• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > علم توقیت کا مسئلہ

علم توقیت کا مسئلہ

Published by Admin2 on 2012/5/25 (1259 reads)

New Page 1

مسئلہ (۲۸۹از شہسرام مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس اوّل مدرسہ مذکور     ۹ رمضان ۱۳۳۵ھ بحضور اعلٰیحضرت عظیم البرکت قبلہ وکعبہ دام ظلّہم الاقدس۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،۔ خاکسار حضورِ والا کے قواعدِ فرمودہ کے مطابق برابر وقت نکالا کرتا تھا مگر اس دفعہ جب میں مدراس گیا وہاں مولوی عبداللہ صاحب کی احقر سے ملاقات ہُوئی وہ برابر وقت مدراس شائع کیا کرتے ہیں چنانچہ ایک تختہ جس پر سال تمام شمسی کے اوقات اُنہوں نے استخراج کرکے شائع کیا ہے مجھے دیا اور یہ کہا کہ: پرچہ میں نے برہلی بھی روانہ کیا ہے تاکہ وہ حضرات میری غلطی پر مجھے متنبہ فرمائیں اس کی طرف توجہ فرمائیی، جناب کو میں بھی اسی غرض سے دیتا ہوں، چنانچہ وہ پرچہ لیتا ہوا میں یہاں آیا ۲۲ جون ۱۹۱۷ء سے میں نے جانچ شروع کیا وقت غروب میرے قاعدہ کے مطابق ۶ بج کر ۳۷ منٹ ۲۵ سیکنڈ اور طلوع ۵ بج کر ۴۴ منٹ ۱۹ سکنڈ ہوا اور اس نقشہ میں غروب ۶ بج کر ۳۴، اور طلوع ۵ بج کر ۴۸ منٹ لکھا ہے، غرض ۳، ۴ منٹ کا فرق ہے عشاء کا وقت نقشہ میں ۷ بج کر ۵۶ منٹ لکھا ہے میں پریشان ہوا کہ آخر فن کا جاننے والا اس قدر غلطی کیا کرے گا لاجرم میں نے اپنے ہی مستخرج وقت کو غلط سمجھ کر اس غلطی کی جستجو میں ہُوا تو سوا اس کے اور کچھ سمجھ میں نہ آیا میں نے بوجہ موافق الجہۃ ہونے کے عرض بلد اور مَہل سے تفریق کرکے حاصل فرق کو جمع کرکے عمل کیا ہے اور جگہ کہلئے مَیل کو عرض بلد سے کم کرکے حاصل فرق الح الونح میل سے عمل کرنا ہوتا ہے اور یہاں عرض بلد بہت کم ہونے کی وجہ سے میل کو۔۔۔۔۔ عرض بلد سے کم کیا گیا ہے اُس کے بعد یہ خیال ہوا کہ یہ وقت تو اخیر پنجاب قریب کشمیر کا ہونا چاہئے جہاں کا ۔۔۔۔۔

 

       

 

عرض لح مط مح ہوکہ الح الونح کو اُس کو تفریق کرکے ی الـــجبچتا ہے اب پریشانی ہے کہ یہاں کا عمل کس طرح ہوگا اگرچہ قاعدہ کے یہ لفظ (اگر موافق الجہۃ ہو تفاضل لیں) اس کو بھی عام ہے اس لئے اس کا قاعدہ ارشاد ہو کہ جب عرض مَیل سے کم ہوگا تو کیاکیا جائے گا۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

الجواب: ولدی الاعز جلہ اللہ تعالٰی کاسمہ ظفرالدین المتین آمین، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مولوی عبداللہ صاحب کا کوئی تختہ اوقاتِ مدراس یہاں نہ آیا صرف ایک چھوٹے رسالہ تحفۃ المصلی کے کہ سمت قبلہ میں ہے دو۲ نسخے ایک پلندے میں آئے تھے وقت کا قاعدہ یقینا وہی ہے کہ جب عرض ومَیل متفق الجہۃ ہوں تفاضل لیا جائیگا

یعنی اُن میں جو اصغر ہو اکبر سے تفریق کیا جائیگا عرض ہو خواہ مَیل تو مدراس جس کا عرض حہ ء ہے اُس میں راس السرطان کا بعد اقل جس کا میل مَیل کلی الح الر ہے ی حہ الح ہوا، نیز وہ شہر جس کا عرض شمالی لح حہ ہو اُس میں بھی راس السرطان کا بعد اقل وہی ی حہ الح ہوگا غایت یہ کہ مدراس میں یہ بعد سمت الراس سے شمالی ہوگا اور اُس شہر میں جنوبی دونوں نصف اور ان کی جیبیں اور قاطع مَیل سب بدستور رہیں گے اور فرق وقت بوجہ قاطع عرض ہوگا مثلاً صبح وعشا ہے راس السرطان بہ مدراس کا حساب بھیجتا ہوں یہاں مجموعہ اربعہ ۸۵۹۲۷۸۶ء۹ ہوا اور وقت عشا ۴ ۷۴۶ ت آیا اور اس شہر میں مجموعہ ۹۲۸۴۶۱۹ء۹ ہوا اور وقتِ عشا ۸۵۶۳۱ ت ایک گھنٹہ دس۱۰ منٹ سے زیادہ فرق ہوگیا طلوع وغروب کہ آپ نے نکالے یہی صحیح ہیں جن کی صحت اس پرچہ مؤامرہ سے ظاہر یہ حقیقی وقت ہیں اور اس السرطان کی تعدیل الایام مزید ۳۴ء۳۴ ۱اور وسط ہندسے فصل غربی مدراس ۹ تو مجموعہ ۳۴ء۱۰۳۴ بڑھانے سے

مدراس کا وقت ریلوے حاصل ہوگا یہ وقت غروب وہی ہے

 

       

 

جو آپ نے نکالا تین سکنڈ کا تفاوت ان فرقوں سے ہوا کہ آپ نے میل لیا جو ۲۲ جون سنہ حال کو گرینچ کے نصف النہار کا تھا اور میں نے الح حہ الر جو باسقاطِ خفیف ثوانی مَیل کلی ہے پھر آپ نے بُعدِ سَمتی افق مطلق حسبِ دستور سابق کہ میرے یہاں معمول تھا صہ حہ نالیاہوگا اور اب میں صہ حہ لدمہ رکھتا ہوں البتہ طلوع میں ۳۹ سکنڈ کا تفاوت آنا اس پر دال ہے کہ آپ نے تعدیل الایام ۵۲ اَ لی جو ۲۳ جون کی تعدیل مرصدی ہے اور ۹ منٹ فصل طول مل کر ۱۰۵۲دونوں وقت حقیقی غروب وطلوع پر زائد کیی۔ دلیل یہ کہ آپ کے یہاںمعدّل بتعدیل ریلوے وقت غروب ۶۳۷۲۵ ت اور طلوع ۵۴۴۱۹ت

اس کا تمام ۵۲۲۳۵ تمام غروب ۵۲۲۳۵

            =۲۱۴۴

            نصفہ ۱۰۵۲

یہی منٹ سکنڈ آگئے جو تعدیل مرصدی ۲۳ جون کے تھے۔

اس سے ثابت ہوا کہ اپ کے یہاں وقت حقیقی غروب ۶۲۶۳۳ ت آیا اور طلوع ۵۳۳۲۷ ت تو آپ کے اور یہاں کے محسوب میں ۲۱ سکنڈ کا تفاوت ہے خیر ایسا کثیر نہیں۔ مدراسی صاحب کا حساب یقینا وجہ صحت نہیں رکھتا کہ غروب ساڑھے تین منٹ کم ہے اور طلوع سوا چار منٹ زیادہ، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہوں نے طلوع وغروب نکالنے کا قاعدہ ہی استعمال نہ کیا بلکہ معمولِ عوّامِ بے علم کی طرح طلوع وغروبِ نجومی حقیقی مرکزی لے کر اُن میں تعدیل ریلوے ملادی ظلِّ مَیل

 

راس السرطان ۶۳۷۲۶۴۶ء۹ اس جیب کی قوس تقریباً ہ مر ہے جس کا وقت + ظِلّ عَرضِ مدراس         ۳۶۵۶۶۴۱ء۹

۰۲۹۲۸۷ ۰ء۹ الح قہ ح :. غروب نجومی و ت ا لح ح     روا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے لو ظاہر وہی ی قہ نب لیی ہیں

       

       

       


Navigate through the articles
Previous article اوقات نمازمیںکسی نمازکا فاصل وقت مقررکرنا کیسا طلوع آفتاب کے کتنی دیر بعد نماز قضا پڑھنے کا حکم ہے Next article
Rating 2.91/5
Rating: 2.9/5 (236 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu