ہے کہ اُس کی تلاوت سے منع ہے ائمہ سلف تو غلافِ مصحف شریف میں بند لگانے کو مکروہ جانتے تھے کہ بند باندھنا بظاہر منع کی صورت ہوگا تو یوں ٹین وغیرہ میں رکھ کر ہمیشہ کیلئے سی دینا کہ حقیقۃً منع ہے کس درجہ مکروہ ومورد شنع ہے۔ تبیين الحقائق میں فرمایا:کان المتقدمون یکرھون شد المصاحف واتخاذ الشَّدِّ لَھا لئلا یکون فی صورۃ المنع فاشبہ الغلق علی باب المسجد ۱؎۔متقدمین، قرآن پاک کو (کسی چیز میں) بند کردینے اور انہیں بند کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ (اس سے) روکنے کی صورت نہ پیدا ہو تو اس طرح وہ مسجد کا دروازہ بند کرنے کے مشابہ ہوجائے گا (ت)

 (۱؎ تبیين الحقائق    فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ    مطبوعہ بولاق مصر    ۱/۱۶۸)

ثالثاً :قرآن عظیم چھوٹی تقطیع پر لکھنا حمائل بنانا شرعاً مکروہ ناپسند ہے، امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کے پاس قرآن مجید باریک لکھا ہُوا دیکھا اسے مکروہ رکھا اور اس شخص کو مارا اور فرمایا عظموا کتاب  اللّٰہ۔  رواہ ابو عبید فی فضائل القراٰن کتاب اللہ کی عظمت کرو۔(ابو عبید نے اسے فضائل قرآن میں روایت کیا۔ ت)

امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم مصحف کو چھوٹا بنانا مکروہ رکھتے رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنّفہ وبمعناہ ابوعبید فی فضائلہ (عبدالرزاق نے اسے اپنے مصنّف میں روایت کیا، اور ابوعبید نے فضائل میں اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ ت) اسی طرح ابراہیم نخعی نے اسے مکروہ فرمایا  رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف (ابن داؤد نے اسے مصاحف میں بیان کیا۔ت)

درمختار میں ہے: یکرہ تصغیر مصحف ۵؎ (قرآن پاک کو چھوٹی تقطیع میں لانا مکروہ ہے۔ ت)

 (۵؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۲/۲۴۵)

ردالمحتار میں ہے: ای تصغیر حجمہ ۶؎ (یعنی اس کا حجم چھوٹا کرنا۔ ت)

 (۶؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع     مصطفی البابی مصر    ۵/۲۴۷)

تو اس قدر چھوٹا بنانا کہ معاذ اللہ ایک کھلونا اور تماشہ ہوکس طرح مقبول ہوسکتا ہے اور وہ جری لوگ یہ فعل مردود نہیں تعویذوں کی خاطر کرتے ہیں اگر مسلمان ان کو تعویذ نہ بنائیں تو کیوں خریدیں اور نہ خریدیں تو وہ کیوں اسے چھاپیں تو ان کا تعویذ بنانا ان کے اُس فعل کا باعث ہے اور اُس کے ترک میں اُس کا انسداد تو اس کا تعویذ بنانا ضرور مستحق الترک ہے اس دلیل کی تفصیل جلیل ہمارے رسالہ الکشف الشافیافی حکم فونوجرافیا میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے حضور کو خواب میں دیکھنے سے متعلق اشتہار کا حکم Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (250 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu