• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Qir'at/ Reciting / قراءت > غلط قرآن پڑھنے والے کو امام بنانا کیسا ہے؟

غلط قرآن پڑھنے والے کو امام بنانا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/16 (2370 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۴۵۶ :مسئولہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب دوم جمادی الاولی۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہین علمائےدین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جسے لوگوں نے مسجد جامع کا امام معین کیا جمعہ وجماعات میں گروہ مسلمین کی امامت کرتا ہے اور سورہ فاتحہ شریف میں بجائے الحمد والرحمن والرحیم کے الھمد والرہمن والرہیم بہ ہائے ہوز پڑھتا ہے، ایسے شخص کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں ؟ بینوا تو جروا۔

الجواب

اُسے امام بنانا ہرگز جائز نہیں اورنماز اس کے پیچھے نادرست ہے کہ اگر وہ شخص ح کے ادا پر بالفعل قادر ہے اور باوجود اس کے اپنی بے خیالی یا بے پروائی سے کلمات مذکورہ میں ھ پڑھتا ہے۔تو خود اس کی نماز فاسد وباطل ،اوروں کی اسکے پیچھے کیا ہوسکے،اور اگر بالفعل ح پر قادر نہیں اور سیکھنے پر جان لڑاکر کوشش نہ کی تو بھی خود اس کی نماز محض اکارت ، اور اس کے پیچھےہر شخص کی باطل، اور اگر ایک ناکافی زمانہ تک کوشش کر چکا پھر چھوڑ دی جب بھی خود اس کی نماز پڑھی بے پڑھی سب ایک سی ، اور اُس کے صدقے میں سب کی گئی اور برابر حد درجہ کی کوشش کئے جاتا ہے مگر کسی طرح ح نہیں لکلتی تو اُس کاحکم مثل اُمّی کے ہے کہ اگر کسی صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نماز مل سکے اور اقتداء نہ کرے بلکہ تنہا  پڑھے تو بھی اسکی نماز باطل ، پھر امام ہونا تو دوسرا درجہ ہے اور پر ظاہر ہے کہ اگر بالفرض عام جماعتوں میں کوئی درست خواں نہ ملے تو جمعہ میں تو قطعاً ہر طرح کے بندگان خدا موجود ہوتے ہیں پھر اس کا اُن کی اقتدا نہ کرنا اور آپ امام ہونا خود اس کی نماز کا مبطل ہوا ،اور جب اس کی گئی سب کی گئی۔

بہرحال ثابت ہوا کہ نہ اس شخص کی اپنی نماز ہوتی ہے نہ اسکے پیچھے کسی اور کی تو ایسے کو امام بنانا حرام ہے ، اور ان سب مسلمانوں کی نماز کا وبال اپنے سر لیتا ہے والعیاذ باﷲتعالٰی البتہ اگر ایسا ہو کہ تاحدادنٰی امید کہ یہ شخص ہمیشہ برابر رات دن تصحیح حرف میں کوششِ بلیغ کئے جائے اور باوصف بقائے امید واقعی محض طول مدّت سے گبھرا کر نہ چھوڑے اور واجب الحمد شریف کے سوا اوّل نماز سے آخر تک کوئی آیت یا سورۃ یا ذکر وغیرہ اصلاً ایسی چیز نام کو نہ پڑھے جس میں ح آتی اور اسے ھ پڑھنے سے نماز جاتی ہو بلکہ قرآن مجید کی دوسورتیں اختیار کرے جن میں ح نہیں جیسے سورہ کافرون وسورہ ناس اور ثناء اور تسبیحات رکوع و سجود و تشہد و درود وغیرہ کے کلمات میں جن میں ایسی ح آئی اُن کے مرادفاتْ مقاربات سے بدل لے مثلاً بجائے سبحٰنک اللھم وبحمدک اقدسک اللھم مثنیا علیک و علٰی ھذاالقیاس اور اسے کوئی شخص صحیح خواں ایسا نہ ملے جس کی اقتدا کرے اور جماعت بھرکے سب لوگ اسی طرح  ح کو ھ پڑھنے والے ہوں تو البتہ جب کوشش کرتا رہے گا اس کی بھی صحیح ہوگی اور اُن سب اس کے مانند وں کی بھی اسکے پیچھے صحیح ہوگی اور جس دن باوصف تنگ آکر کوشش چھوڑ ی یا صحیح القراءۃ  کی اقتداء ملتے ہو ئے تنہا پڑھی یا  امامت کی اُسی دن اس کی بھی باطل، اور اسکے پیچھے سب کی باطل ،اور جبکہ معلوم ہے کہ یہ شرائط متحقق نہیں توحکم وہی ہے کہ جمعہ و غیر جمعہ کسی میں نہ اس کی نماز درست نہ اسکے پیچھے کسی کی درست۔ یہ جو کچھ مذکور ہوا یہی صحیح ہے یہی راجح  ہے یہی مختار ہے یہی مفتی بہ ہے  اسی پر عمل اسی پر اعتماد۔ واﷲ الھادی الی سبیل الرشاد ۔

دُرمختار میں ہے:لا یصح اقتداء غیر الالثغ بہ و حرر الحلبی و ابن الشحنۃ انہ بعد بذل جھدہ دائما حتما کالامی فلو یؤم الامثلہ ولا تصح صلوتہ اذاامکنہ الاقتداء بمن یحسنہ او ترک جھدہ او وجد قدرالفرض مما لالثغ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ۱؎ اھ ملتقطاغیر تو تلے کی اقتداء توتلے کے پیچھے درست نہیں (الثغ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی زبان سے ایک حرف کی جگہ دوسرا نکلے)حلبی اورابن شحنہ نے لکھا ہے کہ ہمیشہ کی حتمی کوشش کے بعد توتلے کا حکم اُمّی کی طرح ہے پس وُہ اپنے ہم مثل کا امام بن سکتا ہے (یعنی اپنے جیسے توتلے کے سوا دوسرے کی امامت نہ کرے) جب اچھی درست ادائیگی والے کی اقتداء ممکن ہو یا اس نے محنت ترک کردی یا فرض کی مقدار بغیر توتلے پن کے پڑھ سکتا ہے ان صورتوں میں اسکی نماز درست نہ ہوگی توتلے کے متعلق یہی مختار اورصحیح حکم ہے اور اسی طرح اس شخص کا بھی یہی حکم ہےجو حروفِ تہجی میں سے کوئی حرف نہ بول سکے یعنی صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اھ ملخصاً۔

(۱؎ دُرمختار        باب الامامۃ            مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/ ۸۵)

فتاوٰی محقق علّامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمر تاشی میں ہے:الراجع المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ۲؎۔راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ توتلے کی امامت غیر کے لئے جائز نہیں۔

 (۲؎ ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی امام غزی مطلب فی الالثغ       مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۴۳۰)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article تیسری،چوتھی رکعت میںقرات جہرکرےتوسجدہ سہوہوگا ضاد کو ظاد پڑھنے کا حکم Next article
Rating 2.90/5
Rating: 2.9/5 (302 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu