• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > نماز میں دو سجدے فرض ہیں یا ایک؟

نماز میں دو سجدے فرض ہیں یا ایک؟

Published by Admin2 on 2012/7/11 (2579 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۴۰۹:    ازمدرسہ مصباح التہذیب    مسئولہ مولوی محمد سلطان صاحب بنگالی ۳ جمادی الاولٰی ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ نماز میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب؟ اگر یہ مسئلہ اختلافیہ ہے توقول قوی اور راجح کون ہے اور اسکی دلیل کیا ہے اور دوسرے کے مرجوح و ضعیف ہونے کی کیا دلیل ہے؟ مع دلائل معتبرہ بحوالہ کتب بیان فرمایا جائے بینوا توجروا عندالجلیل

الجواب

باجماعِ امت دونوں سجدے فرض ہیں ، اصلاً اس میں کسی عالم کا خلاف نہیں کہ قوی و راجح بتایا جائے، اس کا منکر اجماعِ امت کا منکر ہے، دو۲ روز ہوئے ایک طالب علم نے فقیر سے یہ مسئلہ پوچھا تھا فقیر نے عرض کی

دونوں فرض ہیں، رات مسموع ہُوا کہ مدرسین مدرستین مصباح التہذیب واشاعت العلوم سے مولوی محمد عثمان صاحب ولایتی تو ایسا ہی بتاتے ہیں باقی سب خلا ف پر ہیں سجدہ اولٰی کو فرض اور ثانیہ کو واجب کہتے ہیں اس کی سند شرح وقایہ وہدایہ کی عبارت بتاتے ہیں بلکہ ایک نئے مولوی صاحب محمود نام کہ دیوبندی تعلیم کے فاضل ہیں فقیر کے قول کو محض بے دلیل ، فقیر غفرلہ اﷲ بلا مبالغہ ۲۰۰ دوسو کلماتِ علماء کرام سے اس کی سندیں پیش کرسکتا ہے جن سے ثابت ہو کہ مخالفینِ مسئلہ کو فقہ سے کس قدر غفلت ہے مگر مسئلہ نہایت وضوح سے واضح ہے اور اطالت موجب ملامت لہذا صرف دس نصوص صریحہ پر قناعت:

نص اوّل: بحرالرائق میں کنز الدقائق کے قول فرضھا التحریمۃ والقیام والقراء ۃ والرکوع والسجود ۱؎۔(نماز کے فرائض تکبیر تحریمہ ، قیام، قرأ ت ، رکوع اور سجود ہیں ۔ت) کی شرح میں فرمایا: (لقولہ تعالٰی) ارکعواواسجدواوللاجماع علی فریضتھما ورکنیتھما والمراد من السجود السجدتان فاصلہ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع ۲؎۔اس کی دلیل اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے:ارکعوا واسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو۔ت) نیز ان دونوں کے فرض اور رکن ہونے پر اجماع ہے اور سجود سے دونوں سجدے مراد ہیں اور سجدہ کی اصل کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور سجدہ کا ہر رکعت میں دو۲ دفعہ ہونا سنّت اور اجماع سے ثابت ہے۔(ت)

(۱؎ کنزالدقائق    باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۳۰)

(۲ البحر الرائق      باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۱/ ۲۹۳)

نص ثانی: امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ شرح میں فرماتے ہیں:م والخامسۃ السجدۃ ش ای والفریضۃ الخامسۃ من الفرائض الست المشتمل علی فریضتھا الصلاۃ ، السجدۃ والاولی السجدتان فی کل رکعۃ ثم اصل السجدۃ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع وکونہ مثنی فی کل رکعۃ بالسنۃ والاجماع ولا خلاف فی کونھما من ارکان صلاۃ ۳؎۔متن ، پانچواں فرض سجدہ ہے ، شرح ،یعنی وہ چھ فرائض جن پر نماز مشتمل ہے ان میں پانچواں فرض سجدہ ہے اور (السجدتان فی کل رکعۃ) کہنا بہتر تھا یعنی ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں پھر سجدہ کی اصل کتاب ، سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور اس کا ہر رکعت میں دو ۲ دفعہ ہونا سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور ان دونوں کے رکنِ نماز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔(ت)

(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ایضاً یہاں تصریح ہے کہ فرضیت درکنار دونوں سجدے بالاجماع رکنِ نماز ہیں۔

نص ثالث:مبسوط امام شیخ الاسلام پھر حلیۃ میں دونوں سجدے فرض ہونے کی حکمت بیان فرمائی:ھذا ماروی فی الاخباران اﷲ تعالٰی لما اخذ المیثاق من ذریۃ اٰدم علیہ الصلاۃ والسلام حیث قال عزوجل واذ اخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم ذریتھم الاٰیۃ امرھم بالسجود تصدیقا لما قال فسجد المسلمون کلھم وبقی الکفار فلما رفع المسلمون رؤسھم ورأو الکفار لم یسجدوا فسجدوا ثانیا شکرالما وفقھم اﷲ تعالٰی علی السجود الاول فصار المفروض سجدتین لھذا والرکوع مرۃ ۱؎۔یہ اس بنا پر ہے جو روایات میں ہے کہ اﷲ تعالٰی نے جب اولادِآدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عہد لیا جس کا ذکر اﷲ نے اس آیت میں کیا ہے :اور یاد کرو اس وقت کو جب اے حبیب! آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں ان کی اولاد سے عہد لیا الآیۃ ، تو انھیں بطور تصدیق سجدے کا حکم دیا تو اﷲ کے حکم ہر تمام مسلمان سجدہ ریز ہوگئے لیکن کافر کھڑے محروم رہ گئے جب مسلمانوں نے سجدے سے سر اُٹھایا اور دیکھا کہ کفار نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگئے کہ اﷲ تعالٰی نے انھیں سجدہ اوّل کی توفیق دی ، لہذا نماز میں دو۲ سجدے فرض ولازم ہوگئے اور رکوع ایک ہی رہا۔(ت)

(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

نص رابع:مراقی الفلاح میں تھا:یفترض السجود ۲؎ (سجدہ فرض کیا گیا ہے۔ت)

(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی   باب شروط الصلٰوۃ    مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی    ص۱۲۵)

علامہ طحطاوی نے حاشیہ میں فرمایا:المراد منہ الجنس ای السجدتان ۳؎۔ (مراد اس سے جنسِ سجدہ یعنی دو سجدے ہیں۔

(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  باب شروط الصلٰوۃ    مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی    ص۱۲۵)

نص خامس: دررالحکام شرح غررالاحکام للعلامہ مولی خسرو میں ہے:فان قیل فرضیۃ الرکوع والسجود ثبتت بقولہ تعالٰی ارکعو واسجدو ا والامرلایوجب التکرار ولذالم یجب تکرار الرکوع فبماذاثبت فرضیۃ تکرار السجود (ولما اذاتکرر) قلنا قد تقرران آیۃ الصلاۃ مجملۃ وبیان المجمل قد یکون بفعل الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد یکون بقولہ وفرضیۃ تکرارہ تثبت بفعلہ المنقول عنہ تواترااذکل من نقل صلاۃ الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نقل تکرار سجودہ۱؎۔اگر یہ سوال ہو کہ رکوع و سجود کی فرضیت اﷲ تعالٰی کے اس فرمان سے ثابت ہے ارکعو اواسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو) یہ امر ہے اور امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ رکوع میں تکرار ثابت نہیں تو تکرار تکرار سجود کس سے ثابت ہے، جب تکرار ثابت ہوگیا تو ہم جواباً کہیں گے کہ یہ بھی ثابت ہے کہ نماز والی آیت مجمل ہے اور مجمل کا بیان کبھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عمل سے ہوتا ہے کبھی قول سے ، تکرار سجود کی فرضیت متواتراً آپ کے عمل سے ثابت ہے کیونکہ جس نے بھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نماز کو نقل کیا ہے اس نے یہ ضرور بیان کیا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر رکعت میں دو سجدے فرماتے تھے۔(ت)

(۱؎ دررالحکام شرح غررالاحکام   باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ احمد کامل الکائنہ درسعادت مصر        ۱/ ۷۳)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article بیماری میں کھڑے ہو کر تکبیر کہہ سکتا ہوتو؟ نماز میں سبحانک اللہم پڑھنا فرض ہے یا واجب؟ Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (302 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu