• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > امام پہلے صف سیدھی کرائے یا پہلے جانماز پر کھڑا ہو

امام پہلے صف سیدھی کرائے یا پہلے جانماز پر کھڑا ہو

Published by Admin2 on 2012/5/31 (1209 reads)

New Page 1

مسئلہ (۳۴۴) از مدرسہ اشاعۃ العلوم    دوم جمادی الاولے ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دعوٰی کرتا ہے کہ جب تک سب مقتدی کھڑے نہ ہولیںاور صف سیدھی نہ ہو اورامام اپنی جانماز پر کھڑا نہ ہو تب تک اقامت نہ کہی جائے اور عمرو دعوٰی کرتا ہے کہ مقتدی اور امام کو پہلے ہی سے کھڑا ہونا ضروری نہیں بلکہ اقامت شروع کی اور مؤذن ''حی علی الفلاح''تک پہنچ جائے اُس وقت امام ومقتدی کھڑے ہوجائیں اور جس وقت ''قدقامت الصلاۃ'' کہے تب امام تکبیر کہے اب ان دونوں میں کون حق پر ہے، دیگر صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نمازِ جمعہ میں امام کو تشہد میںپائے یا سجدہ سہو میں اب جمعہ اُس کا ادا ہوگیا یا نہیں؟

الجواب: عمرو حق پر ہے کھڑے ہوکر تکبیر سُننا مکروہ ہے،یہاں تک کہ علماء حکم فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں آیا اور تکبیر ہورہی ہے وہ اس کے تمام تک کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے یہاں تک کہ مکبّر ''حی علی الفلاح'' تک پہنچے اُس وقت کھڑا ہو، وقایہ میں ہے:یقوم الامام والقوم عند ''حی علی الصلاۃ'' ویشرع عند ''قدقامت الصلاۃ ۱''۔امام اور نمازی ''حی علی الصلاۃ'' پر کھڑے ہوں اور ''قد قامت الصلاۃ'' کے الفاظ پر امام نماز شروع کردے۔ (ت)

 (۱؎ مختصر الوقایہ    فصل الاذان        نور محمد کارخانہ تجارت کراچی     ص ۱۲)

محیط وہندیہ میں ہے: یقوم الامام والقوم اذاقال المؤذن حی علی الفلاح عند علمائنا الثلثۃ ھو الصحیح ۲۔ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک جب اقامت کہنے والا ''حی علی الفلاح'' کہے تو اس وقت امام اور تمام نمازی کھڑے ہوں اور یہی صحیح ہے۔ (ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۵۷)

جامع المضمرات وعالمگیریہ وردالمحتار میں ہے: اذادخل الرجل عندالاقامۃ یکرہ لہ الانتظارقائماً ولکن یقعد ثم یقوم اذابلغ المؤذن قولہ ''حی علی الفلاح'' ۳؎۔

جب کوئی نمازی تکبیر کے وقت آئے تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے پھر جب مؤذّن ''حی علی الفلاح'' کہے تو اس وقت کھڑا ہو۔ (ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۵۷)

اسی طرح بہت کتب میں ہے۔ اقول ولاتعارض عندی بین قول الوقایۃ واتباعھا یقومون عند ''حی الصلاۃ'' والمحیط والمضمرات ومن معھما عند ''حی علی الفلاح'' فانا اذاحملنا الاول علی الانتھاء والاٰخر علی الابتداء اتحد القولان، ای یقومون حین یتم المؤذن حی علی الصلاۃ ویأتی علی الفلاح وھذا مایعطیہ قول المضمرات یقوم اذابلغ المؤذن حی علی

الفلاح ولعل ھذا اولی ممافی مجمع الانھر من قولہ وفی الوقایۃ ویقوم الامام والقوم عند حی علی الصلاۃ ای قبیلہ ۱؎ اھ

 (۱؎ ردالمحتار        باب الاذان        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۹۰)

اقول: صاحبِ وقایہ اور ان کے متبعین ''حی علی الصلاۃ'' کے موقعہ پر کھڑا ہونے کا قول کرتے ہیں اور صاحبِ محیط،مضمرات اور ان کی جماعت ''حی علی الفلاح'' کے وقت کھڑا ہونے کا قول کرتے ہیں میرے نزدیک ان میں کوئی تعارض نہیں اس لئے کہ جب ہم پہلے قول کو انتہا اور دوسرے کو ابتدا پر محمول کریں تو دونوں قولوں میں اتحاد حاصل ہوجاتا ہے یعنی جب مؤذن حی علی الصلاۃ'' پُورا کرکے حی علی الفلاح کہے تو کھڑے ہوں اور اس کی تائید مضمرات کے ان الفاظ سے ہوتی ہے ''اس وقت کھڑا ہو جب مؤذن ''حی علی الفلاح'' پر پہنچے اور یہ اس سے بہتر ہے جو مجمع الانہر میں اس کا قول ہے: وقایہ میں ہے کہ امام اور نمازی ''حی علی الصلاۃ'' کے وقت یعنی اس سے تھوڑا سا پہلے کھڑے ہوں اھ۔ (ت)

 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الاذان    مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۷۸)

یہ اُس صورت میں ہے کہ امام بھی وقتِ تکبیر مسجد میں ہو،اور اگروہ حاضر نہیں تو مؤذن جب تک اُسے آتا نہ دیکھتے تکبیر نہ کہے نہ اُس وقت تک کوئی کھڑا ہولقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاتقوموا حتی ترونی(کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: تم نہ کھڑے ہواکرو یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو۔ ت) پھر جب امام آئے اور تکبیر شروع ہو اس وقت دو۲ صورتیں ہیں اگر امام صفوں کی طرف سے داخل مسجد ہوتو جس صفت سے گزرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اُسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہوجائیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تک پُوری تکبیر سے فارغ نہ ہولے مقتدی اصلاً کھڑے نہ ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو فراغ پر بھی کھڑے نہ ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے اُس وقت قیام کریں، ہندیہ میں بعد عبارت مذکور ہے:

فامااذاکان الامام خارج المسجد فان دخل المسجد من قبل الصفون فکلماجاوز صفا قام ذلک الصف والیہ مال شمس الائمۃ الحلوانی والسرخسی وشیخ الاسلام خواھرزادہ وان کان الامام دخل المسجد من قدامھم یقومون کماراؤا الامام وان کان المؤذن والامام واحدافان اقام فی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ عن الاقامۃ وان اقام خارج المسجد فمشایخنا اتفقوا علی انھم لایقومون مالم یدخل الامام المسجد ویکبر الامام قبیل قولہ قدقامت الصلاۃ قال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وھو الصحیح ھکذا فی المحیط ۱؎۔

اگر امام مسجد سے باہر ہو اگر وہ صفوں کی جانب سے مسجد میں داخل ہوتوجس صف سے وہ گزرے وہ صف کھڑی ہوجائے، شمس الائمہ حلوانی، سرخسی، شیخ الاسلام خواہر زادہ اسی طرف گئے ہیں، اور اگر امام اُن کے سامنے سے مسجد میں داخل ہوتواُسے دیکھتے ہی تمام مقتدی کھڑے ہوجائیں،اگر مؤذن اور امام ایک ہی ہے پس اگر اس نے مسجدکے اندرہی تکبیر کہی تو قوم اس وقت تک کھڑی نہ ہو جب تک وہ تکبیر سے فارغ نہ ہوجائے اور اگر اس نے خارج ازمسجد تکبیر کہی تو ہمارے تمام مشائخ اس پر متفق ہیں کہ لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک امام مسجد میں داخل نہ ہواور امام ''قدقامت الصلاۃ'' کے تھوڑا پہلے تکبیر تحریمہ کہے امام شمس الائمہ حلوانی کہتے ہیںکہ یہی صحیح ہے، محیط میں اسی طرح ہے۔ (ت)

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الثانی فی کلمات الاذن والاقامۃ الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۵۷)

جمعہ بھی ہمارے امام کے نزدیک اس بارے میں مثل اور نمازوں کے ہے سلام سے پہلے جو شریک ہو لیا اس نے جمعہ پالیا دو۲ ہی رکعت پڑھے، درمختار میں ہے:من ادرکہافی تشہداوسجود سھوعلی القول بہ فیھایتمھا جمعۃ خلافا لمحمد ۲؎۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

 (۲؎ درمختار    کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ            مطبوعہ مجتبائی دہلی            ۱/۱۱۳)

جس شخص نے جمعہ کی نمازمیں تشہد یا سجدہ سہو میں اس قول پر جو جمعہ میں سجدہ سہو کا قول کرتے ہیں امام کو پایاتو وہ نماز کو جمعہ کے طورپر پُورا کرے اس میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ 


Navigate through the articles
Previous article اذان مسجد میں صبح کاذب میں ہو یا صبح صادق میں؟ صلوۃ و سلام پکار کر پڑھنا کیا بدعت ہے؟ Next article
Rating 2.85/5
Rating: 2.9/5 (268 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu