• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > جمعہ کی اذان ثانی کے بابت سوالات

جمعہ کی اذان ثانی کے بابت سوالات

Published by Admin2 on 2012/6/2 (1486 reads)

New Page 1

مسئلہ (۴۵۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱)جمعہ کی اذان ثانی جو منبر کے سامنے ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کے اندر ہوتی تھی یا باہر؟

(۲)خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی؟

(۳)فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر دینے کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے یا نہیں؟

(۴)اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے زمانہ میں اذان مسجد کے باہر ہوتی تھی اور ہمارے اماموں نے مسجد کے اندر اذان کو مکروہ فرمایا ہے تو ہمیں اسی پر عمل لازم ہے یا رسم ورواج پر، اور جو رسم ورواج حدیث شریف واحکامِ فقہ سب کے خلاف پڑجائے تو وہاں مسلمانوں کو پیرویِ حدیث وفقہ کا حکم ہے یا رسم ورواج پر اڑارہنا؟

(۵)نئی بات وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین واحکام ائمہ کے مطابق ہو یا وہ بات نئی ہے جو اُن سب کے خلاف لوگوں میں رائج ہوگئی ہو؟

(۶)مکہ معظمہ ومدینہ منورہ میں یہ اذان مطابق حدیث وفقہ ہوتی ہے یا اس کے خلاف، اگر خلاف ہوتی ہے تو وہاں کے علمائے کرام کے ارشادات دربارہ عقائد حجت ہیں یا وہاں کے تنخواہ دار مؤذنوں کے فعل اگرچہ خلافِ شریعت وحدیث وفقہ ہوں؟

(۷)سنت کے زندہ کرنے کا حدیثوں میں حکم ہے اور اس پر سَو شہیدوں کے ثواب کا وعدہ ہے یا نہیں، اگر ہے تو سنت زندہ کی جائے گی یا سنت مردہ۔ سنت اُس وقت مُردہ کہلائے گی جب اُس کے خلاف لوگوں میں رواج پڑ جائے یا جو سنت خود رائج ہو وہ مُردہ قرار پائے گی؟

(۸)علماء پر لازم ہے یا نہیں کہ سنتِ مردہ زندہ کریں، اگر ہے تو کیا اُس وقت اُن پر یہ اعتراض ہوسکے گاکہ کیا تم سے پہلے عالم تھے، اگر یہ اعتراض ہوسکے گا تو سنت زندہ کرنے کی صورت کیا ہوگی؟

(۹)جن مسجدوں کے بیچ میں حوض ہے اُس کی فصیل پر کھڑے ہوکر منبر کے سامنے اذان ہوتو بیرون مسجد کا حکم اداہوجائیگا یا نہیں؟

(۱۰)جن مسجدوں میں منبر ایسے بنے ہیں کہ ان کے سامنے دیوار ہے اگر مؤذن باہر اذان دے تو خطیب کا سامنا نہ رہے گا وہاں کیا کرنا چاہئے؟ امید کہ دسوں مسئلوں کا جداجدا جواب مفصل مدلل ارشاد ہو،

بینوا توجروا۔

الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصّواب

(۱) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے:

عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۱؎۔

 (۱؎ سنن ابی داؤد     باب وقت الجمعہ    مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان        ۱/۱۵۵)

سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے زمانے میں۔

اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو، اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔

(۲)جوابِ اول سے واضح ہوگیا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے۔ اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بعض صاحب جو ''بین یدیہ'' سے مسجد کے اندر ہونا سمجھتے ہیں غلط ہے۔ دیکھو حدیث میں ''بین یدی'' ہے اور ساتھ ہی ''علٰی باب المسجد'' ہے۔ یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے چہرہ انور کے مقابل مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی بس اسی قدر ''بین یدیہ'' کے لئے درکار ہے۔

(۳)بیشک فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر اذان کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے۔ فتاوٰی قاضی خان طبع مصر جلد اول صفحہ۷۸ لایؤذن فی المسجد ۲ ؎ (مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے)

 (۲ ؎فتاوٰی قاضی خان     باب کتاب الصلوٰۃ     مسائل الاذان     مطبوعہ نولکشور لکھنو     /۳۷۱)

فتاوی خلاصہ قلمی صفحہ ۶۲ لایؤذن فی المسجد ۱؎ (مسجد میں اذان نہ ہو)

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوٰۃ    الفصل الاول فی الاذان مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۴۹)

خزانۃ المفتین قلمی فصل فی الاذان لایؤذن فی المسجد ۲؎ (مسجد کے اندر اذان نہ کہیں)

خزانۃ المفتین     فصل فی الاذان    (قلمی نسخہ)ص ۱۹

فتاوٰی عالمگیری طبع مصر جلد اول صفحہ ۵۵ لایؤذن فی المسجد ۳؎(مسجد کے اندر اذان منع ہے)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب الثانی فی الاذان        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۵۵)

بحرالرائق طبع مصر جلد اول صفحہ ۲۶۸ لایؤذن فی المسجد ۴؎ (مسجد کے اندر اذان کی ممانعت ہے)

 (۴؎ البحرالرائق    کتاب الصلوٰۃ     باب الاذان    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۵۵)

شرح نقایہ علامہ برجندی صفحہ ۸۴ (فیہ اشعار بانہ لایؤذن فی المسجد ۵؎ (اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)

 (۵؎ شرح النقایۃ للبرجندی        باب الاذن        نولکشور لکھنؤ    ۱/۸۴)

امام صدرالشریعۃ کے کلام میں اس پر تنبیہ ہے کہ اذان مسجد میں نہ ہو) غنیہ شرح منیہ صفحہ ۳۵۷الاذان انما یکون فی المئذنۃ اوخارج المسجد والاقامۃ فی داخلہ ۶؎ (اذان نہیں ہوتی مگر منارہ یا مسجد سے باہر اور تکبیر مسجد کے اندر)

 (۶؎ غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی    سنن الصلوٰۃ اول السنن الاذان    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہو ر ص ۳۷۷)

فتح القدیر طبع مصر جلد اول صفحہ ۱۷۱ قالوا لایؤذن فی المسجد۷؎(علماء نے مسجد میں اذان دینے کو منع فرمایا ہے)

 (۷؎ فتح القدیرکتاب الصلوٰۃ    باب الاذان    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۲۱۵)

ایضا باب الجمعۃ صفحہ ۴۱۴ ھو ذکر اللّٰہ فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ ۸؎ (جمعہ کا خطبہ مثل اذان ذکرِ الٰہی ہے مسجد میں یعنی حدودِ مسجد میں اس لئے کہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے)

 (۸؎ فتح القدیر    باب الجمعۃ      مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر            ۲/۲۹)

طحطاوی علی مراقی الفلاح طبع مصر صفحہ ۱۲۸ یکرہ ان یؤذن فی المسجد کمافی القھستانی عن النظم ۹؎ (یعنی نظم امام زندویسی پھر قہستانی میں ہے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے۔)

 (۹؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلاۃ     باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۱۰۷)

یہاں تک کہ اب زمانہ حال کے ایک عالم مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ ۲۴۵ میں لکھتے ہیں:''قولہ بین یدیہ'' ای مستقبل الامام فی المسجد کان اوخارجہ والمسنون ھو الثانی۱۰؎ (یعنیبین یدیہ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ امام کے رُوبرو ہو مسجد میں خواہ باہر اور سنّت یہی ہے کہ مسجد کے باہر ہو )

 (۱۰؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ     باب الصلوۃ     مکتبۃ الرشیدیہ دہلی         ۱/۲۴۵)

جب وہ تصریح کرچکے کہ باہر ہی ہونا سنّت ہے تو اندر ہونا خلافِ سنّت ہُوا تو اُس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ چاہے سنّت کے مطابق کرو چاہے سنت کے خلاف دونوں باتوں کا اختیار ہے ایسا کون عاقل کہے گا بلکہ معنی وہی ہیں کہ ''بین یدیہ'' (امام کے سامنے۔ ت) سے یہ سمجھ لینا کہ خواہی نخواہی مسجد کے اندر ہو غلط ہے اُس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ امام کے روبرو اندر باہر کی تخصیص اس لفظ سے مفہوم نہیں ہوتی لفظ دونوں صورتوں پر صادق ہے اور سنّت یہی ہے کہ اذان مسجد کے باہر ہو تو ضرور ہے کہ وہی معنے لیے جائیں جو سنت کے مطابق، بہرکیف اتنا ان کے کلام میں صاف مصرح ہے کہ اذانِ ثانی جمعہ بھی مسجد کے باہرہی ہونا مطابق سنّت ہے تو بلاشبہہ مسجد کے اندر ہونا خلافِ سنّت ہے وللہ الحمد۔

(۴) ظاہر ہے کہ حکم حدیث وفقہ کے خلاف رواج پر اَڑا رہنا مسلمانوں کو ہرگز نہ چاہئے۔

(۵) ظاہر ہے جو بات رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین واحکام فقہ کے خلاف نکلی ہو وہی نئی بات ہے اُسی سے بچنا چاہئے نہ کہ سنت وحکم حدیث وفقہ سے۔

(۶) مکہ معظمہ میں یہ اذان کنارہ مطاف پر ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مسجد حرام شریف مطاف ہی تک تھی مسلک متقسط علی قاری طبع مصر صفحہ ۲۸۰:المطاف ھو ماکان فی زمنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مسجدا ۱؎ (رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہر ی حیات میں مسجد حرام مطاف تک ہی تھی)۔

 (۱؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری     فصل فی اماکن الاجابۃ    مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت     ص ۳۳۲)

تو حاشیہ مطاف بیرون مسجد ومحل اذان تھا اور مسجد جب بڑھالی جائے تو پہلے جو جگہ اذان یا وضو کے لئے مقرر تھی بدستور مستثنٰی رہے گی ولہذا مسجد اگر بڑھاکر کنواں اندر کرلیا وہ بند نہ کیا جائے گا جیسے زمزم شریف، حالانکہ مسجد کے اندر کنواں بنانا ہرگز جائز نہیں، فتاوٰی قاضیخان وفتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی علمگیریہ صفحہ۴۰:تکرہ المضمضۃ والوضوء فی المسجد الاان یکون ثمہ موضع اعد لذلک ولایصلی فیہ ۲؎مسجد میں وضو اور کلی کرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں ان کے لئے جگہ بنائی گئی ہو، اور وہاں نماز ادا نہ کی جاتی ہو۔ (ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    باب السابع فصل ثانی    مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور    ۱/۱۱۰)

وہیں ہے: لایحفر فی المسجد بئر ماء ولوقدیمۃ تترک کبئر زمزم۳؎ (اور مسجد میں کنواں نہیں کھودا جائے گا اگر وہاں قدیم اورپراناکنواں ہوتو چھوڑدیا جائے جیسے زمزم کا کنواں۔ ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ    باب السابع فصل ثانی    مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور    ۱/۱۱۰)

تومکہ معظمہ میں اذان ٹھیک محل پر ہوتی ہے مدینہ طیبہ میں خطیب سے بیس بلکہ زائد ذراع کے فاصلہ پر ایک بلند مکبّرہ پر کہتے ہیں طریق ہند کے تو یہ بھی خلاف ہوااور وہ جو ''بین یدیہ'' وغیرہ سے منبر کے متصل ہونا سمجھتے تھے اس سے بھی رَد ہوگیا تو ہندی فہم وطریقہ خود ہی دونوں حرم محترم سے جدا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ مکبّرہ قدیم سے ہے یا بعدکو حادث ہوا اگر قدیم ہے تو مثل منارہ ہواکہ وہ اذان کے لئے مستثنٰی ہے جیسا کہ غنیہ سے گزرا،اور اسی طرح خلاصہ وفتح القدیر وبرجندی کے صفحات مذکورہ میں ہے کہ اذان منارہ پر ہو یا مسجد سے باہر مسجد کے اندر نہ ہو۔اس کی نظیر موضع وضو وچاہ ہیں کہ قدیم سے جُدا کردئے ہوں نہ اس میں حرج نہ اس میں کلام،اور اگر حادث ہے تو اس پر اذان کہنا بالائے طاق پہلے یہی ثبوت دیجئے کہ وسط مسجد میں ایک جدید مکان ایساکھڑا کردینا جس سے صفیں قطع ہوں کس شریعت میں جائز ہے قطع صف بلاشبہہ حرام ہے،رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من قطع صفا قطعہ اللّٰہ ۱؎۔(جو صف کو قطع کرے اللہ اُسے قطع کردے) رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔

 (۱؎ سنن النسائی    کتاب الامامۃ فضل الصف    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور    ۱/۹۴)

نیز علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں پیڑ بونا منع ہے کہ نمازکی جگہ گھیرے گا نہ یہ کہ مکبّرہ کہ چار جگہ سے جگہ گھیرتا ہے اور کتنی صفیں قطع کرتا ہے بالجملہ اگر وہ جائز طور پر بنا تو مثل منارہ ہے جس سے مسجدمیں اذان ہونا نہ ہو اور ناجائز طور پر ہے تو اسے ثبوت میں پیش کرنا کیا انصاف ہے۔ اب ہمیں افعال موذنین سے بحث کی حاجت نہیں مگر جوابِ سوال کو گزارش کہ ان کا فعل کیاحجت ہو حالانکہ خطیب خطبہ پڑھتا ہے اور یہ بولتے جاتے ہیں جب وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا نام لیتاہے یہ بآواز ہر نام پر رضی اللہ عنہ کہتے جاتے ہیں جب وہ سلطان کا نام لیتا ہے یہ بآواز دُعا کرتے ہیںاور یہ سب بالاتفاق ناجائز ہے صحیح حدیثیں اور تمام کتابیں ناطق ہیں کہ خطبہ کے وقت بولناحرام ہے۔درمختار وردالمحتار جلد اول صفحہ ۸۵۹:اماما یفعلہ المؤذنون حال الخطبۃ من الترضی ونحوہ،فمکروہ اتفاقا ۲؎۔یعنی وہ جو یہ مؤذن خطبے کے وقت رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ کہتے جاتے ہیں یہ بالاتفاق مکروہ ہے۔

 (۲؎ درمختار        باب الجمعۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۳)

یہی مؤذن نماز میں امام کی تکبیر پہنچانے کو جس وضع سے تکبیر کہتے ہیں اسے کون عالم جائزکہہ سکتا ہے مگر سلطنت کے وظیفہ داروں پر علما کا کیا اختیار۔ علمائے کرام نے تو اس پر یہ حکم فرمایا کہ تکبیر درکنار اس طرح تو اُن کی نمازوں کی بھی خیر نہیں،دیکھو فتح القدیر جلد اول صفحہ ۲۶۲ و ۲۶۳ ودرمختار وردالمحتار صفحہ ۲۱۵ خود مفتیِ مدینہ منورہ علامہ سید اسعد حسینی مدنی تلمیذ علامہ صاحب مجمع الانہر رحمہما اللہ تعالٰی نے تکبیر میں اپنے یہاں کے مکبروںکی سخت بے اعتدالیاںتحریر فرمائی ہیں دیکھو فتاوٰی اسعدیہ جلد اول صفحہ۸ آخر میں فرمایا ہے:اماحرکات المکبرین وصنعھم، فانا ابرأالی اللّٰہ تعالٰی منہ ۱؎۔یعنی ان مکبروں کی جو حرکتیں جو کام ہیں میں ان سے اللہ تعالٰی کی طرف برأت کا اظہار کرتا ہوں۔

 (۱؎ فتاوٰی اسعدیہ    کتاب الصلاۃ            مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ مصر    ۱/۸)

اور اُوپر اس سے بڑھ کر لفظ لکھا،پھر کسی عاقل کے نزدیک اُن کا فعل کیاحجت ہوسکتا ہے نہ وہ علماء ہیں نہ علماء کے زیرحکم۔

(۷) بیشک احادیث میں سنّت زندہ کرنے کا حکم اور اُس پر بڑے ثوابوں کے وعدے ہیں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من احیاسنتی، فقدا حبنی، ومن احبنی کان معی فی الجنۃ ۲؎۔ اللھم ارزقنا۔جس نے میری سنت زندہ کی بیشک اُسے مجھ سے محبت ہے اور جسے مجھ سے محبت ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔اے اللہ! ہمیں یہ رفاقت عطا فرما،رواہ السجزی فی الابانۃ والترمذی بلفظ من احب (اسے سجزی نے ابانۃ میں روایت کیا اور ترمذی نے ''من احب'' کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔ ت)

 (۲؎ جامع الترمذی    باب اخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ        مطبوعہ امین کمپنی دہلی    ۲/۹۲)

بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من احیاسنۃ من سنتی قدامیتت بعدی فان لہ من الاجرمثل اجور من عمل بھامن غیران ینقص من اجورھم شیئا ۳؎۔ رواہ الترمذی ورواہ ابن ماجۃ عن عمروبن عوف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔

جو میری کوئی سنت زندہ کرے کہ لوگوں نے میرے بعد چھوڑدی ہو جتنے اس پر عمل کریں سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کو ابن ماجہ نے حضرت عمروبن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔

 (۳؎ جامع الترمذی    ابواب العلم    باب الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ     مطبوعہ امین کمپنی دہلی    ۲/۹۲)

(سنن ابن ماجہ    باب سن سنۃ الخ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۱۹)

ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من تمسک بسنتی عن فسادا متی فلہ اجر مائۃ شھید ۱؎۔ رواہ البیھقی فی الزھد۔

جو فسادِ اُمت کے وقت میری سنت مضبوط تھامے اسے سَو شہیدوں کا ثواب ملے۔ اسےبیھقی  نے زہد میں روایت کیا۔

اور ظاہر ہے کہ زندہ وہی سنّت کی جائے گی جو مُردہ ہوگئی اور سنت مُردہ جبھی ہوگی کہ اُس کے خلاف رواج پڑ جائے۔

 (۱؎ کتاب الزہد الکبیر للبیہقی    عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ    مطبوعہ دارالقلم الکویت    ص ۱۵۱)

 (۸)    احیاء سنت علما کا تو خاص فرض منصبی ہے اور جس مسلمان سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی اپنی مساجد میں اس سنّت کو زندہ کریں اور سَوسَو شہیدوں کا ثواب لیں اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ کیاتم سے پہلے عالم نہ تھے یوں ہوتو کوئی سنّت زندہ ہی نہ کرسکے،

امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ تعالٰی عنہ نے کتنی سُنتیں زندہ فرمائیں اس پر ان کی مدح ہُوئی نہ کہ الٹا اعتراض کہ تم سے پہلے تو صحابہ وتابعین تھے رضی اللہ تعالٰی عنہم۔

(۹)    حوض کہ بانیِ مسجد نے قبل مسجدیت بنایااگرچہ وسط مسجد میںہو وہ اوراُس کی فصیل ان احکام میں خارج از مسجد ہے لانہ موضع اعد للوضوء کماتقدم(کیونکہ یہ جگہ وضو کیلئے بنائی گئی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ ت)

(۱۰)    لکڑی کا منبر بنائیں کہ یہی سنتِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے اسے گوشہ محراب میں رکھ کر محاذات ہوجائے گی اوراگر صحن کے بعد مسجد کی بلند دیوار ہے تواُسے قیامِ مؤذن کے لائق تراش کر باہر کی جانب جالی یا کواڑ لگالیں۔

مسلمان بھائیو! یہ دین ہے کوئی دنیوی جھگڑا نہیں دیکھ لوکہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت کیا ہے، تمہاری مذہبی کتابوں میں کیالکھا ہے۔

حضرات علمائے اہلسنّت سے معروض:حضرات!احیائے سنت آپ کا کام ہے اس کا خیال نہ فرمائیے کہ آپ کے ایک چھوٹے نے اسے شروع کیاوہ بھی آپ ہی کا کرنا ہے،آپ کے رب کا حکم ہے:

تعاونوا علی البر والتقوٰی ۲؎۔نیکی اور تقوٰی پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (ت)

 (۲؎ القرآن        ۵/۲)

اور اگر آپ کی نظر میں یہ مسئلہ صحیح نہیں تو غصہ کی حاجت نہیں بے تکلّف بیان حق فرمائیے اور اس وقت لازم ہے کہ ان دسوں۱۰ سوالوں کے جداجدا جواب ارشاد ہوں اور ان کے ساتھ ان پانچ سوالوں کے بھی:

(۱۱)    اشارت مرجوح ہے یا عبارت اور ان میں فرق کیا ہے؟

(۱۲)    کیا محتمل صریح کا مقابل ہوسکتا ہے؟

(۱۳)    تصریحات کتب فقہ کے سامنے کسی غیر کتاب فقہ سے ایک استنباط پیش کرنا کیسا ہے خصوصاً استنباط بعید یا جس کا منشا بھی غلط؟

(۱۴)    حنفی کو تصریحات فقہ حنفی کے مقابل کسی غیر کتاب حنفی کا پیش کرنا کیسا ہے؟

(۱۵)    قرآن مجید کی تجوید فرضِ عین ہے یا نہیں،اگر ہے تو کیا سب ہندی علما اسے بجالاتے ہیں یا سو۱۰۰ میں کتنے؟ بینوا توجروا۔ واللہ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article اذان کے بعد پھر صلاۃ کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اس اذان کا کب سے داخل مسجد ہونامعمول ومروج ہُوا Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (270 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu