• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > عصر کا وقت مستحب و وقت مکروہ کیا ہے؟

عصر کا وقت مستحب و وقت مکروہ کیا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/5/22 (1684 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ (۲۷۴) شعبان ۱۳۳۱ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عصر کا وقت مستحب  و وقت مکروہ کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب: نمازِ عصر میں ابر کے دن تو جلدی چاہیئے، نہ اتنی کہ وقت سے پیشتر ہوجائے۔ باقی ہمیشہ اس میں تاخیر مستحب ہے۔ اسی واسطے اس کا نام عصر رکھا گیا لانھا تعصر (یعنی وہ نچوڑ کے وقت پڑھی جاتی ہے) حاکم ودارقطنی نے زیاد بن عبداللہ نخعی سے روایت کی ''ہم امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کے ساتھ مسجد جامع میں بیٹھے تھے مؤذن نے آکر عرض کی: یا امیرالمومنین نماز۔ امیر المومنین نے فرمایا بیٹھو۔ وہ بیٹھ گیا۔ دیر کے بعد پھر حاضر ہوا اور نماز کیلئے عرض کی۔ امیرالمومنین نے فرمایاھذا الکلب یعلمنا السنۃ(یہ کتّا ہمیں سنّت سکھاتا ہے) پھر اٹھ کر ہمیں نمازِ عصر پڑھائی۔ جب ہم نماز پڑھ کر وہاں آئے جہاں مسجد میں پہلے بیٹھے تھےفجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نتراھا ۱(ہم زانوؤں پر کھڑے ہوکر سورج کو دیکھنے لگے کہ وہ غروب کے لئے نیچے اتر گیا تھا)''۔

(۱؎ سنن الدارقطنی     باب ذکر بیان المواقیت الخ    مطبوعہ نشر السنۃ ملتان    ۱/۲۵۱)

یعنی دیواریں اُس زمانے میں نیچی نیچی ہوتیں آفتاب ڈھلک گیا تھا بیٹھے سے نظر نہ آیا دیوار کے نیچے اُتر چکا تھا گھٹنوں پر کھڑے ہونے سے نظر آیا، مگر ہرگز ہرگز اتنی تاخیر جائز نہیں کہ آفتاب کا قرص متغیر ہوجائے اُس پر بے تکلف نگاہ ٹھہرنے لگے یعنی جبکہ غبارِ کثیر یا ابرِ رقیق وغیرہ حائل نہ ہو کہ ایسے حائل کے سبب تو ٹھیک دوپہر کے آفتاب پر نگاہ بے تکلف جمتی ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ صاف شفاف مطلع میں اس قدرتی دائمی حیلوات کرہئ بخار کے سبب کہ اُفق کے قُرب میں نگاہ کو اُس کا کثیر حصّہ طے کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے طلوع وغروب کے قرب آفتاب پر نگاہ بے تکلف جمتی ہے جب اُس سے اونچا ہوتا اور کرہئ بخار کا قلیل حصّہ حائل رہ جاتا ہے شعاعیں زیادہ ظاہر ہوتیں اور نگاہ جمنے سے مانع آتی ہیں اور یہ حالت مشرق ومغرب دونوں میں یکساں ہے جس کا حال اس شکل سے عیاں ہے ۱ب کرہئ زمین ہے ا موضع ناظر ہے یعنی سطح زمین کی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا شخص کھڑا ہے ح ء زمین کے سب طرف کرہئ بخار ہے جسے عالمِ نسیم وعالمِ لیل ونہار بھی کہتے ہیں اور یہ ہر طرف سطحِ زمین سے ۴۵ میل یا قول اوائل پر ۵۲ میل اونچا ہے اس کی ہوا اوپر کی ہوا سے کثیف تر ہے تو آفتاب اور نگاہ میں اس کا جتنا زائد حصّہ حاصل ہوگا اتنا ہی نور کم نظر آئے گا اور نگاہ زیادہ ٹھہرے گی ہ مرکز شمس ہے ا ہ ہر طرف وہ خطّہ ہے جو نگاہ ناظر سے شمس پر گزرتا ہے پہلے نمبر پر آفتاب افقِ شرقی سے طلوع میں ہے اور دوسرے تیسرے نمبر پر چڑھتا ہوا ساتویں نمبر پر افق غربی پر غروب کے پاس پہنچا ظاہر ہے کہ جب آفتاب پہلے نمبر پر ہے تو خطہ ا ہ کا حصّہ ا ر کرہئ بخار میں گزرا اور دوسرے پر ا ح تیسرے پر ا ط چوتھے پر ا ح، اور اقلیدس سے ثابت ہے کہ ان میں ا ر سب سے بڑا ہے اور آفتاب جتنا اُونچا ہوتا جاتا ہے ا ح ا ط وغیرہ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں کہ یہاں تک کہ نصف النہار پر خط ا ح سب سے چھوٹا رہ جاتا ہے ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ خط ا ح یعنی دوپہر کے وقت کا خط پانسو اٹھانوے۵۹۸ میل سے بھی زائد ہے پھر جب آفتاب ڈھلکتا ہے وہ خطوط اسی نسبت پر بڑے ہوتے جاتے ہیں ا ی برابر ا ط کے پڑتا ہے اور ا ک برابر ا ح کے اور ا ل برابر ا ر کے ہے یہاں سے واضح ہوگیا کہ یہ قدرتی دائمی سبب ہے جس کے باعث آفتاب جب نصف النہار پر ہوتا ہے اپنی انتہائی تیزی پر ہوتا ہے اور اُس سے پہلے اور بعد دونوں پہلوؤں پر جتنا افق سے قریب تر ہوتا ہے اُس کی شعاع دھیمی ہوتی ہے یہاں تک کہ شرق وغرب میں ایک حد کے قرب پر اصلاً نگاہ کو خیرہ نہیں کرتی مشرق میں جب تک اس حد سے آفتاب نکل کر اونچا نہ ہوجائے اُس وقت تک نماز منع اور وقت کراہت کا ہے اور مغرب میں جب آفتاب اس حد کے اندر آجائے اُس وقت سے غروب تک نماز منع اور وقت کراہت کا ہے، تو اس بیان سے سبب بھی ظاہر ہوگیا اوریہ بھی کھُل گیا کہ مشرق ومغرب دونوں جانب میں یہ وقت برابر ہے نہ یہ کہ مشرق کی طرف، تو یہ وقت پندرہ بیس منٹ رہے جو تقریباً ایک نیزہ بلندی کی مقدار ہے اور مغرب میں ڈیڑھ دو گھنٹے ہوجائے جو اُس سے کئی نیزے زائد ہے تجربہ سے یہ وقت تقریباً بیس منٹ ثابت ہُوا ہے تو جب سے آفتاب کی کرن چمکے اُس وقت سے بیس منٹ گزرنے تک نماز ناجائز اور وقت کراہت ہوا اور ادھر جب غروب کو بیس منٹ رہیں وقتِ کراہت آجائے گا، اور آج کی عصر کے سوا ہر نماز منع ہوجائے گی۔ ہاں یہ جو بعض کا خیال ہے کہ آفتاب متغیر ہونے سے مراد دھوپ کا مَیلا ہونا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں، جاڑے کے موسم میں تو آفتاب ڈھلکنے کے تھوڑی ہی دیر بعد کہ ابھی سایہ ایک مثل بھی نہیں پہنچتا اور بالاجماع وقتِ ظہر باقی ہوتا ہے یقینا آفتاب بہت متغیر ہوجاتا ہے اور بین طور پر دُھوپ میں زردی پیدا ہوجاتی ہے تو چاہئے کہ عصر کا وقت آنے سے پہلے ہی وقتِ کراہت آجائے اور نماز بے کراہت مل ہی نہ سکے اور یہ صریح باطل ومحال ہے،

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article زوال کا زیادہ سے زیادہ وقت کتنا ہے؟ نماز مغرب کا وقت کس وقت شروع ہوتا ہے؟ Next article
Rating 2.84/5
Rating: 2.8/5 (248 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu