• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Adhan & Iqamah / اذان و اقامت > اذان ہمیشہ خارج مسجد ہونا کہاں ثابت ہے؟

اذان ہمیشہ خارج مسجد ہونا کہاں ثابت ہے؟

Published by Admin2 on 2012/6/2 (1254 reads)

New Page 1

مسئلہ (۳۶۰) مسئولہ جناب مشتاق احمد صاحب از شہر بریلی محلہ بہاری پور    ۲۸ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد متصل دفترچھوٹی ریل،کی میں ہم لوگ نمازِ جمعہ پڑھا کرتے ہیں وہاں جو شخص نماز پڑھاتے ہیں وہ خطبہ کے وقت اذان مسجدکے اندر دلوایاکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسری اذان جمعہ کی خطبہ کے وقت خلیفہ ہشام نے مسجد کے اندر لوگوں سے دلوانا شروع کی ہے وہ بدعت حسن ہے یعنی وہ بدعت سیہ نہیں ہے اور بدعتِ حسن کے کرنے کو کسی نے بھی عالموں میں سے منع نہیںکیاہے اوررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہمیشہ اذان کامسجد کے دروازہ پر ہونا ثابت نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ مسجد کے اندر اذان دلواتے ہیں ان کو منع نہیں کرناچاہئے کیونکہ وہ بدعتِ حسن کرتے ہیں اور سنتِ مواظبہ کو نہیں چھوڑتے لہذا عرض یہ ہے کہ مسجد کے دروازے کے اوپرہمیشہ ہونااذان کاثابت ہے یا نہیں اورسنت مواظبہ ہے یانہیں اور اذان مسجد کے اندر دینے سے سنت چھُوٹ جائے گی یانہیںاور بدعت ہوگی تو کون سی ہوگی بدعت حسن ہوگی یا بدعت سیئہ ہوگی،اگر بدعت حسن ہوگی تو اس کو منع کرناچاہئے یانہیں اوراگر بدعت سیئہ ہوگی تو منع کرنا چاہئے یا نہیں اور منع کرنے والا کون ہوگا اور اس کے پیچھے نماز جائز ہوگی یا نہیں اور اذان خطبہ والی کو اندر دلاناکس نے شروع کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورخلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مسجد کے اندر اذان دلوانا کبھی ایک بار کا بھی ثابت نہیں،جو لوگ اس کا دعوٰی کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم پر افترا کرتے ہیں ہشام سے بھی اس اذان کامسجد کے اندر دلوانا ہرگز ثابت نہیں البتہ پہلی اذان کے نسبت بعض نے لکھا ہے کہ اُسے ہشام مسجد کی طرف منتقل کرلایا اور اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ مسجد کے اندر دلوائی بلکہ امیرالمومنین عثمٰن غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ بازار میں پہلی اذان دلواتے تھے ہشام نے مسجد کے منارہ پر دلوائی،رہی یہ دوسری اذانِ خطبہ،اس کی نسبت تصریح ہے کہ ہشام نے اس میںکچھ تغیر نہ کیا اُسی حالت میں باقی رکھی جیسی زمانہ رسالت وزمانہ خلافت میں تھی۔ امام محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی شرح مواہب شریف جلد ہفتم طبع مصر ص۴۳۵ میں فرماتے ہیں:

فلما کان عثمٰن، امر بالاذان قبلہ علی الزورائ، ثم نقلہ ھشام الی المسجد، ای امر بفعلہ فیہ، وجعل الاٰخر الذی بعد جلوس الخطیب علی المنبر بین یدیہ بمعنی انہ ابقاہ بالمکان الذی یفعل فیہ، فلم یغیرہ، بخلاف ماکان بالزوراء فحولہ الی المسجد علی المنار انتھی ۱؎۔

یعنی جب عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ خلیفہ ہوئے اذانِ خطبہسے پہلے ایک اذان بازار میںایک مکان کی چھت پر دلوائی پھر اس پہلی اذان کو ہشام مسجد کی طرف منتقل کرلایا یعنی اس کے مسجد میں ہونے کا حکم دیا اور دوسری کہ خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے وقت ہوتی ہے وہ خطیب کے مواجہ میں کی یعنی جہاں ہوا کرتی تھی وہیں باقی رکھی اس اذان ثانی میںہشام نے کوئی تبدیل نہ کی بخلاف بازار والی اذان اوّل کے کہ اسے مسجد کی طرف منارہ پر لے آیا انتہی۔

؎ شرح الزرقانی علی المواہب    المقصد التاسع فی عبادتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ عامرہ مصر    ۷/۴۳۵

ہاں وہ جمہورمالکیہ کہ اذان ثانی کو امام کی محاذات میںہونا بدعت کہتے ہیں اور اس کا بھی منارہ پر ہی ہونا سنّت بتاتے ہیں، اُن میں بعض کے کلام میں واقع ہواکہ سب میں سے پہلے اذانِ ثانی امام کے روبرو ہشام نے کہلوائی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے زمانہ میں یہ اذان بھی محاذاتِ امام نہ ہوتی تھی منارہ ہی پر تھی، پھر اس سے کیا ہوا، غرض ہشام بیچارے سے بھی ہرگز اس کا ثبوت نہیںکہ اس نے اذانِ خطبہ مسجد کے اندر منبر کے برابر کہلوائی ہوجیسی اب کہی جانے لگی اس کا کچھ پتا نہیں کہ کس نے یہ ایجاد نکالی،اور اگر ہشام سے ثبوت ہوتا بھی تو اس کا قول وفعل کیا حجت تھا، وہ ایک مروانی ظالم بادشاہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بیٹے امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پوتے امام زین العابدینکے صاحبزادے امام باقرکے بھائی سیدنا امام زید بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم کو شہید کرایا سُولی دلوائی اور اس پر یہ شدید ظلم کہ نعش مبارک کو دفن نہ ہونے دیا برسوں سُولی پر رہی جب ہشام مرگیا تو نعش مبارک دفن ہُوئی ان برسوں میںبدن مبارک کے کپڑے گل گئے تھے قریب تھا کہ بے ستری ہو اللہ عزوجل نے مکڑی کو حکم فرمایا کہ اس نے جسم مبارک پر ایسا جالا تان دیا کہ بجائے تہبند ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بعض صالحین نے دیکھا کہ امام مظلوم زید شہید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سولی سے پشتِ اقدس لگائے کھڑے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کچھ کیا جاتا ہے میرے بیٹوں کے ساتھ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنّت کے خلاف ایسے ظالم کی سنّت پیش کرنا اور پھر امام اعظم وغیرہ ائمہ پر اس کی تہمت دھرناکہ ان اماموں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین کی سنّت چھوڑ کر ظالم بادشاہ کی سنّت قبول کرلی، کیسا صریح ظلم اور ائمہ کرام کی شان میں کیسی بڑی گستاخی ہے اللہ عزوجل پناہ دے، اس کے بدعت حسنہ ہونے کا دعوٰی محض باطل وبے اصل ہے۔

(۱)    بدعتِ حسنہ سنّت کو بدلا نہیںکرتی اور اس نے سنّت کو بدل دیا۔

(۲)    مسجد میں اذان دینی مسجد ودربارِ الٰہی کی گستاخی وبے ادبی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں ادب میں طریقہ معہددہ فی الشاہد کا اعتبار ہوتا ہے۔

فتح القدیر میں فرمایا:یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ ۱؎۔یعنی قیام تعظیمی میںبادشاہوںوغیرہم کے سامنے ہاتھ زیرناف باندھ کر کھڑے ہونے کادستور ہے اسی دستور کا نمازمیں لحاظ رکھ کر زیرناف باندھیں گے۔

 (۱؎ فتح القدیر    باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۲۴۹)

اب دیکھ لیجئے کہ درباروں میں درباریوں کی حاضری پکارنے کا کیا دستور ہے، کیا عین دربار میں کھڑے ہوکر چوبدار چلاتا ہے کہ درباریو چلو ہرگز نہیں۔ بے شک ایسا کرے تو بے ادب گستاخ ہے جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ یہی کچہریاں دیکھ لے کیا ان میں مدعی مدعاعلیہ گواہوں کی حاضریاں کمرہ کے اندر پکاری جاتی ہیںیاکمرہ سے باہر جاکر کیااگر چپراسی خاص کمرہ کچہری میں کھڑا ہوا حاضریاں پکارے چلائے تو بے ادب گستاخ بناکر نہ نکالا جائیگا،افسوس جو بات ایک منصف یاجنٹ کی کچہری میں نہیں کرسکتے احکم الحاکمین جل جلالہ، کے دربار میں روارکھو۔

(۳)    مسجد میں چلّانے سے خود حدیث میں ممانعت ہے اور فقہانے یہ ممانعت ذکرِ الٰہی کو بھی عام رکھی جب تک شارع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثبوت نہ ہو، درمختار میں ہے:یحرم فیہ(ای المسجد) السوال ویکرہ الاعطاء ورفع صوت بذکر،الا للمتفقھۃ ۲؎۔مسجد میں سوال کرنا حرام اور سائل کو دینا مکروہ ہے۔ مسائل فقہیہ سیکھنے سکھانے کے علاوہ وہاں ذکر سے آواز کا بلند کرنا بھی مکروہ ہے۔ (ت)

 (۲؎ الدرالمختار    آخر باب مایفسد الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۹۳)

نہ کہ اذان کہ یہ تو خالص ذکر بھی نہیںکمافی البنایۃ شرح الھدایۃ للامام العینی (جیسا کہ امام عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے۔ ت)

(۴)    بلکہ شرع مطہر نے مسجد کو ہر ایسی آواز سے بچانے کا حکم فرمایا جس کے لئے مساجد کی بنانہ ہو صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد، فلیقل لاردھا اللّٰہ علیک، فان المساجد لم تبن لھذا ۱؎۔جوگُمی ہوئی چیز کو مسجد میں دریافت کرے اس سے کہو اللہ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے، مسجدیں اس لئے نہیں بنیں۔(ت)

 (۱؎ الصحیح لمسلم    کتاب المساجد باب النہی عن نشد الضالۃ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۱۰)

حدیث میں حکم عام ہے اور فقہ نے بھی عام رکھا، درمختار میں ہے:کرہ انشاد ضالۃ ۲؎ (مسجد میں گم شدہ چیز کی تلاش مکروہ ہے۔ ت)

 (۲؎ الدرالمختار        آخر باب مایفسد الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۹۳)

تو اگر کسی کا مصحف شریف گُم ہوگیا اور وہ تلاوت کے لئے ڈھونڈتااور مسجد میں پُوچھتا ہے اُسے بھی یہی جواب

ہوگاکہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں،اگر اذان دینے کے لئے مسجد کی بنا ہوتی تو ضرور حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسجدکے اندر ہی اذان دلواتے یا کبھی کبھی تو اس کا حکم فرماتے، مسجد جس کے لئے بنی زمانہ اقدس میں اُسی کا مسجد میں ہوناکبھی ثابت نہ ہو،یہ کیونکر معقول، تو وجہ وہی ہے کہ اذان حاضری دربار پکارنے کوہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا۔

(۵)    رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عادتِ کریمہ تھی کہ کبھی کبھی سنّت کو ترک فرماتے کہ اس کا وجوب نہ ثابت ہوترک کاجواز معلوم ہوجائے ولہذاعلما نے سنت کی تعریف میں''مع التراک احیانا'' ماخوذ کیا کہ ہمیشہ کیا مگر کبھی کبھی ترک بھی فرمایا اور یہاں اصلاً ایک بار بھی ثابت نہیںکہ حضور

اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو جو مدعی ہو ثبوت دے۔

(۶)    فقہائے کرام نے مسجد میں اذان دینے کو مکروہ فرمایا عبارتیں اصل فتوے میں گزریں اور حنفیہ کے یہاں مطلق کراہت سے غالباً مراد کراہت تحریم ہوتی ہے جب تک اس کے خلاف پر دلیل قائم نہ ہو اور بیان خلاف پر دلیل درکنار اس کے موافق دلیل موجود ہے کہ یہ گستاخیِ دربار معبود ہے۔

(۷)    فقہائے کرام نے مسجدمیں اذان دینے سے بصیغہ نفی منع فرمایا کہ صیغہ نہی سے زیادہ مؤکد ہے عبارات کثیرہ اصل فتوے میں گزریں اور فقہا کا یہ صیغہ غالباً اُس کے ناجائز ہونے پر دلالت کرتا ہے، امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:ظاھر قول المصنف ولایزید علیھا شیأً، یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ علیھا ۳؎۔قول مصنف ''لایزیدعلیھا شیئا'' کا ظاہر اشارۃً واضح کررہا ہے کہ اس پر اضافہ جائز نہیں۔ (ت)

 (۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ہدایہ میں قول امام محمد قرأ وجھر(وہ پڑھے اور جہر کرے۔ ت) پر فرمایا:یدل علی الوجوب ۱؎ (یہ وجوب پر دال ہے۔ ت)

 (۱؎ ہدایۃ        کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ    مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ دستگیر کالونی کراچی    ۱/۹۸)

عنایہ میں فرمایا: لانہ بمنزلۃ الامر بل اٰکد ۲؎ (یہ بمنزلہ امر بلکہ اس میں اُس سے بھی زیادہ تاکید ہے۔

 (۲؎ عنایۃ حاشیہ علی فتح القدیر    کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۲۸۷)

فتح القدیر میں فرمایا: مایدل علی الوجوب وھو لفظ الخبر ۳؎(جو وجوب پر دال ہے وہ لفظ خبر (قرأ) ہے۔

 (۳؎ عنایۃ حاشیہ علی فتح القدیر    کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۲۸۷)

ان وجوہ پر نظر انصاف کے بعد مجموع سے کم ازکم اتنا ضرور ثابت کہ مسجد کے اندر اذان بدعت سیئہ ہے ہرگز حسنہ نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article بدستورِ قدیم اذان منبرکے پاس دینا جائز ہے یا نہیں حضور کے نام پر ہاتھ چُوم کر آنکھوں پر لگانا کیسا Next article
Rating 2.73/5
Rating: 2.7/5 (218 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu