• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > نماز کی نیت میں آج کی نماز یا اس نماز کہنا ضروری ہے؟

نماز کی نیت میں آج کی نماز یا اس نماز کہنا ضروری ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/11 (2670 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۳۹۳: ازبدایوں قاضی محلہ مکان مولوی بقاء اﷲ رئیس    مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۴رجب المرجب ۱۳۱۲ھ

بجناب معلٰی القاب مخدوم و معظم بندہ جناب مولٰینا صاحب دام فیوضہ خادم بے ریا عبدالحمید بعد بجاآوری آداب گزارش کرتا ہے کہ ایک فتوٰی اپنا لکھا ہوا حسبِ ہدایت اپنے استاذ جناب مولانا حافظ بخش کے واسطے تصدیق جناب والا کو بھیجتاہوں ملاحظہ فرما کر مُہرسے مزین فرمادیجئے، اور اگر کوئی غلطی ملاحظہ سے گزرے تو درست فرما کر ممنون فرمایئے، زیادہ ادب۔

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان  شرح اس مسئلہ میں کہ فرائض اور واجبات کی نیت میں لفظ ''آج'' یا ''اس'' کا اضافہ کرنا چاہیئے یا نہیں؟ مثلاً یوں کہنا کہ نیت کرتا ہوں فرض آج کے ظہر یا عصر یا اس ظہر یا عصر کی ، اور اگر نہیں کرے گا تو نماز ادا ہوگی یا نہیں؟

خلاصہ جواب: صورت مستفسرہ میں فقہا کا اختلاف ہے چنانچہ قاضی خان نے بلا لفظ ''آج'' یا ''اس'' کے نیت کو جائز ہی نہیں رکھا ہے کما فی فتاواہ وھکذا فی العلمگیریۃ (جیسا کہ ان کے فتاوٰی میں ہے اور اسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں ہے۔ ت) اور درمختار میں ہے کہ تعین ضروری نہیں۔پس بموجب قولین اولین کے بلا لفظ ''آج'' یا''اس'' کے مطلق نیت سے نماز ادا نہ ہوگی اور بموجب قول صاحب درمختار کے ادا ہو جائیگی لیکن چونکہ خروج عن الخلاف بالاجماع مستحب ہے اور اسی دُرمختار میں نسبت تعین کی اولویت ظاہر فرمائی ہے اور بلفظ وہوالمختارارشاد کہا ہے پس اولٰی اور مختار یہ ہی ہے کہ تعین وقت کی لفظ''آج''یا''اس'' سے ضرور کرلے ورنہ تارک اولیت ہوگا اور جب شناخت وقت کی نہیں رکھتا اور یہ بالعموم ہے کہ اس عہد میں اکثر لوگ وقت کھو کر نماز پڑھتے ہیں تو عنداﷲ مواخذہ دار رہے گا۔واﷲتعالٰی اعلم ۔بیّنوا توجروا۔

الجواب: نیت قصدِقلبی کا نام ہے تلفظ اصلاً ضروری نہیں نہایت کار مستحب ہے تو لفظ اس یا آج درکنار سرے سے کوئی حرفِ نیت زبان پر نہ لایا تو ہرگزکسی کا حرج بھی نہیں قصدِقلبی کی علمائے کرام نے یہ تحدید فرمائی کہ نیت کرتے وقت پوچھاجائے کہ کون سی نماز پڑھنا چاہتا ہے تو فوراً بے تامل بتادے کماذکرہ الامام الزیلعی فی التبیین وغیرہ فی غیرہ(جیسا کہ امام زیلعی نے اسے تبیین الحقائق میں اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں ذکر کیا۔ت)اور شک نہیں کہ جوشخص نماز وقتی میں یہ بتادے گا کہ مثلاً نمازِظہر کا ارادہ وہ یہ بھی بتا دیگا کہ آج کی ظہر شاید یہ صورت کبھی واقع نہ ہو کہ نیت کرتے وقت دریافت کئے سے یہ تو بتا دے کہ ظہر پڑھتا ہوں اور یہ سوچتا رہے کہ کب کی تو قصد قلب میں تعیین نوعی نماز کے ساتھ تعیین شخصی بھی ضروری ہوتی ہے اور اسی قدر کافی ہے، ہاں اگر کوئی شخص بالقصد ظہر غیر معین کے نیت کرے یعنی کسی خاص ظہر کا قصد نہیں کرتا بلکہ مطلق ظہر پڑھتا ہوں چاہے وہ کسی دن کی ہو تو بلا شبہ اُس کی نماز نہ ہوگی

فان التعیین فی الفرض فرض بالوفاق وانما الخلف فی عدم اللحاظ لا لحاظ العدم (فرائض میں تعیینِ وقت بالاتفاق فرض ہے عدمِ لحاظ میں اختلاف ہے لحاظِ عدم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ت)اس طور پر تو یہ مسائل اصلامحلِ خلاف نہیں۔ولہذا محقق اکمل الدین بابرتی نے عنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا:

اقول:  الشرط المتقدم وھوان یعلم بقلبہ ای صلاۃ یصلی یحسم مادۃ ھذہ المقالات وغیرہا فان العمدۃ علیہ لحصول التمیز بہ وھوالمقصود۱؎کما نقلہ فی ردالمحتار واقرہ ھھنا وفی منحۃ الخالق وایدہ العلامۃ اسمٰعیل مفتی دمشق کمافی المنحۃ۔میں کہتا ہوں شرطِ مقدم یہ ہے کہ نمازی دل سے یہ جانتا ہو کہ وہ کون سی نماز ادا کر رہا ہے یہ شرط ان اعتراضات وغیرہ کی بنیاد کو ختم کر دیتی ہے کیونکہ حصولِ تمیز کے لئے نمازی پر قصد و نیت ضروری ہے اور یہی مقصود ہے اھ ردالمحتار نے  یہاں اسے نقل کر کے مقررر کھا ہے اورمنحۃ الخا لق میں اسے نقل کیا ہے ، نیز اسکی تائید مفتی دمشق شیخ اسمٰعیل نے کی ،ملاحظہ ہو منحۃ الخالق(ت)

(۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر    باب شروط الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۲۳۳)

(ردالمحتار        باب شروط الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۰۸)

البتہ تعدد فوائت خصوصاً کثرت کی حالت میں یہ صورت ضرور ہوسکتی بلکہ بہت عوام سے واقع ہوتی ہے کہ ظہر کی نیت کرلی اور یہ تعیین کچھ نہیں کہ کس دن تاریخ کی ظہر یہاں باوصف اختلاف تصحیح مذہب اصح واحوط یہی ہے کہ دن کی تخصیص نہ کی تو نماز ادا ہی نہ ہوگی مگر طول مدت یا کثرت عدد میں تعیین روز کہاں یاد رہتی ہے لہذا علماء نے اس کا سہل طریقہ یہ رکھا ہے کہ سب سے پہلی یا سب سے پچھلی ظہر یا عصر کی نیت کرتا رہے جب ایک پڑھ لے گا تو باقی میں جو سب سے پہلی یا پچھلی ہے دہ ادا ہوگی وعلی ھذاالقیاس آخر تک ۔

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article عورت کے بدن کے کتنے عضو عورت ہیں؟ چلتی ریل اور جہاز پر نماز کا کیا حکم ہے؟ Next article
Rating 2.90/5
Rating: 2.9/5 (318 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu