• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > تنگ وقت نماز کی تفصیل کیا ہے؟

تنگ وقت نماز کی تفصیل کیا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/5/22 (1230 reads)

New Page 1

مسئلہ (۲۷۸) از شہرکُنہ مسئولہ خیاط وہابی    ۲۹ ربیع الآخر شریف

تنگ وقت نماز ادا کرنے والے کو اللہ تعالٰی ویل فرماتا ہے اور آپ خود تنگ وقت ادا فرماتے ہیں اس کی تفصیل بیان فرمادے گا۔

الجواب:  تنگ وقت نماز اداکرنے پر قرآن عظیم میں ویل کہیں نہ فرمایا ساھون کے لئے وَیل آیا ہے جو وقت کھوکر نماز پڑھتے ہیں حدیث میں اس آیت کی یہی تفسیر فرمائی ہے بزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم اور طبرانی اور ابن مردویہ تفسیر اور بہیقی سنن ومحی السنہ بغوی معالم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:

قال سألت النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن قول اللّٰہ تعالٰی الذین ھم عن صلوتھم ساھون، قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا ۲؎۔

 (۲؎ السنن الکبری للبہیقی باب الترغیب فی حفظ الصّلوٰۃ الخ    مطبوعہ دارصادر بیروت ۲/۲۱۴)

میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں اللہ عزّوجل قرآنِ عظیم میں فرماتا ہے ''خرابی ہے اُن نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں''۔ فرمایا وہ لوگ جو نماز وقت گزار کر پڑھیں۔

بغوی کی روایت یوں ہے: عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما انہ قال سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوتھم ساھون، قال: اضاعۃ الوقت ۱۔

مصعب بن سعد سے انکے والد رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا: اس سے مراد وقت کھونا ہے۔ (ت)

(۱؎ تفسیر البغوی مع تفسیر الخازن  ، زیر آیۃ الذین ھم عن صلٰوتھم ساھون  ، مطبوعہ مکتبہ المصطفیٰ البابی مصر    ۷/۲۹۹)

کھونا ہے۔ بعینہٖ یہی معنی ابن جریر نے عبداللہ بن عباس اور ابن ابی حاتم نے مسروق اور عبدالرزاق وابن المنذر نے بطریق مالک بن دینار امام حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیے روایت اخیرہ یوں ہے کہ ابو العالیہ نے کہا ساھون وہ لوگ ہیں جنہیں یاد نہ رہے کہ رکعتیں دو۲ پڑھیں یا تین۳۔ اس پر امام حسن نے فرمایا: ھو الذی یسھوعن میقاتھا حتی تفوت (ہائیں وہ وہ ہیں جو اُس وقت سے غافل رہیں یہاں تک کہ وقت نکل جائے۔ م) فقیر کے یہاں بحمداللہ نماز تنگ وقت نہیں ہوتی بلکہ مطابق مذہب حنفی ہوتی ہے، عوام بیچارے اپنی ناواقفی سے غلط سمجھتے ہیں، مذہب حنفی میں سوا مغرب اور جاڑوں کی ظہر کے سب نمازوں میں تاخیر افضل ہے اُس حد تک کہ وقتِ کراہت نہ آنے پائے اور وہ عصر میں اُس وقت آتا ہے جب قرصِ آفتاب پر بے تکلّف نگاہ جمنے لگے اور تجربے سے ثابت کہ یہ بیس منٹ دن رہے ہوتا ہے اس سے پہلے پہلے جو نماز عَصر اُس کے وقت کا نصف اول گزار کر نصف آخر میں ہو وہ وقت مستحب ہے مثلاً آج کل تقریباً سات۷ بجے غروب ہے اور قریب پانچ کے عصر کا وقت ہوجاتا ہے تو وقت مستحب یہ ہے کہ پانچ بج کر پچاس منٹ سے چھ بج کر چالیس منٹ تک نمازِ عصر پڑھیں اور عشا میں وقتِ کراہت آدھی رات کے بعد ہے یہ حالتیں بحمداللہ تعالٰی میرے یہاں نہیں مجھے پابندی امام ابُوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احکام کی ہے نہ جاہلوں کے خیالات واوہام کی دارقطنی سنن اور حاکم صحیح مستدرک میں بطریق عباس بن ذریح، زیاد بن عبداللہ نخعی سے راوی:

قال کنا جلوسا مع علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی المسجد الاعظم فجاء المؤذن فقال: یاامیر المؤمنین! فقال: اجلس، فجلس ثم عاد فقال لہ ذلک، فقال رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، ھذا الکلب یعلمنا السنۃ، فقام علی فصلی بنا العصر، ثمّ انصرفنا، فرجعنا الی المکان الذی کنافیہ جلوسا، فجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نترااٰھا ۱؎۔

ہم کُوفہ کی جامع مسجد میں مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کے پاس بیٹھے تھے، مؤذن آیا اور عرض کی: یاامیرالمومنین (یعنی نمازِ عصر کو تشریف لے چلیے) امیرالمومنین نے فرمایا: بیٹھ۔ وہ بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ حاضر ہُوا اوروہی عرض کی۔ مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ، نے فرمایا: یہ کُتّا ہمیں سُنّت سکھاتا ہے۔ بعدہ مولا علی کھڑے ہوئے اور ہمیں عصر پڑھائی پھر ہم نماز کا سلام پھیر کر مسجد میں جہاں بیٹھے تھے وہیں آئے تو گھُٹنوں کے بل کھڑے ہوکر سورج کو دیکھنے لگے اس لئے کہ وہ ڈوبنے کو اُترگیا تھا۔

 (۱؎ سُنن الدارقطنی، باب ذکر بیان المواقیت الخ ، مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ، ۱/۲۵۱)

حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے اما ان زیاد الم یرو عنہ غیر العباس ۲؎،رہی یہ بات کہ زیاد سے سوائے عباس کے کسی نے روایت نہیں کی،

 (۲؎سُنن الدارقطنی        باب ذکر بیان المواقیت الخ        مطبوعہ نشر السنۃ ملتان    ۱/۲۵۱)

قالہ الدارقطنی، فاقول: عباس ثقۃ، وغایتہ جھالۃ عین، فلا تضر عندنا، لاسیما فی اکابر التابعین۔ قال فی المسلّم، لاجرح بان لہ راویا فقط وھومجھول العین باصطلاح ۳؎۔

جیسا کہ دارقطنی نے کہا ہے، تو میں کہتا ہوں: عباس ثقہ ہے، زیادہ سے زیادہ اس میں ''جہالت عین'' پائی جاتی ہے اور یہ ہمارے نزدیک مضر نہیں ہے، خصوصاً اکابر تابعین میں۔ مسلّم میں ہے کہ یہ کوئی جرح نہیں ہے کہ فلاں سے ایک ہی راوی ہے اور وہ اصطلاحی طور پر ''مجہول العین'' ہے،

(۳؎ مسلّم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت    مسئلہ مجہول الحال الخ    مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم، ایران۲/۱۴۹)

فواتح میں ہے کہ بعض نے کہا کہ ایسا راوی قابل قبول نہیں ہے، لیکن یہ بے دلیل بات ہے۔ 

(۴؎ فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت    مسئلہ مجہول الحال الخ۲/۱۴۹)

اگر یہ مولیٰ علی کا صرف اپنا فعل ہوتا جب بھی حجت شرعی تھا نہ کہ وہ اسے صراحۃً سنّت بتارہے اور مؤذن پر جو جلدی کا تقاضا کرتا تھا ایسا شدید غضب فرمارہے ہیں، اسی کی مثل امیرالمومنین کرم اللہ تعالٰی وجہہ، سے نمازِ صبح میں مروی امام طحاوی بطریق داود بن یزید الاودی عن ابیہ روایت فرماتے ہیں:

قال کان علی ابن ابی طالب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یصلی بناالفجر ونحن نتراای الشمس مخافۃ ان تکون قدطلعت ۱؎۔

مولیٰ علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ ہمیں نماز صبح پڑھایاکرتے اور ہم سورج کی طرف دیکھا کرتے تھے اس خوف سے کہ کہیں طلوع نہ کر آیاہو ۔

(۱؎ شرح معانی الآثار باب الوقت الذی یصلی فیہ الفجرای وقت ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۲۳)

مناقب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ للامام حافظ الدین الکردری میں ہے:ذکر الامام الدیلمی عن زھیر ابن کیسان قال صلیت مع الرصافی العصر ثم انطلقت مسجد الامام فاخر العصر حتّٰی خفتُ فوات الوقت ثم انطلقت الٰی مسجد سفین فاذاھو لم یصل العصر فقلت رحم اللّٰہ اباحنیفۃ مااخرھا مثل اخر سفین ۲؎یعنی امام دیلمی نے زہیربن کیسان سے روایت کی کہ میں رصافی کے ساتھ نماز عصر پڑھ کر مسجد امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں گیا امام نے عصر میں اتنی تاخیر فرمائی کہ مجھے خوف ہُوا کہ وقت جاتا رہے گا پھر میں مسجد امام سفین ثوری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف گیا تو کیا دیکھوں کہ اُنہوں نے ابھی نماز پڑھی بھی نہیں میں نے کہا اللہ ابوحنیفہ پر رحمت فرمائے انہوں نے تو اتنی تاخیر کی بھی نہیں جتنی سفیٰن نے۔

 (۲؎ مناقب امام اعظم ابوحنیفہ    للکُردری الفصل الثانی فی اصول بنی علیہ مذہب مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ۱/۱۵۲)

فقیر کے یہاں سَوا گھنٹا دن رہے اذانِ عصر ہوتی ہے اور گھنٹا بھر دن رہے نماز ہوتی ہے اور پون گھنٹا دن رہے سے پہلے ہوچُکی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article سایہ اصلی دو مثل نہ ہو تو عصر کی جماعت ٹھیک ہے مغرب کے ایک گھنٹے بیس منٹ بعد وقت عشاء آجاتا ہے Next article
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (277 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu