• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > حضور نے خود اذان دی ہے یا نہیں؟

حضور نے خود اذان دی ہے یا نہیں؟

Published by Admin2 on 2012/5/31 (1486 reads)

New Page 1

مسئلہ (۳۳۶) از ریاست رام پور بزریہ ملا ظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی علیم الدین صاحب اسلام آبادی

۱۵ جمادی الاخرٰی ۱۳۱۴ھ

الاستفتاء ماقولکم رحمکم اللّٰہ ربکم فی اذان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم،ھل ھواذن بنفسہ علیہ الصلاۃ والسلام ام لاولوکان مرۃ فی عمرہ علیہ الصلاۃ والسلام، وفی ابتداء وجوب صلاۃ الجنازۃ علی المیت ایّ زمان کانوعلی من صلی اوّلا، فی المدینۃ المنورۃ وجبت ام فی المکّۃ المعظمۃ واول الصلاۃ صلیھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم علی ای صحابی کانت، وما کان اسمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بینّوا توجروا۔

سوال: اے علماء(اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے)اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خود اذان دی ہے یا نہیں،اگرچہ تمام عمر میں ایک دفعہ ہو۔ اور میت پر نماز جنازہ کے وجوب کی ابتداء کب ہُوئی؟سب سے پہلے کس کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی؟کیا یہ مدینہ منورہ میں لازم ہوئی یا مکہ مکرمہ میں؟سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کس صحابی کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی؟اس صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام کیا ہے؟ بینوا توجّروا۔

الجواب: قال فی الدرمختار وفی الضیاء انہ علیہ الصّلاۃ والسّلام اذن فی سفربنفسہ واقام وصلی الظھر وقد حققناہ فی الخزائن ۱اھ قال فی ردالمحتار،حیث قال بعد ماھنا ھذا وفی شرح البخاری لابن حجر ومما یکثر السؤال عنہ، ھل باشر النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الاذان بنفسہ وقداخرج الترمذی،انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیئہ وسلم اذن فی سفر وصلی باصحابہ وجزم بہ النووی وقواہ، ولکن وجد فی مسند احمد من ھذا الوجہ فامر بلالاً فاذن فعلم ان فی روایۃ الترمذی اختصارا وان معنی قولہ اذن امر بلالاً کمایقال اعطی الخلیفۃ العالم الفلانی کذاوانما باشر العطاء غیرہ ۲ اھ

درمختار میں فرمایا اور الضیاء میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سفرمیں بنفسِ نفیس اذان دی، تکبیر کہی اور ظہر کی نماز پڑھائی اور ہم نے خزائن میں اس بارے میں تحقیق کی ہے اھ ردالمحتار میں کہا وہاں اس گفتگو کے بعد یہ فرمایا کہ ابنِ حجرکی فتح الباری شرح البخاری میں ہے کہ اکثر طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خود اذان دی ہے؟اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ آپ نے دورانِ سفر خود اذان دی اور صحابہ کو نماز پڑھائی،امام نووی نے اس پر جزم کرتے ہوئے اسے قوی قرار دیا، لیکن اسی طریق سے مسند احمد میں ہے کہ آپ نے بلال کو حکم دیاتو انہوں نے اذان کہی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت ترمذی میں اختصار ہے اور ان کے قول اذّن کا معنٰی یہ ہے کہ آپ نے بلال کو اذان کا حکم دیا،جیسا کہ محاورۃً کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے فلاں عالم کو یہ عطیہ دیاحالانکہ وہ خود عطا نہیں کرتا بلکہ عطا کرنے والا کوئی غیر ہوتا ہے اھ

 (۱؎ الدرالمختار    باب الاذان        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۶۵)

(۲؎ ردالمحتار     باب الاذان        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۹۵)

ورأیتنی کتبت فیماعلقت علی ردالمحتارمانصہ اقول لکن سیأتی صفۃالصلاۃعندذکر التشھدعن تحفۃالامام ابن حجرالمکی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم اذن مرّۃ فی سفر فقال فی تشھدہ ''اشھد انّی رسول اللّٰہ'' وقد اشارابن حجرالی صحتہ،وھذانص مفسر لایقبل التأویل،وبہ یتقوٰی تقویۃ الامام النووی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اھ ماکتبت،وبہ ظھر الجواب عن المسألۃ الاولٰی،واما بدء صلاۃ الجنازۃ فکان من لدن سیدنا اٰدم علیہ الصّلاۃ والسلام،اخرج الحاکم فی المستدرک والطبرانی والبیھقی فی سننہ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھماقال اٰخرماکبرالنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم علی الجنازۃاربع تکبیرات، وکبر عمر علٰی ابی بکرا ربعا،وکبر ابن عمر علٰی عمر اربعا وکبر الحسن بن علٰی علی اربعا، وکبر الحسین بن علی علی الحسن بن علی اربعا،وکبرت الملٰئکۃ علی اٰدم اربعا ۱؎، ولم تشرع فی الاسلام فی المدینۃ المنورۃاخرج الادم الواقدی من حدیث حکیم بن حزام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی ام المؤمنین خدیجۃرضی اللّٰہ تعالٰی عنھا انھاتوفیت سنۃ عشر من البعثۃبعدخروج بنی ھاشم من الشعب ودفنت بالحجون ونزل النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی حفرتھا ولم تکن شرعۃ الصلاۃ علی الجنائز ۱؎ اھ وقال الامام ابن حجر العسقلانی فی الاصابۃ فی ترجمۃ اسعد بن زرارہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ذکر الواقدی انہ مات علی راس تسعۃ اشھر من الھجرۃ رواہ الحاکم فی المستدرک وقال الواقدی کان ذلک فی شوال قال البغوی بلغنی انہ اول من مات من الصحابۃ بعد الھجرۃ وانہ اوّل میت صلی علیہ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎ اھ وبہ اتضح الجواب۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

مجھے اس بارے میں مزید جو سمجھ آئی اسے میں نے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں تحریر کیاہے اور اسکے الفاظ یہ ہیں اقول: عنقریب صفاتِ نماز کے تحت ذکرِ تشہدمیں تحفہ امام ابن حجر مکّی سے آرہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سفر میں ایک دفعہ اذان دی تھی اور کلماتِ شہادت یوں کہے اشہد انّی رسول اﷲ(میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں)اور ابنِ حجر نے اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ نص مفسر ہے جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور اس سے امام نووی رحمہ اللہ تعالٰی کے قول کی اور تقویت ملتی ہے اھ(میری تحریر ختم ہوئی)اس سے پہلے سوال کا جواب آگیا۔باقی رہی جنازہ کی ابتداء، تو یہ سیدنا آدم علیہ السلام کے دور سے ہے۔حاکم نے مستدرک، طبرانی اوربیھقی  نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جنازہ پر جو آخری عمرمیں تکبیرات کہیں وہ چار تھیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر چار تکبیرات کہیں، اور ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر، امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنازہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ پر چار تکبیرات کہیں، ملائکہ نے سیدنا آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں اور اسلام میں وجوبِ نماز جنازہ کا حکم مدینہ منورہ میں نازل ہوا، امام واقدی نے حضرت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بارے میں حکیم بن حزام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپ کا وصال بعثت کے دسویں سال شعبِ ابی طالب سے خروج کے بعد ہُوا اور آپ کو حجون کے قبرستان میں دفن کیاگیا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خود ان کی لحد میں اترے اور اس وقت میت پر جنازہ کا حکم نہیں تھا اھ اور امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احوال میں واقدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا وصال ہجرت کے بعد نویں مہینے کے آخر میں ہُوا،اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور بقول واقدی یہ شوال کا مہینہ تھا،بغوی نے کہا کہ ہجرت کے بعدسب سے پہلے اسی صحابی کا وصال ہوا، اور یہ پہلے صحابی کی میت تھی جس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی اور اس سے جواب واضح ہوگیا۔ واللہ تعالٰی اعلم

 (۱؎ المستدرک للحاکم    التکبیر علی الجنائز اربع    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱/۳۸۶)

(۱؎ الاصابہ فی تمیز الصحابہ    ترجمہ خدیجہ بنت خویلد نمبر ۳۳۵    مطبوعہ دارصادر بیروت    ۴/۲۸۳)

(۲؎الاصابہ فی تمیز الصحابہ ترجمہ اسعد بن زرارہ نمبر ۱۱۱       مطبوعہ دارصادر بیروت     ۱/۳۴۹)


Navigate through the articles
Previous article اذان واقامت کس جانب کو ہونی چاہئے زید نے مسجد میں زنا کیا، وہ موذن رہ سکتا ہے؟ Next article
Rating 2.68/5
Rating: 2.7/5 (244 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu