• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > مردو عورت نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں؟

مردو عورت نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں؟

Published by Admin2 on 2012/7/11 (3312 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ازخیر آباد مرسلہ شیخ حسین بخش صاحب رضوی قادری    ۲۹رجب ۱۳۰۵ھ

چہ فرمایند عالمان شرع شریف وحاکمان صدرنشین دارلطیف دریں امرکہ بمذہب حنفیہ لطیفہ مردمان بحکم حدیث دستہازیرناف مے بندوزناں بالائے ناف می بندندآیا ایں عمل دست بندی زناں حین نماز موافق شرع نبوی ؐ است یا نہ اتفاق علمائے کرام و مفتیان عظام است اگر از احادیث رسول انام علیہ الصلوٰۃ والسلام ثابت است یا باتفاق امامان حنفیان راجع است برایں استفتا مُہر ودستخط بحوالہ کتاب الجواب الصواب(ت)علماء شریعت اور دار روحانیت کے سربراہ اس مسئلا میں کیا فرماتے جو علماء احناف نے بتایا ہے کہ مرد ناف کے نیچے اور خواتین ناف کے اوپر ہاتھ باندھے ، خواتین کا اس طرح ہاتھ باندھنا موافق شرع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یا نہیں ؟ یا علماء کرام یا مفتیان عظام کا اتفاق ہے یہ مسئلا اسی طرح ہے؟ اگر احادیث رسول انام صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے یا ائمہ احناف کے اتفاق کی بنا پر مسئلا اس طرح ہے جو بھی ہو اس استفتاء پر کتاب وسنت کے حوالے سے اپنی مہر ودستخط ثبت کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے اجر و ثواب پائیں کتاب کے حوالے سے درست جواب دیں۔ (ت)

الجواب: زنان رانزد حنفیہ کرام عمہم اﷲ باللطف والاکرام حکم آنست کہ دست درنماز بر سینہ بند ندوایں مسئلہ باتفاق ائمہ ماثابت است جم غفیر از علماء در تصانیف خودہا برو بے حکایت خلاف تنصیص کردہ اند علامہ محمد ابن محمد ابن محمد الشہیر بابن امیر الحاج الحلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی در شرح منیہ فر مود: الموضع الثالث فی محل الوضع فقال اصحا بنا محلہ تحت السرۃ فی حق الرجل والصدر فی حق المرأۃ اھ مخلصا۱؎ و نیز فرمود : المرأۃ تضعھما علی صدر ھا کما قال الجم اغفیر۲؎۔علماء احناف ( اﷲ تعالٰی ان پر لطف و کرم عام فرمائے )کے نزدیک حکم یہ ہے کہ خواتین نماز مین سینے پر ہاتھ باندھیں ، اس مسئلہ پر ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے۔ علماء کا جم غفیر نے یہ بات اپنی اپنی کتب میں بغیر اختلاف نقل کی ہے، چنانچہ علّامہ محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیر الحاج حلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے منیہ کی شرح میں فرمایا : تیسرا۳ مقام ہاتھ رکھنے کے بارے میں ہمارے علما نے فرمایا کہ مرد ناف کے نیچے اور عورت سینہ پر ہاتھ باندھے اھ ملخصاً ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جیسا کہ جمِ غفیر نے تصریح کی ہے

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

لاجرم علّامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی رحمہ اﷲ تعالٰی درغنیہ ایں مسئلہ را متفق علیھا گفت و حدیث اگر بمواقف معلوم نیست بمخالف ہم واردنیست ومن ادعی فعلیہ البیان ولہذا محقق حلبی در حلیہ فرمود: ثم انما قلنا ان المرأۃ تضع یمنا ھا علی یسر ھا علی صدرھا لائہ استر لھا فیکون ذلک فی حقھا اولی لما عرف من ان الاولی اختیار ماھو استرلھا من الامور الجائزۃ کل منھا لھا من غیر منع شرعی عنہ وخصوصا فی الصلوٰۃ ۱؎ ایں است آنچہ درباری النظر رونما یدو انما۔اور علّامہ ابراہیم بن محمد بن ابرہیم حلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے غنیہ میں اس مسئلہ پر اتفاق علما کی تصریح کی ہے او راگر کوئی حدیث اس کے موافق نہیں ملتی تو اس کی مخالفت میں بھی وارد نہیں م اگر کوئی دعوٰی کرتا ہے ت دلیل پیش کرے ، اسی لیے محقق حلبی نے حلیہ میں فرمایا : ہم نے جو یہ کہا کہ عورت اپنا دایاں ہاتھ بایں ہاتھ پر اپنے سینے پر باندھے یہ اس لیے کہ عورت کے لئے اس میں زیادہ سترہے لہذا یہ اس کے حق میں اولٰی ہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ عورت کے حق میں جتنے بھی امور جائز ہیں ان میں سے اسی کو اختیار کرنا بہتر ہے جو سب سے زیادہ ستر کا سبب ہو خصوصاً حالتِ نماز میں زیادہ خیال رکھنا چاہئے ، یہ تو وُہ ہے جو ظاہر نظر میں آیا ہے

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اقول وباﷲ التوفیق میر سد کہ ایںمسئلہ را بحدیثے جید الاسناد رنگِ اثبات وہیم تقریرش آنچناں کہ در محل وضع از سید عالمؐ دو صورت مروی است یکے زیرِناف بستن ودروے احادیث عدیدہ وارداست اجلھا ماروی ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ قال حدثنا وکیع عن موسی بن عمیر عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن ابیہ رضی اﷲ عنہ قال رأیت رسول اﷲ ؐ وضع یمینہ علی شمالہ فی صلاۃ تحت السرہ ۔۲؎ امام علّامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اﷲ تعالٰی در تخریج احادیث اختیار شرح مختار فرماید سندہ جید ورواتہ کلھم ثقات ۳؎اقول: (میں کہتا ہوں) اﷲ کی توفیق سے کہ اس مسئلہ پر ایک حدیث جید الاسناد پیش کروں اس کی تقریریوُں ہے کہ حضور ؐ سے ہاتھ باندھنے کی دو صورتیں مروی ہیں ایک صورت زیرِ ناف کی ہے اور اس بارے میں متعدد احادیث وار د ہیں سب سے اہم روایت وہ ہے جسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنے مصنّف میں ذکر کیا کہ ہمیں وکیع نے موسی بن عمیر سے علقمہ بن وائل بن حجر نے اپنے والد گرامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ میں نے دورانِ نماز نبی اکرم ؐ کو دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھے دیکھا ہے۔ امام علامہ قاسم بن قطلو بغاحنفی رحمہ اﷲ تعالٰی اختیار شرح مختار کی احادیث کی تخریج کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کی سند جیّد اور تمام راوی ثقہ ہیں ۔

(۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ وضع الیمین علی اشمال من کتاب الصلوٰۃ     مطبوعہ ادرۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۳۹۰)

(۳؎ تخریج احادیث شرح مختار للقاسم بن قطلوبنا )

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article چلتی ریل اور جہاز پر نماز کا کیا حکم ہے؟ التحیات میں انگشت شہادت سے اشارہ کرنا کیسا؟ Next article
Rating 2.72/5
Rating: 2.7/5 (298 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu