• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > نماز مغرب کا وقت کس وقت شروع ہوتا ہے؟

نماز مغرب کا وقت کس وقت شروع ہوتا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/5/22 (2973 reads)
Page:
(1) 2 3 4 »

New Page 1

مسئلہ (۲۷۷) از سندیلہ مرسلہئ بعض علما بتوسط مولٰنا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی۔    دوم ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز مغرب کا وقت افق شرقی کی جڑ سے سیاہی نمودار ہوتے ہی معاً ہوجاتا ہے یا جب سیاہی بلند ہوجاتی ہے اُس وقت آفتاب ڈوبتا ہے برتقدیر ثانی وہ بلندی کتنے گز ہوتی ہے اور آبادیوں میں سیاہی شرق سے نظر آنے پر نماز کا وقت سمجھا جائے گا یا نہیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب: اقول:  وباللّٰہ التوفیق (اللہ تعالٰی کی مدد سے کہتا ہوں۔ ت) افق شرقی سے سیاہی کا طلوع قرص شمس کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہوتا ہے سیاہی کئی گز بلند ہوجاتی ہے اُس وقت آفتاب ڈوبتا ہے جس طرح قرض شمسی کے شرعی طلوع سے سیاہی غربی کا غروب بہت بعد ہوتا ہے آفتاب مرتفع ہوجاتا ہے اُس وقت تک سواد مرئی رہتا ہے اس پر عیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس الخبر کالمعاینۃ ۱(خبر مشاہدہ کی طرح نہیں۔  (۱؎ الجامع الصغیر مع فیض القدیر    حدیث ۷۵۷۴    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت  ۵/۳۵۷)

جسے شک ہو طلوع وغروب کے وقت جنگل میں جاکر جہاں سے دونوں جانب افق صاف نظر آئیں مشاہدہ کرے جو کچھ مذکور ہُوا آنکھوں سے مشاہدہ ہوجائے گا الحمداللہ عجائبِ قرآن منتہی نہیں۔کما فی حدیث الترمذی عن امیرالمؤمنین علی عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاتنقضی عجائبہ ۲۔جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں امیرالمومنین علی، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ (ت)

(۲؎ جامع الترمذی    ماجاء فی فضل القرآن    مطبوعہ امین کمپنی دہلی    ۲/۱۱۴)

ایک ذرا غور سے نظر کیجئے تو آیہ کریمہتولج الّیل فی النھار وتولج النھار فی الّیل ۳(تُو، رات کو دِن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ت)

( ۳؎ القرآن الحکیم        ۳/۲۷)

کے مطالعہ رفیعہ سے اس مطلب کی شعاعیں صاف چمک رہی ہیں رات یعنی سایہ زمین کی سیاہی کو حکیمِ قدیر عزجلالہ، دن میں داخل فرماتا ہے ہنوز دن باقی ہے کہ سیاہی اٹھائی اور دن کو سواد مذکور میں لاتا ہے ابھی ظلمتِ شبینہ موجود ہے کہ عروس خاور نے نقاب اٹھائی،

فان ایلاج شیئ فی شیئ یقتضی وجودھما، لاان یعدم احدھما فیعقبہ الاٰخر، واللیل والنھار بمعنی الملوین متضادان لایجتمعان، فلابد من التجوز۔ ومن اقرب وجوھہ ماذکر العبد، من حمل اللیل علی السواد، فیبقی النھار علٰی حقیقتہ ویظھر الایلاج من دون کلفۃ، ولایتجاوز التجوز قدر الحاجۃ۔ ویمکن العکس ایضا، بان یحمل النھار علی الاشعۃ الشمسیۃ واللیل علی حقیقتہ، فیکون اشارۃ الٰی ظھور نور الشمس فی الافق الشرقی واللیل باق بعد، کمافی الصبح الاول۔ وان ارید اللیل العرفی فاظھرو اکمل۔ والی حصول اللیل مع بقاء الضوء الشمسی فی الافق الغربی من الشفقین الاحمر والابیض وان کان الامام الفخر الرازی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایرضی ان یجعل تلک الانوار من الشمس حتی الصبح الصادق ایضا، کمااطال الکلام فیہ فی سورۃ الانعام، تحت قولہ عزوجل فالق الاصباح ۱

(۱؎ التفسیر الکبیر زیر آیت فالق الاصباح    مطبوعہ مطبعۃ بہیۃ مصریۃ    ۱۳/۹۵)

کیونکہ ایک چیز دوسری میں تبھی داخل کی جاسکتی ہے جب دونوں موجود ہوں، نہ کہ ایک ختم ہوجائے اور اس کے بعد دوسری آئے۔ اور دلیل ونہار بمعنی رات دن، آپس میں متضاد ہیں، اکٹھے نہیں ہوسکتے، تو مجازی معنی مراد لینا ضروری ہے۔ اور اس کا اقرب طریقہ وہی ہے جو بندے نے بیان کیا ہے کہ لیل سے مراد تاریکی لی جائے اور نہار اپنے حقیقی معنی میں ہو۔ اس طرح داخل کرنے کا مفہوم بغیر کسی تکلف کے ظاہر ہوجائے گا اور مجاز کی طرف ضرورت سے زیادہ نہیں جانا پڑے گا۔ اور اس کا عکس بھی ممکن ہے، یعنی نہار سے مراد سورج کی شعاعیں لی جائیں اور لیل اپنی حقیقی معنی میں ہو۔ اس صورت میں آیت کے اندر اشارہ ہوگا کہ مشرقی افق میں سورج کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے اور رات ابھی باقی ہوتی ہے جیسا کہ صبح کاذب کے وقت ہوتا ہے۔ اور اگر لیل سے مراد لیل عرفی لی جائے تو یہ مفہوم مزید واضح اور کامل ہوجاتا ہے۔ نیز اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہوگا کہ مغربی افق میں شفق احمر اور ابیض کے دوران سورج کی روشنی باقی ہوتی ہے، اس کے باوجود رات ہوجاتی ہے اگرچہ امام فخرالرازی ان روشنیوں کو، حتی کہ صبح صادق کی روشنی کو بھی سو رج کی روشنی ماننے پر بھی راضی نہیں ہیں، جیسا کہ سورہئ انعام کی تفسیر میں اللہ تعالٰی کے فرمان ''فالق الاصباح'' کے تحت انہوں نے اس موضوع پر لمبی گفتگو کی ہے،

ولیس الامر کماظن، واغتر بقولہ العلامۃ الزرقانی فظن ان ھذا مذھب منقول، فنسبہ لاھل السنۃ، مع انہ لیس الامن توسعات الامام فی البحث والکلام ولم یستدل لہ الاببحث عقلی، لاتام ولاجلی۔ ومن البدیھی عندکل احدان الشفق والصبح اختان، وماامرھما الاواحدا۔ وقداخرج ابی شیبۃ عن العوام بن حوشب قال: قلت لمجاھد، ماالشفق؟ قال: ان الشفق من الشمس ۱۔

(۱؎ الدر المنثور زیر آیۃ فلااقسم بالشفق مطبوعہ مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی قم، ایران ۵/۳۳۰)

ذکرہ فی الدر المنثور، تحت قولہ تعالٰی فلااقسم بالشفق، بل فی التفسیر الکبیر تحت الکریمۃ، اتفق العلماء علی انہ اسم للاثر الباقی من الشمس فی الافق بعد غروبھا ۲؎۔

(۲؎ التفسیر الکبیر ، زیر  آیۃ  فلااقسم  بالشفق   مطبوعہ مطبعۃ  ہیۃ مصریہ  مصر ، ۳۱/۱۰۹)

اما دلیلہ العقلی فقدردہ العبد الضعیف بکلام لطیف ذکرتہ علی ھامشہ وباللّٰہ التوفیق۔

Page:
(1) 2 3 4 »

Navigate through the articles
Previous article سایہ اصلی دو مثل نہ ہو تو عصر کی جماعت ٹھیک ہے مغرب کے ایک گھنٹے بیس منٹ بعد وقت عشاء آجاتا ہے Next article
Rating 2.57/5
Rating: 2.6/5 (244 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu