• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > الحمد کے بعد سورۃ سے قبل بسم اللہ پڑھیں؟

الحمد کے بعد سورۃ سے قبل بسم اللہ پڑھیں؟

Published by Admin2 on 2012/7/11 (1139 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۴۰۶  :  ۱۱محرم الحرام     ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ الحمدﷲ کے بعد جو سورۃ پڑھی جائے اُس پر بھی بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہیئے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں یہ ناجائز ہے اس لئے کہ ضم ِ سورت واجب ہے اور بسم اﷲ شریف پڑھنے سے ضم نہ ہوا فصل ہوگیا، یہ قول ان کا کیسا ہے؟

الجواب: ہمارے علمائے محققین رحمہم اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کتب معتمدہ میں روشن تصریحیں فرما رہے ہیں کہ ابتدائے سورت پر بھی بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہئے مطلقاً مستحب و مستحسن ہے، خواہ نماز سِریہ ہو یا جہریہ ۔ اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کا ناجائز ہونا درکنار ہمارے ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں کوئی اس کی کراہت کا بھی قائل نہیں بلکہ سب ائمہ کرام بالاتفاق اسے خوب بہتر جانتے ہیں اختلاف صرف سنّیت میں ہے کہ جس طرح سرِّفاتحہ پر بسم اﷲشریف بلا شبہہ سنت ہے یونہی سرِّ سورت پر بھی سنّت ہے یا مستحب۔امام محمد کے نزدیک سِرّیہ میں سنّت ہے، محیط ومضمرات وعتابہ ومستصفی وغیرہامیں اسی کی تصحیح فرمائی اور مذہب امام ،نفی استنان ہے اور اس پر فتوٰی اور یہی کلمات متون ''لایاتی''و''لایمسی''(نہ لائے اور نہ بسم اﷲ پڑھے ۔ت)سے مراد بہرحال اس کی خُوبی و حُسن پر ہمارے سب ائمہ کا اتفاق ہے پھر اس کے بعد زید و عمرو کو اپنی رائے لگانے اور اتفاقِ ائمہ کرام کے خلاف اجتہاد کرنے کی گنجائش ، اور وہ بات بھی کچھ ٹھکانے کی ہو جس نے چند حروف فقہ کے پڑھے یا کسی عالم کی صحبت پائی وہ خوب جانتا ہے کہ ضمِ سورت جو واجب ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ خاص سورت ہی ملانی واجب ہے یہاں تک کہ بعد فاتحہ وسط سورت سے کسی رکوع کا پڑھنا ناجائز و موجب ترکِ واجب ٹھہرے کہ سورت بمعنی معروف کا ملانا اُس پر بھی صادق نہیں بلکہ اس سے مراد قرآنِ عظیم کی بعض آیات ملانا ہے کہ خواہ سورت ہو یا نہ ہو بسم اﷲ شریف خود ایک آیت ِ قرآن عظیم ہے تو اس کا ملانا قرآن عظیم ہی کا ملانا ہُوا نہ کسی غیر کا ، جو صاحب اتنا بھی خیال نہ فرمائیں اُنھیں احکام شریعت میں رائے زنی کیا مناسب ہے، اب تصریحات ِ علمائے کرام سنئے ،

دُرمختار میں ہے: (لا) تسن (بین الفاتحۃ والسورۃ مطلقا)ولو سرّیۃ ولا تکرہ اتفاقا۱؎۔ (نہیں ہے)بسم اﷲ پڑھنا سنت(فاتحہ اور سورت کے درمیان مطلقاً)اگر چہ نماز سری ہو، اور نہ مکروہ ہے اتفاقاً۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب صفۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ مجتائی دہلی    ۱/۷۵)

ردالمحتار میں ہے:صرح فی الذخیرۃ والمجتبی بانہ ان سمی بین الفاتحہ والسورۃ المقروئۃ سرا اوجھرا کان حسنا عند ابی حنیفۃ ورجحہ المحقق ابن الھمام وتلمیذہ الحلبی الشبہۃ الاختلاف فی کو نھا اٰیۃ من کل سورۃبحر۱؎۔ذخیرہ اور مجتبٰی میں اس بات کی تصریح ہے کہ فاتحہ اور اس سے ملائی جانے والی سورت کے درمیان بسم اﷲ آہستہ یا بلند پڑھنا امام ابو حنیفہ کے نزدیک حسن ہے۔امام ابن الہمام اور ان کے شاگردحلبی نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ بسم اﷲ کے ہر سورت کا جزء ہونے میں اختلاف کا شبہ ہے۔بحر (اس لئے پڑھ لینا ہی بہتر ہے۔ت)

(۱؎ درمختار        باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ مطفی البابی مصر         ۱/۳۶۲)

طحطاوی میں ہے :قولہ ولا تکرہ اتفاقابل لا خلاف فی انہ لو سمی لکان حسنانھر۲؎۔اس کا قول کہ ''بالاتفاق مکروہ نہیں'' بلکہ اگر بسم اﷲ پڑھی تو اس کے حسن ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، نہر۔(ت)

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب صفۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۱/۲۱۹)

امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں عن الذخیرۃ عن المعلی عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (ذخیرہ سے معلّی سے ابویوسف سے امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ست) روایت فرمایا:انہ اذاقرأھا مع کل سورۃ فحسن۳؎۔اگر نمازی ہر سورت کے ساتھ بسم اﷲپڑھتا ہے تو یہ حسن ہے۔(ت)

 (۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

بحرالرائق میں ہے:لاتسن التسمیۃ بین الفاتحہ والسورۃ مطلقا عندھما وقال محمد تسن اذا خافت لا ان جھر وصحح فی البدائع قولھما والخلاف فی الاستنان اماعدم الکرھۃ فمتفق علیہ لھٰذا صرح فی الذخیرۃ ووالمجتبی ۱؎الٰی اٰخرمامر۔شیخین کے ہاں فاتحہ او ر سورت کے درمیان بسم اﷲ پڑھنا مطلقاً سنّت نہیں ۔امام محمد کہتے ہیں کہ سرّی نماز میں سنّت ہے مگر جہری میں سنّت نہیں، بدائع میں شیخین کے قول کوصحیح کہا گیا لیکن یہ اختلاف سنّت ہونے میں ہے، پڑھ لینا مکروہ نہیں اس پر اتفاق ہے، اسی لیے ذخیرہ اور مجتبٰی اس کی تصریح کی ہے جس کا ذکر ہوچکا ہے (ت)

 (۱؎ البحرالرائق     فضل واذاارادالدخول الخ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی            ۱/۳۱۲)

علّامہ حسن شرنبلالی غنیۃ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں:المراد نفی سنیۃ الاتیان بھا بعد الفاتحہ و ھذاعندھما وقال محمد یسن الاتیان بھافی السریۃ بعد الفاتحہ ایضا للسررۃ واتفقواعلی عدم کرھۃ الاتیان بھا بل ان سمی بین الفاتحہ والسورۃ کان حسنا سواء کانت الصلاۃ جھرۃ جھریۃ او سریۃ۲؎۔اس سے مراد فاتحہ میں بعد بسم اﷲ پڑھنے کی سنیت کی نفی ہے اور یہ شیخین کے نزدیک ہے۔امام محمد کا قول یہ ہے کہ نماز سرّی میں فاتحہ کے بعد سورت کے لئے بسم اﷲ پڑھنا بھی سنت ہے لیکن اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو اس کے مکروہ نہ ہونے پر سب کا اتفاق ہے، بلکہ فاتحہ اور سورت کے درمیان اگر پڑھ لیتا ہے تو یہ حسن ہے خواہ نماز جہری ہو یا سرّی۔(ت)

 (۲؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام         باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع احمد کامل الکائنہ در سعادت بیروت    ۱/۶۹)

مراقی الفلاح میں ہے:لا کراھۃ فیھا ان فعلھا اتفاقا للسورۃ سواء جھرا وخافت بالسورۃ ۳؎۔سورت سے پہلے بسم اﷲ پڑھ لینا بالاتفاق مکروہ نہیں خواہ سورت جہراً پڑھے یا سراًأ(ت)

 (۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی         فصل فی کیفیۃ ترکیب افعال الصلوٰۃ مطبوہ نور محمد تجارت کتب کراچی    ص۱۵۴)

رحمانیہ و برجندی وغیرہما میںمحیط سے ہے:ذکر الفقیہ ابو جعفر عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ اذا قرأھا مع کل سورۃ فحسن ۴؎وھوقول محمد رحمہ اﷲ تعالٰی،واﷲ تعالٰی اعلم۔فقیہ ابو جعفر امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ہر سورت کےساتھ بسم اﷲ پڑھتا ہے تو یہ حسن ہے اور یہی امام محمد کا قول ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

 (۴؎ شرح النقایۃ للبرجندی ،کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نولکشور بالسرور لکھنؤ ، ۱/۱۰۴)


Navigate through the articles
Previous article رفع یدین حضور نے کیا یا نہیں؟ قومہ و جلسہ میں دیر تک ٹھہرنے کا حکم Next article
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (288 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu