• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > رکوع میں کمر سیدھی کرنے کا کیا حکم ہے؟

رکوع میں کمر سیدھی کرنے کا کیا حکم ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/14 (1699 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۴۰۷    ازاٹاوہ متصل کچہری منصفیمرسلہ مولوی محمد حبیب علی صاحب علوی۹رمضان المبارک ۱۳۱۷ھ

حامداً و مصلیاً مخلص نوززادکم اﷲ مجد کم۔ اسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔اس طرف جو رسائل شریفہ آنجناب مثلحیات الموات و شاح الجید،النہی الحاجر،ازالۃ العاروغیرہا کے مطالعہ سے شرف اندوزی حاصل ہوئی ۔شکریہ

اس کا حوالہ قلم نہیں ہوسکتا ہے واقعی آپ کاطرز ایسے مسائل میں تحقیق کا اوروں سے نرالا ہے اور بہمہ وجوہ سب سے اعلٰی ہے آپ نے پایہ تحقیق مسائلِ نزاعیہ میں مراتبِ عالیہ کو پہنچا دیا ہے جزاکم اﷲ خیرا الجزا۔

اس عریضہ کی تسطیر کی بالفعل یہ ضرورت درپیش ہے کہ وقت ِرکوع دُرمختار میں الصاق کعبین کو مسنون دو۲ مقام پر تحریر کیا ہے شامی نے ثبوتِ مسنونیت میں کوئی حدیث تحریر نہیں کی بلکہ کچھ زیادہ تعرض اور لحاظ نہیں فرمایا، صاحبِ مفتاح الصلوٰۃ نے احادیث اور ظاہرالروایۃ میں وارد ہوناتحریر کرکے الصاق کو بمعنی قربو اتصال تصریح کرکے زیادہ تحقیق کا حوالہ اپنے حواشی پر لکھ دیا، دریافت طلب امر صرف امورِ ذیل ہیں:

(۱) مسنونیت الصاق کعبین فی الرکوع کہاں ثابت ہے، کون حدیث دلیل قول صاحب درمختار ہے اور وہ کہاں تک قابلِ عمل اور اعتماد ہے، صاحبِ مفتاح الصلوٰۃ کا بیان بنسبت اس مسئلہ کے بجمیعہ صحیح ہے یا کیا۔ دیگر متونِ معتمدہ فقہ مذہب حنفی میں اس سنّت رکوع کا بیان کیوں نہیں درج ہوا ہے تساہل بعض فقہا نے کیوں گوارا فرمایا۔ عبارت فتاوٰی درمختار ہر دو مقام سے اور عبارت مفتاح الصلوٰۃبقیہ صفحہ ذیل میں درج ہے، غایۃ الاوطار ترجمہدُرمختارصفحہ ۲۱۹،۲۳۰ سنن نماز و طریق ادائے نماز تکبیر الرکوع وکذاالرفع منہ بحیث یستوی قائما و التسبیح فیہ ثلاثاوالصاق کعبیہ و ینصب ساقیہ(تکبیر رکوع اور اسی طرح رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا، اس میں تین دفعہ تسبیح پڑھنا، ٹخنوں کا متصل ہونااور پنڈلیوں کو کھڑا کرنا۔(ت)

مفتاح الصلوٰۃ صفحہ ۹۴:مجتبٰی کہ تصنیف امام زاہدی است از مسنونات رکوع الصۤق کعبین باستقلال انگشتاں بسوئے قبلہ مسنون گفتہ است لیکن در حدیث ِصحیح و در کتب ظاہرا لرویۃ ظاہر نمی شود ظاہر مراد امالہ کعب بسوئے کعب دیگر باشد چجانکہ صاحبِ قاموس معنی لصوق گفتہ است زیراکہ اگر الصاق در وقت ِ رکوع کند حرکت کثیر لازم مے آید باآنکہ استقبال انگشتاں نمی ماند وسنت قیام مے رود کہ فر جہ چہار انگشت مسنون است ومؤید امالہ قول نحویین است الباء للالصاقیی یعنی القرب و درحدیث نیز الصاق الکعب بمعنی القرب والمقابلہ واقع است پس مقابلہ کعب بکعب نیز ارادہ می تواں نمود چنانکہ تحقیق ایں مسئلہ در حواشی بحراالرائق کاتب بتفصیل مذکورہ نمودہ۔ واللہ اعلم۔امام زاہدی کی کتاب مجتبٰی میں سنن رکوع کی بحث میں ٹخنوں کو متصل کرنا اور پاؤ ں کی انگلیوں کو قبلہ رُخ کرنا سنّت بیان کیا گیا ہے لیکن حدیث صحیح اور کتب ظاہرالرویۃ میں یہ وارد نہیں ہے زیادہ سے زیادہ اتنا ملتا کہ ایک ٹخنے کا دوسرے ٹخنے کی طرف میلان ہو،جیسا کہ صاحب قاموس نے اس کا معنٰی لصوق بیان کیاہے ورنہ رکوع میں اتصال کی صورت میں حرکت کثیرہ لازم آئے گی با آنکہ اس کے ساتھ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف نہیں رہے گا، اور سنت قائم نہ ہوگی کہ حالتِ قیام میںدونوں قدموں کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار کافاصلہ سنّت ہے ، یہاں الصاق کے معنی امالہ پر نحویوں کا قول بھی تائید کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں باالصاق یعنی قُرب کے لئے ہے، اور حدیث میں بھی الصاق الکعب کا معنی قُرب اور مقابلہ واقع ہوا ہے،لہذا یہاں کعب کا کعب کے مقابل ہونا مراد لیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس مسئلہ کی تفصیل و تحقیق راقم نے البحر الرائق کی حواشی میں ذکر ہے۔واﷲ اعلم(ت)

الجواب: مکرمی کرم فرمایا اکرام اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ برکاتہ،۔ خاتم المدققین علامہ علائی دمشقی ، صاحبِ درمختار اعلی اﷲ تعالٰی مقامہ اس مسئلہ میں متفرد نہیں اُن سے بھی پہلے علما نے اس کی تصریح اور ان کے بعد ناقلین و ناظرین نے تقریر وتوضیح فرمائی۔علامہ ابراہیم حلبی غنیۃ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:السنۃ ایضافی الرکوع الصاق الکعبین و استقبال الصابع القبلۃ ۱؎۔رکوع میں ٹخنوں کا اتصال اور انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا بھی سنّت ہے۔(ت)

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۱۵)

شرح نقایہ للعلا مۃ الشمس القہستانی میں ہے :ینبغی ان یزاد مجافیا عضدیہ ملصقا کعبیہ مستقبلا اصابعہ فانھا سنۃ کما فی الزاہدی ۲؎۔یہاں اس بات کا اضافی کرنا مناسب ہے کہ بازو پیٹ سے جدا اور ٹخنے متصل اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا سنت ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے(ت)

 (۲؎ جامع الرموز ،  فصل صفۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۱۵۲)

بعینہٖ اسی طرح علامہ سید ابو المسعود ازہری نے فتح اﷲ المعین میں علامہ سیدحموی سے نقل کیا علامہ بحر الفقہ زین الفقہا بحرالرائق میں شرح قدوری سے نقل فرماتے ہیں:والسنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین واستقبال الاصابع للقبلۃ۳؎۔رکوع میں ٹخنوں کا متصل ہونا اور انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا سنّت ہے۔(ت)

 (۳؎ البحر الرائق        فصل واذاارادالدخول   مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۳۱۵)

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:وسن ابعاد مرفقیہ عن جنبیہ والصاق کعبیۃ فیہ واستقبال اصابعہ القبلۃ ای اصابع رجلیہ کذافی القہستانی عن الزاھدی؎۔رکوع میں کہنیوں کا پہلوؤں سے دُور ہونا اور ٹخنوں کا متصل ہونا اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا سنّت ہے۔قہستانی میں زاہدی کے حوالے سے اسی طرح ہے۔(ت)

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ  مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی  ص۱۴۵)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article مسجد کی جہت سے متعلق سوال جوتا پہن کر فرض یا نفل پڑھ سکتے ہیں؟ Next article
Rating 2.66/5
Rating: 2.7/5 (305 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu