• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Qir'at/ Reciting / قراءت > امام مغرب میں طویل قراءت کرے تو کیسا ہے؟

امام مغرب میں طویل قراءت کرے تو کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/16 (1057 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۴۸۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عادت ہمیشہ نمازِمغرب میں باقرأت ایک یا نصف رکوع یا سورہ والضحٰی یا الہٰکم یا والشمس حالتِ امامت میں پڑھنے کی ہے بعض مقتدی اس کو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس طریقہ کو ناپسند بوجہ طوالت ،ایسی صورت میں امام اپنی عادت کے موافق کرے یا مقتدیوں کی تابعداری اختیار کرے اور یہ سورتیں ایسے وقت میں کچھ زیادہ تو نہیں ،ایک روز نمازِمغرب میں زید نے ۱۶ پارہ کا ۳ رکوع "افحسب الذین کفروا"اور دوسری رکعت میں ۲۹ پارہ کا آخری رکوع "ان المتقین فی ظلٰل" پڑھا اس سے زیادہ پڑھنے پر مقتدی نہایت شاکی ہوئے ،اور ایک مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ امام گنہگار ہوتے ہیں اتنا بڑا رکوع پڑھنے سے ایسی صورت اور ایسے وقت میں نہیں چاہئے منع آیا ہے،پست ہمّت مقتدیوں کی شکایت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اورامام صاحب پر شرعاً کیا الزام اور گناہ ہے؟ سو آدمی کی جماعت میں دومقتدی علیل پیرانہ سالی کی وجہ سے زیادہ شکایت اور امام کو بُرا جانیں وہ بھی الزام دینے سے گناہگار ہیں یا نہیں؟

الجواب:  نمازِحضر یعنی غیر سفر میں ہمارے ائمہ سے تین روایتیں ہیں:

اوّل فجر و ظہر میں طوال مفصل سے دو سورتیں پوری پڑھے ہر رکعت میں ایک سورت اور عصر و عشاء میں اوساطِ مفصل سے دو سورتیں اور مغرب میں قصار مفصل سے۔مفصل قرآن کریم کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو سورہ حجرات سےاخیر تک ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تک طوال ،بروج سے لم یکن تک اوساط ،لم یکن سے ناس تک قصار

دوم فجر و ظہر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دونوں رکعت کی مجموع قرأت چالیس پچاس آیت ہے اور ایک روایت میں ساٹھ آیت سے سوَ تک ۔اور عصر وعشاء کی دونوں رکعت کا مجموعہ پندرہ بیس آیت ،اور مغرب میں مجموعہ دس آیتیں ۔

سوم کچھ مقرر نہ رکھے جہاں وقت و مقتدیان و امام کی حالت کا مقتضی ہو ویسا پڑھے، مثلاً نمازِفجر میں اگر وقت تنگ ہو یا مقتدیوں میں کوئی شخص بیمار ہے کہ بقدر سنّت پڑھنا اس پر گراں گزرے گا یا بوڑھا ضعیف ناتواں یا کسی ضرورت والا ہے کہ دیر لگانے میں اُس کاکام حرج ہوتا ہے اُسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوگا توجہاں تک تخفیف کی حاجت سمجھے تخفیف کرے، خودحضو اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نمازِ فجر میں ایک بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیال رحمت سے کہ اُس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طولِ قرأت سے اُدھر بچہ پھڑکے گا اِدھر ماں کا دل بیچین ہوگا صرف قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ بربّ الناس سے نماز پڑھا دی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ وبارک وسلم اجمعین، اور اگر دیکھے کہ وقت میں وسعت ہے اور نہ کوئی مقتدیوں میں بیمار نہ ویسا کامی تو بقدر سنّت قرأت ان روایات میں پہلی اور تیسری روایت مختار و معمول بہ ہےوانا اقول لاخلاف بینھما وانما الثالثۃ تقیید الاولی کما لا یخفی(میری رائے میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تعارض نہیں تیسری پہلی کو مقید کررہی ہے جیسا کہ واضح ہے۔ت) تو حاصل مذہب معتمدیہ قرار پایا کہ جب گنجائش بوجہ وقت خواہ بیماری وضعف وحاجت مقتدیان کم دیکھے تو قدرِ گنجائش پر عمل کرے ورنہ وہی طول واوساط وقصار کا حساب ملحوظ رکھے او رقلت گنجائش کے لئے زیادہ مقتدیوں کا ناتواں یا کام کا ضرورت مند ہونا درکار نہیں بلکہ صرف ایک کا ایسا ہونا کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نماز ہے اور خوب وسیع وقت ہے اور جماعت میں ۹۹۹ آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار یا ضعیف بوڑھا یا کسی کام کا ضرورت مند ہے کہ اس پرتطویل بار ہوگی اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کو حرام ہے کہ تطویل کرے بلکہ ہزار میں سے اس ایک کے لحاظ سے نماز پڑھائے جس طرح مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صرف اس عورت اور اسکے بچے کے خیال سے نمازِ فجر معوذتین سے پڑھا دی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، اور معاذ ابن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر تطویل میں سخت ناراضی فرمائی یہاں تک کہ رخسار ہ مبارک شدّتِ جلال سے سرخ ہوگئے اورفرمایا:

افتان انت یا معاذ افتان انت یامعاذ افتان انت یا معاذ؎۱ کما فی الصحاح وغیرھا وفی الھدایۃ مرفوعالقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من ام قوما فلیصل بھم صلٰوۃ اضعفھم فان فیھم المریض والکبیر و ذالحاجۃ۲؎۔کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ، کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے اے معاذ ! جیسا کہ صحاح وغیرہا میں ہے ہدایہ میں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جو شخص کسی قوم کا امام بنے وہ انھیں ان کے ضعیف کے اعتبار سے نماز پڑھائے کیونکہ ان میں مریض ،بوڑھے اور صاحب حاجت بھی ہوں گے(ت)

 (۱؎ صحیح بخاری        باب اذاطول الامام الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۹۸-۹۷، ۲/۹۰۲)

(۲؎ الہدایۃ        باب الامامۃ            مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/۱۰۱)

اس بیان سے واضح ہوا کہ اما م کا مغرب میں سورہ والشمس یا والضحٰی یااول میں افحسب الذین کفروا دوسری میں ان للمتقین یہ دونوں رکوع پڑھنا خلاف سنّت اور تینوں سے الگ ہوا کہ نہ یہ قصار مفصل سے ہے نہ دونوں رکعت میں صرف دس۱۰ آیت نہ یہی کہ مقتدیوں پر گراں نہ گزرا ایسی حالت میں مقتدیوں کی شکایت برمحل ہے اور امام پر ضرور لازم ہے ہاں الھٰکم التکاثرایک رکعت میں اور اس سے پہلی میں القارعۃ یا دوسری میں والعصرپڑھنامطابق سنّت ہے یہاں مقتدیوں کی شکایت حماقت ہے مگر اُس حال میں کہ کوئی بیمار یا بوڑھا ناتواں اس قدر کا تحمل نہ رکھتا ہو تو وہاں اس سے بھی تخفیف کا حکم ہے

فی فتح القدیر قد بحثنا ان التطویل ھو الزیادۃ علی القرأۃ المسنونۃ فانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عنہ وکانت قرأتہ ھی المسنونۃ فلا بد من کون مانھی عنہ غیر ماکان دابہ الالضرورۃ۱؎ اھ وباقی ماذکرنا من المسائل معرفۃ فی الدرالمختار وردالمحتار وغیرھما من الکتب المتداولۃ فلا حاجۃ بایراد العبارات۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔فتح القدیر میں ہے ہم نے اس پر بحث کی ہے کہ قرأۃمیں طوالت وہ زیادتی ہے جو قرأت مسنونہ پر ہو، کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسی ہی زیادتی سے منع فرمایا ہے اور آپ کی قرأت قرأۃ مسنونہ ہی تھی لہذا جس سے آپ نے روکا وہ اس مسنو نہ کے علاوہ ہوئی مگر ضرورت کے وقت اھ اور دیگر مسائل جو ہم نے ذکر کئے وہ درمختار ،ردالمحتار اور دیگر متداول کتب میں معروف ہیں اس لئے تمام عبارات کے تذکرے کی ضرورت نہیں (ت)


Navigate through the articles
Previous article نماز عربی کی بجائے اپنی زبان میں سمجھ کر پڑھیں تو؟ تجوید کے بارے میں مختلف سوالات Next article
Rating 2.90/5
Rating: 2.9/5 (275 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu