• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > زوال کا وقت جس میں نماز ناجائز ہے کیا ہے؟

زوال کا وقت جس میں نماز ناجائز ہے کیا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/5/22 (2308 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۲۷۰ ثانیہ:وقت زوال جس میں نماز ممنوع کیا وقت ہے۔

اقول:  گنگوہی صاحب نے اس سوال کا جواب نہ دیا پیشتر بھی فقیر سے یہ سوال ہوا تھا بقدر ضرورت جواب لکھا گیا یہاں اس کی نقل پر اقتصار ہوتا ہے۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوال کا وقت جس میں نماز ناجائز ہے کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب: زوال تو سُورج ڈھلنے کو کہتے ہیں یہ وقت وہ ہے کہ ممانعت کا وقت نکل گیا اور جواز کا آیا کماصرح بہ في البحر ۲؎ عن الحلیۃ (جیسا کہ بحرالرائق میں حلیہ سے اسکی تصریح کی گئی ہے)

(۲؎ البحرالرائق کتاب الصوم        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی دہلی    ۱/۲۵۱)

تو وقت ممانعت کو زوال کہنا صریح مسامحت ہے اور غایت تاویل مجاز مجاورت بلکہ اسے وقت استوا کہنا چاہئے یعنی نصف النہار کا وقت، اب علما کو اختلاف ہے کہ اس سے نہار عرفی کا نصف حقیقی ؎۲ مراد ہے

؎۲ احتراز ہے نصف النہار عرفی سے کہ ۱۲ بجے کے وقت کو کہتے ہیں، یہ سال میں چار۴ دن یعنی ۱۵ / اپریل۱۴ جون، ۳۱/اگست، ۲۴ دسمبر کے سوا ہمیشہ نصف النہار حقیقی سے آگے پیچھے ہوتا ہے جس کا تقدم تاخر تقریباً پاؤ گھنٹے تک پہنچتا ہے یعنی زیادت میں تقریباً ۱۴ منٹ اور کمی میں ۱۶، پھر یہ بھی اُس وقت ہے کہ گھڑیاں اصل تعدیل الایام بلدی پر جاری کی جائیں اور اگر دوسرے مقام کے وقت پر اجرا ہو جیسے ہندوستان میں وقت مدراس کو اختلاف طول سے یہ دن متبدل ہوجائیں گے، مثلاً بریلی جس کا وقت مدراس سے ۳ منٹ ۱۹ سیکنڈ زائد ہے یہاں تقریبی مساوات یعنی جیبی گھڑی کے ۱۲ بجے پر ٹھیک دوپہر ہونا ان چار تاریخوں پر ہوگا ۴ و ۲۵ مئی و ۱۱ ستمبر و ۱۸ دسمبر ۱۲ منہ- یہ بھی اس وقت تک تھا اب کہ جولائی ۱۹۰۵ء سے مدراس ٹائم منسوخ اور وسط ہند کے وقت پر گھڑیاں جاری کی گئی ہیں یعنی جہاں طول ۸۲ درجے ہے جس کے ۰۵ گھنٹے ہوئے، اس اختلاف نے بریلی میں صرف دو۲ ہی دن مساوات کے رکھے ۸ اکتوبر اور ۲۸ نومبر، اور کمی کی مقدار یعنی جیبی گھڑی کے ۱۲ بجے سے نصف النہار حقیقی کا پہلے ہونا صرف ۴ منٹ رہ گئی، اور زیادت یعنی حبیبی کے ۱۲ بجے سے ٹھیک دوپہر بعد کو ہونا ۲۶ منٹ تک پہنچ گئی ۱۲ منہ (م)

یعنی دوپہر جس وقت مرکز آفتاب بالائے افق دائرہ نصف النہار پرپہنچتا اور سایہ اپنی مقدار اصلی پر آکر اُس کے بعد جانبِ مشرق پلٹتا اور گھٹنے کی انتہا ہوکر پھر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے یہ قول ائمہ ماوراء النہر کی طرف منسوب یا نہار شرعی کا نصف مراد ہے جسے ضحوہ کبرٰی کہتے ہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ نہار عرفی طلوع کنارہ شمس سے غروب کل قرص شمس تک ہے۔

والمراد بالطلوع، المبتنی علیہ احکام الشرع، تجاوز اول حاجب الشمس فی جھۃ الشرق عن دائرۃ الافق الحسی بالمعنی الاعم، المسمّٰی فی کلام البعض بالافق الترسی، بحرکۃ الکل، وبالغروب تجاوز کل قرصھا فی جھۃ الغرب عن الدائرۃ المذکورۃ بالحرکۃ المزبورۃ، فوضح امتیاز النھار العرفی عن النھار النجومی، فانہ من انطباق مرکز الشمس علی دائرۃ الافق الحقیقی من قبل المشرق، الی انطباقہ علیھا فی جھۃ المغرب، فان اتحد الافقان یکون العرفی اکبر من النجومی، بقدر مایطلع نصف کرۃ الشمس ویغرب النصف، وان انحط الترسی من التحقیق، وھو الاکثر،لاسیما من جھۃ دقائق الانکسار الافقی، فزیادۃ العرفی ازید۔ نعم، ان وقع فوقہ بقدر نصف قطر الشمس مع دقائق الانکسار یستوی النھاران، اوازید من ذلک فیفضل النجومی، کمالایخفی وھذہ فائدۃ سنحت للقلم حین التحریر فاحببنا ایرادھا۔

جس طلوع پر شرعی احکام مبنی ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ شرقی جانب جو دائرہ افقِ حسی ہے اُفقِ حسِی کا عام معنی مراد ہے جس کو بعض نے اُفقِ ترسی کا نام دیا ہے۔ اس دائرے سے، پُورے سورج کی حرکت کے ساتھ، سورج کا پہلا کنارہ گزرجائے۔ اور غروب سے مراد یہ ہے کہ سورج کی پوری ٹکیہ، اسی دائرے سے، اسی حرکت کے ساتھ، غربی جانب سے گزر جائے۔ اس سے نہار عرفی اور نہار نجومی کا امتیاز بھی واضح ہوگیا، کیونکہ نہار نجومی شروع اس وقت ہوتی ہے جب شرقی جانب سورج کا مرکز، افق حقیقی کے دائرے پر منطبق ہوجائے، اور ختم اس وقت ہوتی ہے جب غربی جانب سورج کا مرکز افقِ حقیقی کے دائرے پر منطبق ہوجائے۔ اب اگر دونوں افق (حقیقی اور ترسی) متحد ہوں تو نہار عرفی، نہار نجومی سے اتنی بڑی ہوگی جتنی دیر میں سورج کا آدھا کُرہ طلوع ہوتا ہے اور آدھا غروب ہوتا ہے۔ اور اگر ترسی، حقیقی سے نیچے ہو، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے خصوصاً جب افقی انکسار کے دقیقوں کو ملحوظ رکھا جائے تو نہار عرفی اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ ہاں، اگر ترسی، حقیقی سے، سورج کے نصف قطر جتنا اوپر ہو اور انکسار کے دقیقے بھی ملحوظ ہوں تو نہار عرفی اور نہار نجومی برابر ہوجائیں گی۔ اور اگر سورج کے نصف قطر کی مقدار سے زیادہ اُوپر ہوتو نہار نجومی بڑھ جائے گی، جیسا کہ مخفی نہیں ہے یہ فائدہ لکھتے وقت قلم کیلئے ظاہر ہواتو ہم نے اس کو ذکر کرنا مناسب سمجھا۔

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
زوال کا زیادہ سے زیادہ وقت کتنا ہے؟ Next article
Rating 2.77/5
Rating: 2.8/5 (294 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu