• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Qir'at/ Reciting / قراءت > جو حافظ بہت تیز تلاوت کرے اس کے پیچھے نماز کیسی

جو حافظ بہت تیز تلاوت کرے اس کے پیچھے نماز کیسی

Published by Admin2 on 2012/7/15 (1081 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۴۵۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو حافظ نماز میں اس طرح قرآن مجید پڑھتا ہو کہ نہ تو صحیح اعراب کا دھیان رکھتا ہے اور نہ اوقاف لازمہ پر وقف کرتا ہے اور ماضی جمع متکلم کے صیغے ایسے ادا کرتا ہے کہ سامعین کو جمع مونث غائب کا شبہ ہوتا ہے اور اکثر جگہ حروف و کلمات بھی فروگذاشت ہوجاتے ہیں تو اس کے سُننے میں کچھ ثواب کی امید یا باکل نہیں اور نماز اس کے پیچھے درست ہے یا نہیں اور یہ عذر ترکِ جماعت کے لئے مقبول ہوگا یا نہیں یا دوسری مسجد میں جماعت کے لئے جانا ضروری ہے یا صرف فرض جماعت سے ادا کرے باقی نماز مکان پر پڑھے۔(بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)

الجواب

خطا فی الاعراب یعنی حرکت،سکون ، تشدید، تخفیف، قصر،مد کی غلطی میں علمائے متاخرین رحمہ اﷲ علیہم اجعیمن کا فتو ی تو یہ ہے کہ علی الاطلاق اس سے نماز نہیں جاتی۔

فی الدرالمختار وزلۃ القاری لو فی اعراب لا تفسد وان غیر المعنی بہ یفتی۔بزازیہ ۱؎دُرمختار میں ہے کہ قرأت کرنے والے کی غلطی اگر اعراب میں ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ اس سے معنی بدل جائے اسی پر فتوٰی ہےبزازیہ۔(ت)

 (۱؎دُر مختار        باب ما یفسد الصلوٰۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/ ۹۰)

ردالمحتار میں ہے:لا تفسد فی الکل وبہ یفتی ۔بزازیہ و خلاصہ ۱؎ان تمام صورتوں میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اسی پر فتوٰی ہے ۔بزازیہ و خلاصہ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار            باب ما یفسد الصلوٰۃ        مطبوعہ مصطفی البابی        ۱/ ۴۶۷)

اگرچہ علمائے متقدین و خود ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم درصورت فساد معنی فساد نماز مانتے ہیں اور یہی من حیث الدلیل اقوی ،اور اسی پر عمل احوط واحری ۔

فی شرح منیۃ الکبیر ھو الذی صححہ المحققون وفرعواعلیہ الفروع فاعمل بما تختار والاحتیاط اولی سیما فی امرالصلٰوۃ التی ھی اول مایحاسب العبد علیھا۔۲؎(ملخصا)شرح منیہ کبیر میں ہے کہ اسی کو محققین نے صحیح قرار دیا اور اسی فروع کو ذکر کیا پس تو اپنے مختار پر عمل کر اوراحتیاط بہر صورت ہر مقام پر بہتر ہے خصوصاً نماز میں، کیونکہ یہی وہ عمل ہے جس کے بارے میں بندے سے سب سے پہلے پوچھ ہوگی(ملخصا۔ت)

 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فوائد من زلۃ القاری       مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۴۹۳)

اور وقف و وصل کی غلطی کوئی چیزنہیں یہاں تک کہ اگر وقف لازم پر نہ ٹھہرا بُرا کیا مگر نمازنہ گئی۔

فی العالمگیریۃ ان وصل فی غیرموضع الوصل کما لولم یقف عند قولہ اصحب النار  بل وصل بقولہ الذین یحملون العرش لاتفسد لکنہ قبیح ھکذا فی الخلاصۃ ۳؎۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے اگر قاری نے وہاں وصل کیا جہاں وصل کا مقام نہ تھا جیسا کہ قاری نے وقف نہ کیا اﷲ تعالٰی کے ارشاد "اصحٰب النار"  پر بلکہ "الذین یحملون العرش" کے ساتھ ملا دیا تو نماز فاسد نہ ہو گی البتہ یہ عمل بُرا ہے۔خلاصہ میں اسی طرح ہے۔(ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ        الفصل الخامس فی زلۃ القاری    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۸۱)

حلیہ میں ہے:صرح غیر واحد منھم صاحب الذخیرۃ علی ان الفتوی علی عدم الفساد بکل حال لان فی مراعاۃ الوقف والوصل والابتداء ایقاع الناس فی الحرج خصوصاً فی حق العوام و الحرج مدفوع شرعاً ۱؎۔متعدد علماء جس میں صاحبِ ذخیرہ بھی ہے نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ ہر حال میں عدمِ فساد پر فتوٰی ہے کیونکہ وقف ، وصل اور ابتداء کی رعایت لازم کرنے سے لوگوں پر خصوصاً عوام پر تنگی لازم آئے گی اور شرعاً تنگی مرفوع ہے۔(ت)

 (۱؎ حِلیۃ)

یوں ہی ضمیر "نا" میں الف مسموع نہ ہونا مفسد نہیں۔لما صرح بہ القنیۃ ان من العرب یکتفی عن الالف بالفتحۃ و الیاء بالکسرۃ والواو بالضمۃ تقول اعْذُباﷲ مکان اعوذ باﷲ ، قلت وعلیہ یخرج ماصرح بہ فی الغنیۃ ان حذف الیاء من تعالی فی تعالی جد ربنا لاتفسداتفاقا۔۲؎

کیونکہ قنیہ میں تصریح ہے کہ بعض عرب الف کے عوض فتحہ ، یاء کے عوض کسرہ اور واؤ کے عوض ضمہ پر اکتفاء کرتے ہیں مستفاد ہے کہ اﷲ تعالٰی کے ارشاد تعالٰی جد ربنا میں تعالٰی کی یا حذف کرنے سے بالاتفاق نماز فاسد نہ ہوگی۔

 (۲؎ قنیہ            باب فی حذف الحرف والزیادۃ        مطبعہ  مشتہرہ بالمہا نندیۃ    ص۶۳)

اسی طرح حروف و کلمات کا فروگذاشت ہوجانا بھی دواماً موجبِ فساد نہیں ہوتا بلکہ اسی وقت کہ تغییر کا معنی کرلے

کما ھو ضابطۃ الائمۃ المتقد مین رحمھم اﷲ تعالٰی(جیسا کہ ائمہ متقدمین رحمہم اﷲ تعالٰی کا مسلّمہ ضابطہ ہے ۔

بالجملہ اگر حافظ مذکور سے وُہ خطائیں جو مفسد نماز ہیں واقع نہیں ہوتیں تو نماز اسکے پیچھے درست ،اور ترک جماعت کے لئے یہ عذر نا مسموع، اور اگر خطایائے مفسدہ صادر ہوتے ہیں تو بے شک وہ نماز نماز ہی نہیں۔نہ وہاں ثواب کی گنجائش بلکہ عیاذا باﷲ عکس کا خوف ہے ، نہ اہلِ محلّہ کو دوسری مسجد میں جانے کی حاجت کہ یہی مسجد جوان پر حق رکھتی ہے ہنوز محتاجِ نماز و جماعت ہے۔ نماز فاسد کا تو عدم وجودشرعاً یکساں ،پس اگر ممکن ہو تودوبارہ جماعت وہیں قائم کرے ورنہ آپ ہی مسجد میں تنہا پڑھ لے کہ حقِ مسجد ادا ہو،

کما افادہ فی الفتاوی الخانیۃ وفیھا ایضامؤذن بمسجد لایحضر مسجدہ احد قالوا یوذن ھو یقیم ویصلی وحدہ وذاک احب من ان یصلی فی مسجد اٰخر ۔۱؎جیسا کہ فتاوٰی خانیہ میں اس کا افادہ کیا اور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی ایسی مسجد کا موذن جہاں کوئی اور نمازی نہیں آتا تو موذن اذان دے ،تکبیر کہے اور تنہا نماز ادا کرے۔اور  یہ اس کے لئے دوسری مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔(ت)

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی المسجد        مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۳۲)

اور اگر یہ صورت ہو کہ حافظ مذکور فرضوں میں قرآن مجید صحیح پڑھتا ہے اور خطا یا ئے مفسد ہ صرف تراویح  میں بوجہ عجلت وبے احتیاطی واقع ہوتی ہیں  تو فرض میں اس کی اقتدا کرے تراویح میں بھی یہی حکم ہے ورنہ درصورت فسادفرضوں میں بھی اقتداء درست نہیں کما لا یخفی (جیسا کہ ظاہر ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article مقتدی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھ سکتا ہے؟ تیسری،چوتھی رکعت میںقرات جہرکرےتوسجدہ سہوہوگا Next article
Rating 2.84/5
Rating: 2.8/5 (270 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu