• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > زوال کا زیادہ سے زیادہ وقت کتنا ہے؟

زوال کا زیادہ سے زیادہ وقت کتنا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/5/22 (1186 reads)

New Page 1

مسئلہ (۲۷۱) ثالثہ:بڑھ سے بڑھ یہ وقت کس قدر ہے؟

اقول:  گنگوہی صاحب نے اس سوال کا جواب بھی قلم انداز کردیا، اس کا جواب اجمالی یہ ہے کہ ہمارے بلاد میں انتہا درجہ یہ وقت ۴۸ منٹ تک پہنچتا ہے جبکہ آفتاب انقلاب صیفی میں ہوتا ہے یعنی ۲۲ جون کو ٹھیک دوپہر سے اتنے منٹ بیشتر نصف النہار شرعی ہوجاتا ہے اور تحویلِ حمل ومیزان یعنی ۲۱ مارچ و ۲۴ ستمبر کو ۳۹ منٹ پہلے ہوتا ہے نہ اس سے گھٹے نہ اس سے بڑھے باقی ایام میں انہیں کے بیچ میں دورہ کرتا ہے وتفصیل ذلک یطول جدا (اور اس کی تفصیل بہت طویل ہے ۔  اور ٹھیک دوپہر سے یہ مراد کہ جب دائرہ ہندیہ میں ظل ثانی خط الزوال پر پورا منطبق ہو یہی نہار عرفی کا گویاعـــہ نصف حقیقی ہے

عـــہ اس گویا اور کہیے اورسمجھی کی وجہ عالمِ ہیاَ ت پر مخفی نہیں اور یہ بھی وہ جان سکتا ہے کہ یہ وقت وقت استوائے حقیقی تحقیقی کس صورت میں ہوگا ۱۲ منہ (م)

اسی کو استوائے حقیقی کہئے اس وقت آفتاب بیچ آسمان میں ہونا سمجھئے احکام شرعیہ میں اسی وقت کا اعتبار ہے نصف النہار شرعی سے اسی وقت تک نماز مکروہ ہے اس کے بعد پھر وقتِ ممانعت نہیں رہتا اس وقت بارہ بجے فرض کیجئے اور اس سے گھنٹہ بھر پہلے گیارہ وعلٰی ہذٰا القیاس ان گھڑی گھنٹوں کے بارہ کا حکم زوال ونصف النہار وشروع وقت ظہر میں اصلاً اعتبار نہیں اگرچہ نہایت صحیح ہوں کہ نظر عوام میں ان کا کمال صحت توپ سے مطابقت اور توپ قطع نظر اس سے کہ اکثر غلط چلتی ہے فقیر نے گیارہ منٹ تک کی غلطی اُس میں مشاہدہ کی ہے اگر پُوری صحیح بھی چلے تو خود اس حساب پر نہیں چلتی، فقیر نے بارہا بچشمِ خود مشاہدہ کیا ہے کہ دوپہر کی توپ صحیح چلی ہے اور اُس وقت آفتاب مرأی العین میں صاف پلٹ چکا ہے یا ابھی وسط آسمان پر بھی نہ آیا ولہذا تحویل حوت کا شمس کہ بحساب دائرہ  ہندیہ مع حصہ انکسار افقی ہمارے شہر میں ۵ بج کر ۳۹ منٹ پر ڈوبنا چاہئے توپ کے اعتبار سے قریب ۶ بجے کے ۵ بج کر ۵۶ منٹ پر ڈوبتا ہے تحویلِ قوس کا مہرکہ بحساب مذکور دائرہ ۶ بج کر ۴۲ منٹ پر چمکنا چاہئے توپ کے گھنٹوں پر ۶ سے ۳۱ منٹ بعد طلوع کر آتا ہے اسی طرح ہرجگہ فرق پائیے گا یہ امر ضرور قابلِ لحاظ ہے یہیں سے وہ عقدہ کھل گیا کہ ہم نے مسئلہ ثانیہ کے جواب میں نصف النہار شرعی ۱۱ پر ۳۱ منٹ آکر لکھا اور پھر اس سے استوائے حقیقی تک ۴۰ منٹ کا فاصلہ رکھا حالانکہ ۱۱ پر ۳۱ کے بعد ۱۲بجنے تک صرف ۲۹ منٹ کا فصل ہے تو وجہ یہ کہ اُس مسئلہ میں انہیں رواجی مدراسی گھنٹوں کا حساب لیا تھا ولہذا طلوعِ شمس حمل ۶ پر ۷ منٹ آکر مانا۔ یہ ہے ان مسائل کا اجمالی تخمینی جواب اور تفصیل وتحقیق مفضی تطویل واطناب۔

وفیما ذکرنا کفایۃ لاولی الباب وصلی اللّٰہ تعالٰی علی المولٰی الاواب سیدنا محمد والاٰل والاصحاب واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب۔

اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ عقلمندوں کے لئے کافی ہے، اور درود بھیجے اللہ تعالٰی بہت رجوع کرنے والے آقا سیدنا محمد پر اور ان کی آل واصحاب پر۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔ (ت)


Navigate through the articles
Previous article زوال کا وقت کتنا ہے , نماز مکروہ سے کیا مراد ہے؟ سایہ اصلی دو مثل نہ ہو تو عصر کی جماعت ٹھیک ہے Next article
Rating 2.65/5
Rating: 2.6/5 (277 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu