• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > جس فرض کے بعد سنت ہو اسکے بعد دعا مانگنے کا ثبوت ہے؟

جس فرض کے بعد سنت ہو اسکے بعد دعا مانگنے کا ثبوت ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/15 (1096 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر۴۵۰: از بریلی محلہ بہاری پور جناب نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب     ۴ صفر المظفر ۱۳۳۰ھ

جس فرض کے بعد سنّت ہے اس فرض کے بعد مناجات کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا بغیر مناجات کے سنّت ادا کرکے یا مختصر مناجات کے بعد سنّت شروع کرے؟ دلیل حدیث یا فقہ کی کتاب سے مع عبارت ہونی چاہئے مع نشان باب و نام کتاب۔ بینوا توجروا۔

الجواب

جائز و درست تو مطلقاً ہے مگر فصل طویل مکروہ تنزیہی و خلافِ اولٰی ہے اور فصل قلیل میں اصلاً حرج نہیں ، دُرمختار فصل صفۃ الصلوٰۃ میں ہے:یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ وقال الحلوانی لاباس بالفصل بالا وراد واختارہ الکمال قال الحلبی ان ارید بالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت وفی حفظی حملہ علی القلیلۃ ۱؎۔سنّتوں کا مؤخر کرنا مکروہ ہے مگر اللھم انت اسلام الخ کی مقدار۔حلوانی نے کہا اوراد اور دعاؤں کی وجہ سے فصل(وقفہ) میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے۔حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو تواختلاف ہی ختم ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اورادِ قلیلہ پر محمول کیا ہے۔(ت)

 (۱؎ دُرمختار        باب صفۃ الصّلوٰۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/ ۷۹)

فتح القدیر میں ہے:قول الحلوانی لاباس الخ والمشھور فی ھذہ العبارۃ کون خلافہ اولی فکان معناھا ان الاولی ان لا یقرأ ای الاوراد قبل السنۃ ولو فعل لا باس۲؎ اھ مختصرا نقلہ الشامی ثم قال وتبعہ علی ذلک تلمیذہ فی الحلیۃ وقال فتحمل الکراھۃ فی قول البقالی علی التنزیھیۃ لعدم دلیل التحریمیۃ حتی لوصلاھا بعد الاورادتقع سنۃ مؤادۃ لکن لافی وقتھا المسنون۳؎۔حلوانی کا قول لا باس الخ(دعاؤں کی وجہ سے فصل (وقفہ) میں کوئی حرج نہیں) اس عبارت میں مشہور ہے کہ اس کا خلاف اولٰی ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ سنّت سے پہلے (اوراد کا) نہ پڑھنا اولٰی ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اس میں حرج نہیں اھ اختصاراً ۔ شامی نے اس کو نقل کرکے اس کے بعد فرمایا حلیہ میں ان کے شاگرد نے ان کی اتباع کی اور کہا مکروہ تحریمی پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے بقالی کے قول میں کراہت کو کراہت تنزیہی پرمحمول کیا جائے گا۔حتٰی کہ اگر کسی شخص نے اوراد کے بعد سنّتیں ادا کیں تو وہ ادا ہی ہونگی البتہ وقت مسنون میں ادا نہیں ہوئیں(ت)

 (۲؎ فتح القدیر        باب النوافل             مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر        ۱/ ۳۸۴)

(۳؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۳۹۲)

ردالمحتار میں ہے:مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقعد الابمقدر ارما یقول اللھم انت السلام الخ قال وقول عائشۃ بمقدار لا یفیدانہ کان یقول ذلک بعینہ بل کان یقعد بقدر مایسعہ و نحوہ من القول تقریبا فلا ینافی فی الصحیحین من انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقول دبر کل مکتوبۃ لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد وتمامہ فی شرح المنیۃ وکذافی الفتح من الوتر والنوافل ۱؎ اھ مختصرا۔مسلم اورترمذی نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (نماز فرض کے بعد) اللھم انت السلام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے ۔شامی نے کہاکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے قول کی مقدار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت میں بعینہٖ یہی کلمات جس میں تقریباً یہی دُعا یا اسی طرح کی کوئی دوسری دعا پڑھی جاسکتی تھی ۔لہذا ان کا یہ قول بخاری ومسلم کی اس روایت کے منافی نہ ہوگا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دُعا پڑھتے :لا الٰہ الّا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد (اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لا شریک ہے، ملک اس کا، حمد اس کی، اور وہ ہر شے پر قادر ہے، اے اﷲ! تیری عطا میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، جو تُو نہ دے وہ کوئی اور دے نہیں سکتا اور کسی کو اسکا بخت و دولت تیرے قہر و عذاب سے بچا نہیں سکتا) اس کی تفصیل شرح المنیہ اور اسی طرح فتح القدیر کے باب الوتر والنوافل میں ہے اھ اختصاراً (ت)

 (۱؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۳۹۱)

غنیہ میں ہے:وکذا ماروی مسلم و غیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنھما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا سلم من صلٰوتہ قال بصوتہ الاعلی لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ ولا نعبد الا ایاہ لہ النعمۃ ولہ الفضل ولہ الثناء الحسن لا الٰہ الّا اﷲ مخلصین لہ الدین ولوکرہ الکافرون لان المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید قد یسع کل واحد من نحو ھذہ الازکار لعدم التفاوت الکثیرۃ بینھا ۱؎الخاسی طرح وُہ حدیث (یعنی حضرت عائشہ کاقول اس حدیث کے بھی منافی نہیں) ہے جس کو مسلم وغیرہ نےحضرت عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے: اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں سلطنت اسی کی، حمد اسی کے لئے ،اور وہ ہر شے پر قادر ہے ، برائی سے پھیرنا نیکی کی طاقت دینا یہ اﷲ کی طاقت و قدرت میں ہے ہم اسکے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے نعمت و فضل اسی کے لئے ، ثناء  جمیل اسی کی ہے، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ، خالص کرنے والے ہیں (اس کے لئے دین کو اگرچہ کافر اسے ناپسند کریں کیونکہ مقدار مذکور تقریبی اعتبار سے ہے نہ کہ تحدیدی اعتبار سے، اس مقدار میں ان اذکار میں سے ہر ایک پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے درمیان زیادہ تفاوت نہیں الخ(ت)

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی        باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۴۲)

اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب الذکر بعد الصلوٰۃ میں ہے:با ید دانست آنست کہ تقدیم روایت منافی نیست بعدیتے راکہ درباب بعض ادعیہ و اذکار دراحادیث واقع شدہ است ، کہ بخواند بعد از نمازِفجر و مغرب دہ بار لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علٰی کل شیئ قدیر ۲؎(مختصراً)یہاں اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ تقدیم روایت بعدیت روایت کے منافی نہیں کیونکہ بعض دعاؤں اور اذکار کے بارے میں احادیث موجود ہیں ایک روایت میں ہے کہ نمازِ فجر اور مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے جائیں : اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں و ہ یکتا ہے ذات و صفات میں اسکا کوئی شریک نہیں ، سلطنت اسی کی ہے، حمد اسی کی ہے اور وہ ہر شے پرقادر ہے۔(مختصراً)۔(ت)

یہاں سے ظاہر ہوا کہ آیۃ الکرسی یا فرض مغرب کے بعد ۱۰دس بار کلمہ توحید پڑھنا فصلِ قلیل ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

 (۲؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ   الفصل الاول من باب الذکر بعد الصلوٰۃ  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۴۱۸)


Navigate through the articles
Previous article کیا نماز کے بعد دعا بدعت ہے؟ بعد نماز دعا مانگنے سے پہلے مختلف وظائف پڑھنا کیسا Next article
Rating 2.84/5
Rating: 2.8/5 (269 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu