• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > چلتی ریل اور جہاز پر نماز کا کیا حکم ہے؟

چلتی ریل اور جہاز پر نماز کا کیا حکم ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/11 (1886 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۳۹۸:  ازدہلی فراش خانہ مدرسہ نعمانیہ اسلامیہ مسئولہ محمد ابراہیم الاحمد آبادی غفر لہ الہادی    ۷ شعبان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ریل پر نماز کس طرح ادا کی جائے گی ایک شخص نے سوال کیا کہ چلتی ریل اور جہاز پر نماز جائز ہے یا نہیں ، مولوی کفایت اﷲ صاحب نے تعلیم اسلام نمبر ۴ کے صفحہ ۵ پر جو جواب منقولہ ذیل لکھا ہے صحیح ہے یا نہیں ؟ اور جہاز یا کشتی اور ریل کا ایک ہی حکم ہے یا غیر غیر ؟ میں اس میں تفصیلی بحث چاہتا ہوں آجکل اس کے جملہ مسائل کی اہل اسلام کو سخت ضرورت ہے، جواب مولوی صاحب موصوف کا یہ ہے ۔

ج ۔چلتی ریل اور جہاز پر نماز جائز ہے اگر کھڑے ہو کر پڑھ سکے چکّر کھانے یا گرنے کا ڈر نہ ہو تو کھڑے ہوکر پڑھنا ضروری ہے اور کھڑے ہوکر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر درمیان نماز میں ریل یا جہاز گھوم جانے سے نمازی کا منہ قبلہ کی طرف نہ رہے تو فوراً قبلہ کی طرف پھر جانا چاہئے ورنہ نماز نہ ہوگی بلفظہٖ ، اور یہ بھی فرمایا جاوےکہ فرض نفل سب کا حکم ایک ہی ہے یا فرق ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب : فرض اور واجب جیسے وتر و نذراور ملحق بہ یعنی سنّتِ فجر چلتی ریل میں نہیں ہوسکتے اگر ریل نہ ٹھہرے اور وقت نکلتا دیکھے ، پڑھ لے پھر بعد میں استقرار اعادہ کرے ، تحقیق یہ ہے کہ استقرار بالکلیہ ولو بالوسائط زمین یا تابع زمین پر کہ زمین سے متصل با تصال قرار ہو، ان نمازوں میں شرط صحت ہے مگر بہ تعذر ، ولہذا دابہ پر بلا عذر جائز نہیں اگرچہ کھڑا ہوکہ دابہ تابع زمین نہیں ، ولہذا گاڑی پر جس کا جُوا بیلوں پر رکھا ہے اور گاڑی ٹھہری ہوئی ہے جائز نہیں کہ بالکلیہ زمین پر استقرار نہ ہُوا ایک حصہ غیر تابع زمین پر ہے و لہذا چلتی کشتی سے اگر زمین پر اترنا میسّر ہو کشتی میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ عندالتحقیق اگرچہ کشتی کنارے پر ٹھہری ہو مگر پانی پر ہو زمین تک نہ پہنچی ہو اور کنارے پر اُتر سکتا ہے کشتی میں نماز نہ ہوگی اس کا استقرار پانی پر ہے اور پانی زمین سے متصل باتصال قرار نہیں جب استقرار کی حالتوں میں نمازیں جائز نہیں ہوتیں جب تک استقرار زمین پر اور وہ بھی بالکلیہ نہ ہو توچلنے کی حالت میں کیسے جائز ہو سکتی ہیں کہ نفس استقرار ہی نہیں بخلاف کشتیِ رواں جس سے نزول متیسر نہ ہوکہ اسے اگر روکیں گے بھی تو استقرار پانی پر ہوگا نہ کہ زمین پر ، لہذا سیر ووقوف برابر، لیکن اگر ریل روک لی جائے تو زمین ہی پر ٹھہرے گی اور مثل تخت ہو جائےگی، انگریزوں کے کھانے وغیرہ کے لئے روکی جاتی ہے اور نماز کے لئے نہیں تو منع من جہتہ العباد ہُوا اور ایسے منع کی حالت میں حکم وہی ہے کہ نماز پڑھ لے اور بعد زوال مانع اعادہ کرے ۔

دُر مختار میں ہے:لوصلی علی دابۃ فی شق محمل وھویقدر علی النزول بنفسہ لا تجوز الصلاۃ علیھا اذاکانت واقفہ الا ان تکون عیدان المحمل علی الارض بان رکز تحتہ خشبۃ واماالصلوٰۃ علی العجلۃ ان کان طرف العجلۃ علی الدابۃ وھی تسیرا ولا تسیر فھی صلاۃ علی الدابۃ فتجوز فی حالۃ العذرالمذکور فی التیمم لا فی غیرھا وان لم یکن طرف العجلۃ علی الدابۃ جاز لو واقفۃ لتعلیلھم بانھا کالسریرھذا اکلہ فی الفرض والواجب بانواعہ وسنۃ الفجر بشرط ایقافھاللقبلۃ ان امکنہ والا فبقدرالامکان لئلا یختلف بسیرھا لامکان و اما فی النفل فتجورعلی المحمل والعجلۃ مطلقا۱؎۔اگر کسی نے کھڑے چارپائے پر کجاوے میں نماز ادا کی حالانکہ وہ اُترنے پر قادر تھا تو نماز نہ ہوگی، البتہ اس صورت میں نماز ہوجائے گی جب کجاوے کی لکڑیاں زمین پر ہوں بایں طورکہ اس کے نیچے لکڑی کی گاڑی ہو۔ رہا معاملہ گاڑی(مثلاً بیل گاڑی جس کو جانور کھنچتے ہیں) پر نماز کا تو اگر گاڑی کا ایک حصہ چوپائے کے اوپر ہے خواہ وہ چلتی ہے یا نہیں تو یہ چوپائے پر نماز سمجھی جائے گی تو تیمم میں بیان کردہ عذر کی وجہ سے نماز ادا ہوجائے گی ، اسکے علاوہ میں نہیں ۔ اور اگر گاڑی کا کوئی حصہ چارپائے پر نہیں تو نماز ہوجائے گی اگر بیل گاڑی کھڑی ہو کیونکہ فقھا نے اسے تخت کی مثل قرار دیا ہے ۔ یہ تمام گفتگو فرائض، واجبات کی تمام انواع اور فجر کی سنتوں میں ہے بشرطیکہ قبلہ رُخ کھڑی کی ہو ، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بقدر الامکان قبلہ رُخ کھڑا کرنا شرط ہے تاکہ اسکے چلنے سے مکان میں تبدیلی نہ ہو جائے باقی نوافل کجاوے اور بیل گاڑی میں پڑھنا مطلقاً جائز ہیں۔(ت)

 (۱؎ درمختار ،  باب الوتر والنوافل، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۹۸)

خود ردالمحتار میں ہے:الحاصل ان کلامن اتحاد المکان واستقبال القبلۃ شرط فی صلاۃ غیر النافلۃ عند الامکان لا یقسط الا بعذر فلو امکنہ ایقافھا مستقبلا فعل بقی لو امکنہ الایقاف دون الاستقبال فلا کلام فی لزمہ لماذکرہ الشارح من العلۃ ۲؎(ملخصاً)حاصل یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو نوافل کے علاوہ نماز میں اتحادِ مکان اور استقبالِ قبلہ دونوں شرط ہیں تو شرطِ عذر کے بغیر ساقط نہ ہوگی ، پس اگر سواری کو قبلہ رُخ کھڑا کرسکے تو کرے باقی رہایہ کہ اگر کھڑا کرسکتا ہے مگر قبلہ رخ کھڑا نہیں کرسکتا تو کھڑا کرنا لازم ہے جیسا کہ شارح نے اسکی علت ذکر کی ہے (یعنی تاکہ اتحاد مکان سب نماز میں حاصل رہے)(ملخصاً) ۔

 (۲؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۷۲)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article نماز کی نیت میں آج کی نماز یا اس نماز کہنا ضروری ہے؟ بحری جہاز میں عالم خوف کی نماز واجب الاعادہ ہے؟ Next article
Rating 2.66/5
Rating: 2.7/5 (282 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu