• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Timing of Prayers / اوقات نماز > ظہر کی نماز کا اصلی وقت

ظہر کی نماز کا اصلی وقت

Published by Admin2 on 2012/5/25 (995 reads)

New Page 1

مسئلہ (۲۹۷) از موضع سراں ڈاک خانہ بشندورتحصیل ضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۷ شعبان ۱۳۳۷ھ

بخدمت جناب فیض مآب سرتاجِ حنفیان حضرت احمد رضا خان صاحب ادام اللہ فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالٰی کے بعد بہزار آداب التماس کہ یم حنفیان کو بڑا فخر ہے کہ آپ جیسے مجتہد فقیہ خلیفہ امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی وامام اعظم اس زمانے کے آپ موجود ہیں ان مسئلوں مفصلہ ذیل کی سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر بتحقیق عمیق وتدقیق مایطیق ارشاد فرمادیں عنداللہ ماجور ہوں گے اما مسئلہ اولٰی فی الزوال کی اور شناخت وقت ظہر کی سخت ضرورت ہے میں اس سے بہت حیران ہوں بعض اوقات مجمع عام میں نماز ظہر جو بدخول وقت اوّل ہی پڑھی جاتی ہے مگر مجھے یقین دخولِ وقت کا بھی نہیں ہوتا آپ تحریر فرمائیں کہ بارہ۱۲ بجے کے بعد ایک دو منٹ پر وقت ظہر داخل ہوتا ہے یا نہیں اور جن دیہات میں حساب گھڑی کا نہ ہو تو مسجد کے دروازہ سے اگر سایہ باہر ایک دو انگشت نکلے تو ظہر داخل ہے یا نہ، پھر جب سایہ بڑھنے میں ہوتو وقت ظہر داخل ہے یا نہ قبل قیام ظہیرہ نصف نہار کے سایہ گھٹتا رہتا ہے نصف نہار کو کھڑا ہوتا ہے پھر بڑھنے لگتا ہے جب سایہ بڑھانے میں ہوتو ظہر داخل ہے یا نہ، اور سایہ اصلی ظہر کے واسطے نکالا جاتا ہے یا نہ شناخت ظہر سفر حضر میں کس طرح ہوتی ہے اور سایہ اصل قبل زوال یا وقت زوال یا بعد زوال کیا ہوتا ہے اور سایہ اصلی بوقتِ دوپہر بطرف شمال ہوتا ہے پس عصر کے واسطے مقیاس کی بیخ سے سایہ اصلی خارج بطرف مشرق کیا جاتا ہے یا کہ بطرف شمال خارج کرکے پھر دو چند کیا جائے فرائد سنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بطرف شمال سایہ اصلی کو چھوڑ کر دو چند کیا جائے۔ عبارت فرائد سنیہ کی یہ ہے۔

معرفۃ فیئ الزوال یغرز خشبۃ مستویۃ فی ارض مستویۃ قبل الزوال فالظل ینقص فاذاوقف لم ینقص ولم یزد فھو قیام الظھیرۃ فاذا اخذ فی الزیادۃ فقد زالت الشمس فخط علی راس الزیادۃ خطا فیکون من راس الخط الی العود فیئ الزوال فاذا صار ظل العود مثلہ اومثلیہ من راس الخط لامن موضع غرز العود خرج وقت الظھر ودخل وقت العصر وفیئ الزوال یکون الی الشمال ۱؎۔

فیئ الزوال کی پہچان۔ زوال سے پہلے ایک سیدھی لکڑی ہموار زمین میں نصب کی جائے تو اس کا سایہ کم ہوتا جائیگا، جب سایہ ٹھہر جائے اور گھٹے بڑھے نہ تو یہ قیام ظہیرہ کا وقت ہے۔ جب بڑھنے لگے تو سورج کا زوال شروع ہوجاتا ہے، اب جہاں سے بڑھنے کا آغاز ہوا ہے وہاں ایک لکیر بطور نشانی لگا دو، اس لکیر سے لکڑی تک جو سایہ ہے یہ فیئ الزوال ہے، جب لکڑی کا سایہ اس کی ایک مثل یا دو مثل ہوجائے یعنی لکیر سے، نہ کہ لکڑی کی جڑ سے، تو ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا اور عصر کا وقت داخل ہوجائے گا اور زوال کا سایہ شمالی کی جانب ہوتا ہے۔ (ت)

 (۱؎ فرائد سنیہ)

اس مسئلہ کی مجھے سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر اس میں اچھی غور فرماکر پھر ان میں جو جو میرے سوالات ہیں جن کے سبب میں غلطی میں پڑا ہُوں ان کو بنور سواد منور فرماؤ۔

الجواب: نصف النہار وفیئ الزوال کی یہ کافی پہچان ہے جو آپ نے فرائد سنیہ سے نقل کی ہموار زمین میں سیدھی لکڑی عمودی حالت پر قائم کی جائے اور وقتاً فوقتاً سایہ کو دیکھتے رہیں جب تک سایہ گھٹنے میں ہے دوپہر نہیں ہوا اور جب ٹھہر گیا نصف النہار ہوگیا اس وقت کا سایہ ٹھیک نقطہ شمال کی جانب ہوگا اسے ناپ رکھا جائے کہ یہی فیئ الزوال ہے اس سے پہلے سایہ مغرب کی طرف تھا جب سایہ بڑھنے لگا دوپہر ڈھل گیا اب سایہ مشرق کی طرف ہوجائے گا جب لکڑی کا سایہ مشرق وشمال کے گوشہ میں اُسے فے ءالزوال کی مقدار اور لکڑی کے دو مثل کو پہنچ گیا مثلاً آج ٹھیک دوپہر کو لکڑی کا سایہ اُس کا نصف مثل تھا اور اُس وقت خاص نقطہ شمال کو تھا اب وقتاً فوقتاً بڑھے گا اور مشرق کی طرف جھکے گا جب سایہ لکڑی کا ڈھائی مثل ہوجائے عصر ہوگیا اور اس سے زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ صحیح کمپاس سے نہایت ہموار زمین میں سیدھا خط جانبِ قطب کھینچ لیجئے اور اس خط کے جنوبی کنارے پر وہ لکڑی عموداً قائم کیجئے لکڑی کا سایہ جب تک اس خط سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہوا جب سایہ اس خط پر منطبق ہوجائے ٹھیک دو پہر ہے اور اُسی وقت کا سایہ فیئ الزوال ہے جب سایہ اس خط سے مشرق کو ہٹے دوپہر ڈھل گیا مسجد کی مشرقی دیوار اگر سیدھی ہموار اور ٹھیک نقطتین جنوب وشمال کو ہے اور اُس کے دونوں پہلو پر زمین ہموار ہے تو اُس سے بھی شناخت ہوسکتی ہے دیوار کا سایہ جب تک اُس سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہُوا اور جب مشرق کو پڑے دوپہر ڈھل گیا اور جب دونوں پہلوؤں پر سایہ نہ ہو تو ٹھیک دوپہر ہے گھڑیوں کے بارہ۱۲ سے اس کی شناخت تعدیل الایام وفصل طول جاننے پر منحصر ہے اصل بلدی وقت سے دوپہر کبھی سوابارہ۱۲ بجے بھی نہیں ہوتا اور کبھی پونے گیارہ بجے ظہر ہوجاتا ہے اور جبکہ گھڑیاں مقامی وقت پر نہ چلیں بلکہ دوسری جگہ کے وقت پر جیسے ہندوستان میں شرق سے غرب تک ساری گھڑیاں وسطِ ہند کے وقت پر جاری ہیں جس کا طول ۸۲ درجے ۳۰ دقیقے ہے جب تو بہت کثیر تفاوت ہوجائے گا مثلاً جہلم میں ۱۱ فروری کو ۱۲ بج کر انچاس۴۹ منٹ تک بھی دوپہر نہ ہوگا اور کلکتہ میں نومبر کی چوتھی کو ۱۱ بج کر ۲۰ منٹ پر وقتِ ظہر ہوجائے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article اوقات نمازمیںکسی نمازکا فاصل وقت مقررکرنا کیسا طلوع آفتاب کے کتنی دیر بعد نماز قضا پڑھنے کا حکم ہے Next article
Rating 2.95/5
Rating: 2.9/5 (259 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu