• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > مسجد کے اندر اذان دینا کیسا؟

مسجد کے اندر اذان دینا کیسا؟

Published by Admin2 on 2012/5/30 (1417 reads)

New Page 1

مسئلہ (۳۲۵) از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب مارہروی    ۲۰ صفر ۱۳۱۱ھ

اذان دینا اندرمسجد کے آپ نے فرمایا تھا مکروہ ہے،میں نے یہاں کے لوگوں سے ذکر کیا اُن لوگوں نے کتاب کا ثبوت چاہا اُمید کہ نام کتاب مع بیان مقام کہ فلاں مقام پر لکھاہے تکلیف فرماکر لکھا جائے اور یہ بھی لکھا جائے کہ کون سا مکروہ ہے؟

الجواب: فتاوائے امام اجل قاضی خان وفتاوائے خلاصہ وبحرالرائق شرح کنز الدقائق وشرح نقایہ للعلامۃ عبدالعلی البرجندی وفتاوٰی عٰلمگیریہ وحاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح وفتح القدیر شرح ہدایہ وغیرہا میں اس کی منع وکراہت کی تصریح فرمائی امام فخرالملّۃ والدّین اوزجندی فرماتے ہیں:ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج السجد ولایؤذن فی المسجد ۲؎۔اذان مینار پر یا مسجد کے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے۔ (ت)

 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان، مسائل الاذان    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ  ۱/۳۷)

امام طاہر بن احمد بخاری فرماتے ہیں:لایؤذن فی المسجد ۳؎ (مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)

 (۳؎ خلاصۃ الفتاوی    الفصل الاول فی الاذان    مطبع نولکشور لکھنؤ        ۱/۴۹)

علامہ زین بن نجیم وعلامہ عبدالعلی برجندی نے ان سے اور فتاوائے ہندیہ میں امام قاضی خان سے عباراتِ مذکورہ نقل فرماکر مقرر رکھیں علّامہ سید احمد مصری نے فرمایا:یکرہ ان یؤذن فی المسجد کمافی القھستانی عن النظم ۴؎ (مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی نے نظم سے نقل کیا ہے۔ ت)

(۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح     باب الاذان    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۱۰۷)

امام اجل کمال الدین محمد بن الہمام فرماتے ہیں: الاقامۃ فی المسجدولابدمنہ واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم تکن ففی فناء المسجد وقالوا لایؤذن فی المسجد ۱؎۔تکبیر مسجد کے اندر کہی جائے اور اس کے بغیر کوئی اور صورت نہیں البتہ اذان منارہ پر دی جائے، اگر وہ نہ ہوتو فنائے مسجد میں دینی چاہئے اور فقہا نے بیان کیا ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)

 (۱؎ فتح القدیر        باب الاذان        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۲۱۵    )

اور اس مسئلہ میں نوع کراہت کی تصریح کلمات علما سے اس وقت نظرِ فقیرمیں نہیںہاں صیغہ ''لایفعل'' سے متبادر کراہت تحریم ہے کہ فقہائے کرام کی یہ عبارت ظاہراً مشیر ممانعت وعدم اباحت ہوتی ہے علامہ محمد محمد محمد ابن امیرالحاج نے حلیہ میں فرمایا:قول المص لایزید یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ ۲؎ (مصنف کا قول ''لایزید'' اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ زیادتی جائز نہیں۔ ت)

 (۲؎ حلیہ)

نظیر اس کی ''یفعل ویقول'' ہے کہ ظاہراً مفید وجوب ہےکمانص علیہ ایضاً فیھا (جیسا کہ اس پر بھی اس میں تصریح ہے۔ ت)یونہی عبارت نظم میں لفظ ''یکرہ'' کہ غالباًکراہت مطلقہ سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے :کمافی الدرالمختاروردالمھتار وغیرھما من الاسفار ویؤیدہ منع رفع الصوت فی المساجد کمافی حدیث ابن ماجۃ جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وسل سیوفکم ورفع اصواتکم ۳؎ وقدنھوا عن رفع الصوت بحضرۃ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وحذروا علی ذلک من حبط الاعمال والحضرۃالالٰھیۃ احق بالادب کماتری یوم القیمۃ ''وخشعت الاصوات للرحمٰن فلاتسمع الاھمسا''وبھذا یضعف مایظن ان لیسفیہ الاخلاف السنۃ فلایکرہ الاتنزیھا علی ان التحقیق ان خلاف السنۃ المتوسطۃ متوسط بین کراھتی التنزیہ والتحریم وھو المُعبّر بالاساء ۃ کماسیظھر لمن لہ المام بخدمۃ العلمین الشرفین الفقہ والحدیث فلیراجع ولیحرر واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

جیسا کہ دُرمختار، ردالمحتار اور دیگر معتبر کتب میں ہے اور مساجدمیںبلندآواز سے منع کرنا بھی اس کی تائید کرتا ہے جیسا کہ حدیث ابن ماجہ میں ہے، اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچّوں سے، دیوانوں سے، تلواروں کو سَونتنے سے اور آوازوں کو بلند کرنے والوں سے محفوظ رکھو،اور بارگاہِ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر تمام اعمال کے ضائع ہونے کی دھمکی دی گئی ہے،اور بارگاہِ خداوندی اس ادب واحترام کے زیادہ لائق ہے جیسا کہ تم قیامت کے روز دیکھو گے رحمٰن کے لئے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی تو تُو نہیں سنے گا مگر بہت آہستہ آواز۔ اس گفتگو سے یہ گمان وقول ضعیف ہوجاتا ہے کہ یہ عمل صرف خلاف سنت ہے تو اس میں صرف کراہت تنزیہی ہے۔ علاوہ ازیں تحقیق یہ ہے سنتِ متوسطہ کا خلاف کراہت تنزیہی اور تحریمی کے درمیان ہوتا ہے اور اس کو ''اساء ۃ'' سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ یہ اس شخص پر ظاہر ہوجائیگا جس نے دو۲ مقدس علوم حدیث وفقہ کی خدمت کی ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اسے ذہن نشین کرنا چاہئے۔ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)

 (۳؎ سُنن ابن ماجہ    باب مایکرہ فی المساجد    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۵)


Navigate through the articles
Previous article اذان کے بعد صلوۃ کہنا کیسا؟ اذان کے بعد اعلان کر کے نمازیوں کو بلانا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.74/5
Rating: 2.7/5 (278 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu