• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > حضور کےزمانے میں اذان کہاں ہوتی تھی

حضور کےزمانے میں اذان کہاں ہوتی تھی

Published by Admin2 on 2012/6/2 (1103 reads)

New Page 1

مسئلہ (۳۵۷) مسئولہ قاضی محمد عمران صاحب ازبریلی شہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ        ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں بروز جمعہ بزمانہ حضرت تاجِ مدینہ ختم المرسلین کَے اذانیں ہواکرتی تھیں اور ان کے کون کون موقع تھے۔ آیا پہلی اذان جو ہوتی ہے وہ کہاںہوتی تھی اور دوسری جو اس زمانہ میں وقتِ خطبہ خطیب کے سامنے قریب منبر ہوتی ہے وہ کہاں ہوتی تھی اوراگر حضرت کے زمانہ میں ایک ہی ''اذان علی باب المسجد'' ہوتی تھی تو دوسری جو خطیب کے سامنے قریبِ منبرہوتی ہے وہ کس کے حکم سے شروع ہوئی اور ائمہ کرام کے نزدیک اس کے جواز کی بابت کیا حکم ہے؟ فقط۔

الجواب

زمانہ اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں صرف ایک اذان ہوتی تھی جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منبرپرتشریف فرماہوتے حضور کے سامنے مواجہہ اقدس میں مسجد کریم کے دروازے پر۔ زمانہ اقدس میں مسجد شریف کے صرف تین دروازے تھے ایک مشرق کو جو حجرہ شریفہ کے متصل تھاجس میں سے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسجدمیں تشریف لاتے اس کی سمت پر اب بابِ جبریل ہے، دوسرا مغرب میں جس کی سمت پر اب باب الرحمۃ ہے، تیسرا شمال میں جو خاص محاذیِ منبر اطہر تھاصحیح بخاری شریف میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:دخل رجل یوم الجمعۃ من باب کان وجاہ المنبر،ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قائم یخطب، فاستقبل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قائما، فقال یارسول اللّٰہ الحدیث ۱؎۔

ایک شخص جمعہ کے دن اس دروازے سے داخل ہوا جو منبرکے سامنے ہے اوررسالتمآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو وہ شخص آپ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوکر عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ الحدیث (ت)

 (۱؎ صحیح بخاری    باب الاستسقاء فی المسجد الجامع    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۳۷)

اس دروازے پر اذانِ جمعہ ہوتی تھی کہ منبر کے سامنے بھی ہوئی اور مسجد سے باہر بھی۔ زمانہ صدیق اکبر وعمر فاروق وابتدائے خلافتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہم میںیہی ایک اذان ہوتی رہی جب لوگوں کی کثرت ہُوئی اور شتابی حاضری میںقدرے کسل واقع ہوا امیرالمومنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک اذان شروع خطبہ سے پہلے بازارمیں دلوانی شروع کی،مسجدکے اندراذان کاہونا ائمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے اور خلافِ سنّت ہے، یہ نہ زمانہ اقدس میں تھا نہ زمانہ خلفائے راشدین نہ کسی صحابی کی خلافت میں، نہ تحقیق معلوم کہ یہ بدعت کب سے ایجاد ہوئی نہ ہمارے ذمہ اس کا جاننا ضرور، بعض کہتے ہیں کہ ہشام بن عبدالملک مروانی بادشاہ ظالم کی ایجادہے واللہ تعالٰی اعلم بہرحال جبکہ زمانہ رسالت وخلافت ہائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے ائمہ کی تصریح ہے کہ مسجدمیں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنّت اختیار کرنا چاہئے بدعت سے بچنا چاہئے اس تحقیقات سے پہلے کہ سنّت پہلے کس نے بدلی، اللہ تعالٰی ہمارے بھائیوں کو توفیق دے کہ اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی سنّت اور اپنے فقہائے کرام کے احکام پر عامل ہوں اور ان کے سامنے رواج کی آڑ نہ لیں وباللہ التوفیق واللہ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article اس اذان کا کب سے داخل مسجد ہونامعمول ومروج ہُوا بدستورِ قدیم اذان منبرکے پاس دینا جائز ہے یا نہیں Next article
Rating 2.74/5
Rating: 2.7/5 (209 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu