• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > موذن کی بغیر اجازت دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے؟

موذن کی بغیر اجازت دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/5/31 (1065 reads)

New Page 1

مسئلہ (۳۲۷) از کلکتہ دھرم تلا ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۵رجب ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی بغیر اجازت دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا نہیں؟درصورت عدمِ جواز بدون اجازتِ مؤذن سائل حدیث شریف سے سند چاہتاہے اور کہتاہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ اذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہاکرتے۔ بینوا توجروا۔

الجواب : ناجائز نہیں، ہاں خلاف اولی ہے اگر مؤذن حاضر ہو اور اسے گراں گزرے ورنہ اتنا بھی نہیں۔ مسند امام احمد وسنن اربعہ وشرح معانی الآثار میںزیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، میں نے اذان کہی تھی بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تکبیر کہنی چاہی فرمایا:یقیم اخو صداء فان من اذن فھو یقیم ۱قبیلہ صداء کا بھائی اقامت کہے گا کہ جواذ ان دے وہی تکبیر کہے۔

(۱؎ شرح معانی الآثار    باب الرجلین یؤذن احدہما ویقیم الآخر    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۸)

فی الدرالمختار (درمختار میں ہے): اقام غیر من اذن بغیبتہ ای المؤذن لایکرہ مطلقا وان بحضورہ کرہ ان لحقہ وحشۃ ۲۔مؤذن کی غیر موجودگی میں غیر کا تکبیر کہنا مطلقاً مکروہ نہیں البتہ جب مؤذن موجود ہو اور اس پر گراں گزرے تو مکروہ ہے۔ (ت)

 (۲؎ الدرالمختار        باب الاذان            مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۶۴)

ردالمحتار میں ہے: ھذااختیارخواہر زادہ ومشی علیہ فی الدرروالخانیۃ لکن فی الخلاصۃ وان لم یرض بہ یکرہ وجواب الروایۃ انہ لاباس بہ مطلقا اھ قلت وبہ صرح الامام الطحاوی فی معانی الآثار معزیاالی ائمتناالثلثۃوقال فی البحر ویدل علیہ اطلاق قول الممجمع ولانکرھھامن غیرہ فمافی شرحہ لابن ملک من انہ لوحضرولم یرض یکرہ اتفاقا فیہ نظر اھ وکذایدل علیہ اطلاق الکافی معللا بان کل واحد ذکر فلاباس بان یأتی بکل واحد رجل اٰخر ولکن الافضل ان یکون المؤذن ھو المقیم ۳؎ اھ الخیہ خواہر زادہ کامختارہے اوریہی درراورخانیہ میںہے لیکن خلاصہ میںہے اور اگر وہ راضی نہ ہو تو کراہت ہے اور روایت کا جواب یہ ہے کہ اس میں مطلقاً کوئی حرج نہیں اھ میں کہتا ہوں امام طحاوی سے معانی الآثارمیں ہمارے تینوں ائمہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہی تصریح کی ہے،اور بحر میں فرمایا قول مجمع کا اطلاق کہ ہم اسے غیر سے مکروہ نہیں سمجھتے اسی پر دال ہے اس کی شرح لابن ملک میں جو ہے کہ اگر مؤذن موجود ہواور وہ راضی نہ ہو تو اتفاقاً مکروہ ہے اس میں نظر ہے اور کافی کا اطلاق بھی اسی پر دال ہے اور استدلال یہ ہے کہ ہر ایک ذکر ہے اگر ہر ایک ذکر کو دُوسرا بجالائے تو اس میں کوئی حرج نہیں،ہاں افضل یہ ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے۔ (ت)

 (۳؎ ردالمحتار        مطلب فے المؤذن اذاکان غیر مستحب فی اذانہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۲۹۱)

اقول: اذاحملناالکراھۃعلی کراھۃالتنزیہ ونَفَیھا علی التحریم حصل الوفاق الاتری الٰی قول الکافی النافی کیف یقول لاباس ولکن الافضل وکذلک عبرالامام الطحاوی وغیرہ بلاباس وقدصرحوا ان مرجعہ الی کراھۃ التنزیہ۔اقول: جب ہم کراہت کو کراہت تنزیہی اور اسکی نفی کو کراہت تحریم پر محمول کریں تومسئلہ میںاتفاق ہوجائے گا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کافی نے نفیِ کراہت کا قول کرتے ہوئے ''لاباس'' اور''لکن الافضل'' کہا اور اسی طرح امام طحاوی وغیرہ نے بھی ''لابأس''سے تعبیر کیا حالانکہ فقہأ نے تصریح کی ہے کہ اس سے کراہت تنزیہی ثابت ہوتی ہے۔ (ت)

پھر یہ استمرار کا دعوٰی کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ اذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہا کرتے تھے کسی حدیث سے ثابت نہیں،ہاں حدیث میں ایک بار کا یہ ذکر آیا ہے کہ جب عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خواب میں اذان دیکھی اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی، ارشاد ہوا: بلال کو سکھا دو کہ اُن کی آواز بلند تر ہے۔ بلال رضی اللہ تعالٰی عنہنے اذان کہی جب تکبیر کہنی چاہی عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نادم ہُوئے اور عرض کی: خواب تو میں نے دیکھا تھا میں تکبیر کہنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: تو تمہیں کہو۔ انہوں نے تکبیر کہی رواہ الامام احمد وابوداود ۱؎ والطحاوی عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (اسے امام احمد، ابوداؤد اور طحاوی نے اُنہیں صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)

 (۱؎ سنن ابی داؤد    الرجل یؤذن ویقیم آخر    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۷۶)

یہ حدیث کچھ ہمارے مخالف نہیںکہ کلام اُس صورت میں ہے جب مؤذن کو ناگوار گزرے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اذن کے بعد بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ناگواری کاکیا احتمال، مع ہذا یہ حدیث ابتدائے امر کی ہے کہ وہ پہلی اذان تھی کہ اسلام میں کہی گئی اور حدیث متقدم اُس سے متأخر ہے تاہم ثبوت صرف افضلیت کا ہے نہ کہ اقامتِ غیر کی ممانعت کمالایخفی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article اذان کے بعد اعلان کر کے نمازیوں کو بلانا کیسا ہے؟ بارش کے لئے اذان دینا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.77/5
Rating: 2.8/5 (273 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu